مصیبت کے وقت قومیں ایک دوسرے ممالک کا ساتھ دیتی ہیں اور ملک میں بھی عوام ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں برابر کے شریک ہوتی ہے، پوری دنیا کو رونا وائرس کی تباہ کاریوں کا شکار ہے ہمارے ملک میں کچھ ایسے خود غرض عناصر سرگرم ہیں جو اس مشکل وقت میں بھی ناجائز منافع خوری کے لیے ذخیرہ اندوزی سے باز نہیں آرہے ہیں اورمتعدددکانداروں نے اشیاءخوردونوش کے من مرضی کے ریٹ مقرر کیے ہوئے ہیں ۔
عالمی وباءکو روکنے کی خاطر کیے جانے والے لاک ڈاؤن کی وجہ سے تمام کاروبار زندگی ٹھپ ،معاشی پہیہ جام اور ڈالر مزید مہنگا ہونے کی وجہ سے ملک میں مہنگائی عروج پر ہے ،ایک سروے کے مطابق کریانہ سٹوروں اور عام بازاروں میں افراتفری اور غیر یقینی صورتحال کے سبب لوگ مہنگی اشیاءخریدنے پر مجبور ہیں دکانداروں نے اپنے من مرضی کے ریٹ بڑھا رکھے ہیں ،بڑی بڑی کمپنیوں کی مصنوعات پر مقرر ہ قیمتیں درج ہونے کے باوجود من مانی قیمت پر ان کی فروخت جاری ہے ناجائز منافع خور عوام کی جیبیں کاٹنے میں مصروف عمل ہیں ،حکومت کا فرض ہے کہ مصیبت کی اس گھڑی میں ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری کرنے والوں کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کرنے اور مصنوعی مہنگائی کے ذمہ داروں کو سرکاری ریٹ لسٹ کا پابند بنانے کے ساتھ اشیاءکی فراہمی کے لیے تھوک تاجروں کو بھی سرکاری نرخ ناموں کا پابند کرے ۔
میڈیکل سٹور مالکان بھی مریضوں کی جیب کاٹ رہے ہیں ادویات پرفکس ریٹ لکھا ہونے کے باوجودمیڈکل سٹور مالکان عوام سے زائد قیمت وصول کررہے ہیں محکمہ صحت کے ملازمین نے بھی چپ سادھ رکھی ہے اور میڈیکل سٹور مالکان کے خلاف کارر وائی سے گریزاں نظر آتے ہیں۔ اس مشکل گھڑی میں جب ایک طرف کورونا کا عذاب ہے تو دوسری جانب مصنوعی مہنگائی کا طوفان برپا کرنا درست نہیں ہے ،حکومت کو بے حس ناجائز منافع خوروں کے خلاف سخت اقدامات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے اس مشکل گھڑی میں ہمیں خود بھی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر دوسروں کے لیے آسانیاں فراہم کرنے کا ذریعہ بننا چاہیے ۔
پاکستان ایک غریب اور پسماندہ ملک ہے ،یہاں کورونا جیسی بلائیں غریب طبقات کے لیے کسی عذاب سے کم نہیں ،روزانہ اجرت پر کام کرنے والوں کی بڑی تعداد کے لیے کرفیو،لاک ڈاؤن جیسے اقدامات خودکشی کے مترادف ہیں ،ہماری اشرافیہ جو غریب عوام کو لوٹ کر ارب پتی کی مالک بن بیٹھی ہے اس کا کورونا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور نہ ہی لاک ڈاؤن جیسے اقدامات سے کوئی فرق پڑتا ہے ،اگر کوئی فرق پڑتا ہے تو غریب آدمی کو پڑتا ہے ،جس کے ایک طرف کورونا کے عذاب کا خوف طاری ہے تو دوسری جانب بڑھتی ہوئی مصنوعی مہنگائی کے طوفان نے گھیر رکھا ہے ،اوپر سے لاک ڈاؤن اقدامات سے عوام اس قدر ڈاؤن ہوگئے ہیں کہ کورونا کی بجائے بھوک کا شکار ہونے کے خطرات بڑھتے جارہے ہیں ،جبکہ دوسری جانب منافع خور تاجر طبقہ ناگہانی آفت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوام کو لوٹنے کی کوشش میں مصروف نظر آتا ہے ،آئے روز اشیاءخوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ کیا جارہا ہے ۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ معاشرے کو چور ،لٹیرے اور ڈاکوؤں نے نہیں بلکہ زیادہ تر ناجائز منافع خوروں نے بھی برباد کیا ہے جس سے عام آدمی ذلیل وخوار ہوکر رہ گیا ہے یہ کتنی عجیب بات ہے کہ ملک کی عوام کورونا کے عذاب میں مبتلا ہے کہ ناجائز منافع خور اپنی تجوریاں بھر رہے ہیں ایک عام ،مزدور اور کسان آج بھی وہیں کا وہیں ہے لیکن ناجائز منافع خور تاجر کچھ ہی عرصے میں ایک سے بڑھ کر ایک نیا گھر ،گاڑی اور بنگلے خریدنا شروع ہوجاتے ہیں یہ سب کچھ ہمارے لیے لمحہ فکریہ ہے ۔درحقیقت مصنوعی مہنگائی کی بڑی وجہ انتظامیہ کی ناقص کارکردگی رہی ہے ،گراں فروشوں کے خلاف حکومتی کاروائی مجسٹریٹوں کی طرف سے جرمانوں اور بعض گرفتاریوں تک محدود رہتی ہے ،حکومت کے دباؤ پر کچھ دنوں کے لیے چھاپہ مار مہم کا آغاز کیا جاتا ہے ،اس چھاپہ مار مہم کے دوران چند دن عارضی طور پر عوام کو سرکاری نرخوں پر اشیاءدستیاب ہونے لگتی ہیں اور پھر وہی پراناطریقہ یعنی کہ ناجائز منافع لینا شروع کردیتے ہیں ان لوگوں کو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے بلا شبہ وزیر اعظم عمران خان انہی خدشات کے پیش نظر لاک ڈاؤن کی پالیسی اختیار کرنے سے گریزاں نظر آتے رہے ہیں تاہم کورونا وبا کے پھیلاؤ کی وجہ سے مکمل لاک ڈاؤن کرنا پڑا اس کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا،لاک ڈاؤن کی وجہ سے پورے ملک میں افراتفری کا سماں ہے اکثر لوگ غریب کی وجہ سے رات کو بھوکے سوتے ہیں اس صورحال میں ہمیں ایک دوسرے کا خیال رکھنا چاہیے ۔
اسی ماہ یعنی اپریل کے آخر میں ما ہ رمضا ن المبارک شروع ہونے والا ہے جوکہ رحمتوں اور برکتوں والا مہینہ ہے اگر لاک ڈاؤں یہ لوگ معاشرے کے ناسور ہیں جو کہ مصیبت کی گھڑی میں بھی خوف خدا نہیں کرتے بلکہ ناجائز منافع لیتے ہیں انہیں ماہ رمضان کی برکت و اہمیت سے کیا سروکار ہے بیرون اسلامی ممالک میں مقدس ایام کا احترام کیا جاتا ہے اور ماہ رمضان سمیت ایام مقدسہ میں ناجائز منافع خوری نہیں کی جاتی بلکہ عوام کو ریلیف دیا جاتا ہے افسوس ہمارا بھی تو یہ اسلامی ملک ہے اس میں کوئی خاص تہوار ہو ،ماہ رمضان المبارک ہو یا کوئی اور اسلامی دن ہو اس دن عوام کی جیبیں کاٹی جاتی ہیں ہمیں مسلمان ہونے کے ناطے ناجائز منافع خوری سے باز رہنا چاہیے اور مصیبت کی اس گھڑی میں اپنے مسلمان بھائیوں سے زیادہ سے زیادہ تعاون کرنا چاہیے ۔
فیس بک کمینٹ

