قیصر عباس صابرکالملکھاری

فلسفہ وحدت وائرس اور وبا کی وحدانیت: صدائے عدل/قیصرعباس صابر

میں صرف ایک کالم نگار ہوں جو موجودہ حالات کے مشاہدے اور تجربےسے نتائج تک کے سفر کو ایمانداری سے بیان کرتا ہوں،معاشی اور معاشرتی پہلو پر روشنی ڈالتا ہوں متعلقہ اداروں کی جاری کردہ تفصیلات پر تبصرہ کرسکتا ہوں۔میں اپنی مختصر چادر سے باہر پاؤں نکال کر ماہر امراض خون،جگر و معدہ،سانس و سرطان نہیں بن سکتا کہ مجھ پر اٹھنے والی انگلیاں اور مجھے سنائی دیتے قہقہے میری قوت مدافعت کم کرسکتے ہیں ۔
میں ہرگز ماہر عمرانی علوم بھی نہیں ہوں کہ کرونا کے بعد کی دنیا کا سیاسی نقشہ وقت سے پہلے ترتیب دے ڈالوں۔مجھ سے قسم لے لی جائے کہ میں دم درود پر بھی دسترس نہیں رکھتا کہ کوئی تسبیح تجویز کروں اور آپ کو کرونا سے نجات کا پروانہ تھما دوں۔میں ہرگز علم جغرافیہ کا پروفیسر نہیں کہ دنیا میں مستقبل کی حدود بندی کی لکیریں کھینچ ڈالوں۔میں علم فلکیات کی رو سے کرونا سے نجات کا وقت بھی نہیں بتا سکتا۔میں ستاروں کی چالوں اور ہاتھ کی دراڑوں سے بھی جان پہچان نہیں رکھتا کہ آپ پر وبا کے اثرات کے خاتمے کا درست وقت بتا دوں،علوم شماریات بھی میرے عقل سے باہر ہیں کہ اعداد کے ہیر پھیر سے میں میڈیا کی توجہ کا محور بن جاؤں۔
میڈیکل سائنس میرے لئے اجنبی ہے اس لئے وائرس سے بھی میرا دور کا کوئی رشتہ نہیں،خوردبین کا استعمال مجھے نہیں آتا اگر آتا توکرونا وائرس کے خدوخال اور زلف و رخسار پر لیکچر دینا میرے بس سے باہر نہ ہوتا۔ میں کالے علم سے بھی نا آشنا ہوں ورنہ جنتر منتر کے ذریعے کرونا کو بے بس کردیتا۔میں موکل بھی نہیں پالتا کہ ان سے کرونا کی نسل اور قوم کا کھوج لگاتا۔ہواؤں،بادلوں اور بارشوں پر مجھے اعتبار نہیں رہا کہ لگتا یوں ہے کہ وہ سب وائرس سے ہم مشورہ ہوکر کرونا کو درجہ حرارت کی سہولت کاری فراہم کررہے ہیں۔
کرونا سے مرنے والوں ، متاثر ہونے والوں اور منفی رزلٹ رکھنے والوں کی تعداد پر یکساں اتفاق دیکھ کر دال میں کچھ کالا ضرور لگتا ہے کہ الہامی کتب کی تفاسیر سے ا ذان کے وقت تک ایک نقطے پر متفق نہ ہونے والے کرونا کے اعداد و شمار پر اختلاف نہیں رکھتے۔کرونا کے عقیدے پر بھی بہتر فرقے نظر آتے تو وبا کی وحدانیت پر یقین آتا مگر مشرق سے مغرب تک،کالے سے گوروں تک،عربی سے عجمی تک،امیر سے غریب تک سب فلسفہ وحدت وائرس پر یقین کامل کئے ہوئے ہیں جو مجھے حیران کئے دیتا ہے کیونکہ میں صرف ایک کالم نگار ہوں اور دنیا کے یک نکاتی فلسفے پر شک کر کے جاہل اور بنیاد پرستی کا لقب نہیں لینا چاہتا۔
میں عالمی خفیہ اداروں کا جاسوس بھی نہیں ہوں کہ عالمی سازش کو وبا کا لبادہ پہنانے والوں کی نیت پر شک کروں اور عالمی طاقتوں کی باہمی راز داری کو بیچ چوراہے ننگا کردوں،میں جعلی درویش، نقلی بابا اور موٹیونشنل مقرر بھی نہیں کہ نوجوانوں کو گمراہ کروں۔میں وائرس کا ہم عصر بھی نہیں ہوں کہ اس کے شجرے سے اس کی نفسیات کا سراغ لگاؤں۔
میں صرف ایک کالم نگار ہوں جو حالات و واقعات کی روشنی میں تبصرہ کرسکتا ہے اور اگر کوئی مجھ جیسا اپنی چادر سے پاؤ ں نکالنے کی کوشش کرے تو اس ابن سقراط کو سنجیدہ نہ لیں کہ ابھی تک دنیا اس سارے کھیل پر صرف اندازے لگارہی ہے۔

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker