عقیل عباس جعفریکالملکھاری

شیخ محمد عالم عرف ’ڈاکٹر لوٹا‘۔۔ پہلے سیاسی لوٹے کا تعلق سرگودھا سے تھا : عقیل عباس جعفری کی تحقیق

پاکستان میں جب بھی انتخابات کا موسم آتا ہے یا کسی حکومت کے خلاف کوئی تحریک پیش ہوتی ہے تو پاکستان کے سیاستدان وفاداریاں تبدیل کرنے کا ریکارڈ قائم کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے اور قلابازیاں کھانے والوں کے لیے ایک اصطلاح ’لوٹا‘ عام ہوچکی ہے۔ ہم نے جب ان سیاسی لوٹوں کی تاریخ کھنگالنی شروع کی تو اس نتیجے پر پہنچے کہ ہندوستان کی سیاسی تاریخ میں اس ’اعزاز‘ کے پہلے سزاوار کا نام ڈاکٹر شیخ محمد عالم تھا جن کی عرفیت لوٹا اتنی مشہور ہوئی کہ آج بھی تاریخ میں اُنھیں ڈاکٹر عالم لوٹا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر عالم لوٹا کون تھے؟ اُنھیں لوٹا کا خطاب کب، کس نے اور ان کی کن اداؤں کی وجہ سے دیا، یہ معلوم کرنے کے لیے ہم نے تاریخ کے اوراق کھنگالنے شروع کیے تو ان حوالوں کے جوابات کے علاوہ ان کے بارے میں اور بھی بہت سی ’مفید‘ معلومات حاصل ہوئیں۔
ڈاکٹر شیخ محمد عالم کا تعلق سرگودھا سے تھا۔ وہ 1887ء میں پیدا ہوئے۔ ان کے بارے میں سب سے تفصیلی معلومات چراغ حسن حسرت کی نادر و نایاب کتاب ’دو ڈاکٹر‘ میں ملتی ہے۔ حسرت ان کے بارے میں لکھتے ہیں:
’ڈاکٹر صاحب نے کچھ دنوں لاہور گورنمنٹ کالج میں بھی تعلیم پائی ہے لیکن بی اے اوکسفرڈ سے پاس کیا، بیرسٹری کی ڈگری لندن سے لی۔ چلتے چلتے ڈبلن سے ایل ایل ڈی ڈپلومہ بھی لے آئے اور لاہور آ کر مزے سے بیرسٹری کی پریکٹس شروع کر دی۔ جنگ سے پہلے کا زمانہ تھا اور ڈاکٹر صاحب کی اٹھتی جوانی اور جوانی چنانچہ افتدانی۔
’اگرچہ ان کی پریکٹس دنوں میں ہی چمک گئی لیکن لاہور کی آب و ہوا راس نہ آئی اور وہ جہلم اٹھ گئے۔ اور پھر وہاں سے اپنے شہر سرگودھا آ کر ڈیرے ڈال دیے۔ دنیا کے نزدیک سرگودھا کے ایک وکیل کی کیا حیثیت ہے؟ اس علاقہ سے باہر کتنے لوگ اسے جانتے ہیں۔ سرگودھا میں وکالت ہی کرنا تھا تو بیرسٹری کیوں پاس کی، اوکسفرڈ سے بی اے کی ڈگری کیوں لی؟ ایل ایل ڈی کا ڈپلومہ آخر کس کام آئے گا؟
’مجبوری کی اور بات ہے لیکن یہ تو نہیں ہوسکتا کہ اس گوشہ گمنامی میں ساری عمر گزار دی جائے، عمر گزارنا تو درکنار اس تصور سے خفقان ہونے لگتا ہے۔‘
حسرت مزید لکھتے ہیں کہ ’ڈاکٹر عالم کے ذہن میں خلافت، کانگریس، چرخہ، ستیہ گرہ اور اس قسم کے دوسرے مسائل تیزی سے گردش کر رہے تھے۔ مذہب سے اُنھیں چنداں شغف نہ تھا، مسلمانوں کی اجتماعی سرگرمیوں سے بھی وہ الگ تھلگ رہتے تھے۔
’یہ صحیح ہے کہ ان کے گھر کا ماحول کسی حد تک مذہبی تھا لیکن اوکسفرڈ اور لندن کے قیام نے اس برائے نام سی مذہبیت کو بھی بالکل دبا دیا تھا۔ بایں ہمہ خلافت کا مسئلہ اور چیز تھا اور وہ محسوس کر رہے تھے کہ اس دور میں جبکہ خلافت کا مسئلہ اور کانگریس کی تحریکوں کی باگ ڈور مشہور وکیلوں اور قانون دانوں کے ہاتھوں میں ہے ان کا ان تحریکوں سے علیحدہ رہنا کسی طرح مناسب نہیں۔‘
حسرت لکھتے ہیں ’ایک دن ڈاکٹر عالم بیٹھے اخبار پڑھ رہے تھے، دفعتاً اُنھیں خیال آیا کہ لوگ بڑے بڑے عہدے چھوڑ کے کانگریس اور خلافت کی تحریکوں میں شامل ہو رہے ہیں، میں بھی کیوں نہ پریکٹس ترک کر دوں۔ اُنھوں نے اسی وقت مولانا محمد علی کو خط لکھا، چند دن کے بعد جواب آیا کہ سیدھے علی گڑھ چلے آؤ۔
’سرگودھا کے سٹیشن پر دوست احباب کے علاوہ بہت سے کانگریسی اور خلافتی کارکن اُنھیں چھوڑنے آئے۔ ڈاکٹر صاحب شدھ کھدر کا لباس پہنے ہوئے تھے، گلے میں پھولوں کے ہار تھے جن کے بوجھ سے ان کی گردن خم ہوئی جارہی تھی۔ انجن نے سیٹی دی اور وہ گاڑی میں جا بیٹھے۔ سٹیشن بندے ماترم، اللہ اکبر اور زندہ باد کی صداؤں سے گونج اٹھا۔
’علی گڑھ میں مولانا محمد علی اور دوسرے لیڈر جامعہ ملیہ کے نام سے ایک یونیورسٹی قائم کر رہے تھے۔ اس نئی یونیورسٹی کے پاس نہ روپیہ تھا نہ اپنی عمارت، صرف اللہ کا نام تھا۔ پہلے خیموں میں تعلیم دی جاتی رہی، پھر گھاس پھوس کے چند جھونپڑے تعمیر کر لیے گئے۔ مسلم یونیورسٹی کے بہت سے طلبہ جو ترک موالات کی تحریک سے متاثر تھے، ادھر سے ٹوٹ کے جامعہ ملیہ میں شامل ہوگئے تھے باہر کے طلبہ بھی برابر چلے آرہے تھے۔
’ڈاکٹر صاحب کو اگرچہ ملک میں کوئی خاص شہرت حاصل نہیں تھی لیکن ان کے پاس ولایت کی ڈگریاں تو تھیں۔ پھر ان کی قربانی سے سب متاثر تھے کیونکہ وہ اچھی خاصی پریکٹس چھوڑ کر آئے تھے، اس لیے جب وہ علی گڑھ پہنچے تو اُنھیں نائب شیخ الجامعہ مقرر کر دیا گیا۔‘
حسرت نے لکھا ہے کہ ’ڈاکٹر عالم جب تک خلافت کی تحریک میں شامل نہیں ہوئے تھے، ولایتی سوٹ پہنتے تھے۔ داڑھی روز اس طرح گھٹتی تھی کہ کھونٹی تک باقی نہیں چھوڑتے تھے۔ لیکن جامعہ پہنچتے ہی ان کی وضع قطع بدل گئی۔ کھدر کا پاجامہ اور اس پر کھدر کی ایک عبا، سر پر کھدر کی ایک سرخ ٹوپی جس پر چاند تارا کڑھا ہوا۔
’اُنھیں اگریہ یقین ہوتا کہ وہ مستقل طور پر جامعہ کے پرنسپل رہیں گے تو وہ شاید وہیں پڑے رہتے لیکن اس کی بھی کوئی امید نہیں تھی۔ جامعہ کی پرنسپلی کے لیے جس قسم کی قابلیت اور استعداد کی ضرورت تھی وہ ان میں سرے سے نہیں تھی۔ یہ صحیح ہے کہ ان کے پاس بہت سی ڈگریاں بھی تھیں۔ شعر بھی کہہ لیتے تھے۔ تقریریں بھی کر لیتے تھے۔ قانون اچھی طرح جانتے تھے خصوصاً بین الاقوامی قانون میں سندالوقت سمجھے جاتے تھے۔ لیکن ادبیات سے اُنھیں کوئی خاص لگاؤ نہیں تھا۔
’درس و تدریس کے نئے طریقوں کے متعلق بھی ان کا علم بہت محدود تھا، نظم و نسق کی صلاحیت بھی بہت کم تھی اور جامعہ کے انداز کی درس گاہ چلانے کے لیے سب سے زیادہ اسی قسم کی چیزوں کی ضرورت تھی۔ پھر سب سے بڑی بات یہ تھی کہ اس کام میں کوئی خاص مالی نفع بھی نہیں تھا اس لیے تھوڑے عرصے میں ہی ڈاکٹر صاحب کو اس بات کا احساس ہو گیا کہ ان سے یہ کھکیڑیں نہیں اٹھ سکیں گی، چنانچہ وہ جامعہ سے مستعفی ہو کر لاہور چلے آئے اور یہاں آتے ہی پریکٹس شروع کر دی۔‘
’ڈاکٹر عالم سیاست کے افق پر طلوع تو ہو ہی چکے تھے اب اُنھوں نے اسمبلی کی رکنیت کے لیے ڈول ڈالنا شروع کیا۔ سنہ 1926ء میں پنجاب اسمبلی کے انتخابات منعقد ہوئے تو وہ خاکسار پارٹی کی طرف سے پنجاب بار کونسل کی رکنیت کے امیدوار ہوئے اُنھوں نے مغربی پنجاب میں راولپنڈی کے حلقہ سے انتخاب لڑا اور خان بہادر شیخ عبدالقادر کو شکست دے کر اسمبلی تک رسائی حاصل کرلی۔
’اس کامیابی سے ڈاکٹر عالم کے حوصلے مزید بلند ہوئے۔ اب اُنھوں نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیارکی۔ دسمبر 1928ء میں جب مسلم لیگ کے اجلاس دہلی اور کلکتہ دونوں جگہ بیک وقت منعقد ہوئے تو وہ کلکتہ کے اجلاس میں شریک ہوئے۔ اس موقع پر مسلم لیگ شفیع لیگ اور جناح لیگ نامی دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔
’ڈاکٹر عالم مسلم لیگ کے جناح لیگ کہلانے والے گروپ میں شامل ہوئے مگر جلد ہی ڈاکٹر عالم نے بانی پاکستان محمد علی جناح سے بھی اختلاف کی راہ ڈھونڈ نکالی۔ مارچ 1929ء میں قائد اعظم نے نہرو پورٹ پر غور کرنے کے لیے مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس دہلی میں طلب کیا۔
نور احمد اپنی کتاب مارشل لاء سے مارشل لاء تک میں لکھتے ہیں:
’حالات پر غور کرنے کے بعد مسٹر جناح نے فیصلہ کیا کہ سب سے پہلے مسلم لیگ کے دونوں دھڑوں کے درمیان اختلافات ختم کرنا اور مسلم لیگ کو پھر مسلم اتحاد کی ترجمان بنانا ضروری ہے۔ اس مقصد کو سامنے رکھ کر اُنھوں نے لیگ کا ملتوی شدہ اجلاس مارچ 1929ء کے آخر میں دہلی میں بلایا اور لیگ کے اجلاس سے پہلے ان لیڈروں کے ساتھ گفت و شنید کی جو آل پارٹیز مسلم کانفرنس کی قرارداد کی حمایت میں پیش پیش تھے۔
’اس گفت و شنید میں یہ فیصلہ ہو گیا کہ وہ صاحبان جنھوں نے لیگ سے علیحدہ ہو کر اپنے آپ کو سر محمد شفیع کے زیر صدارت ایک متوازی لیگ کی صورت میں منظم کر لیا تھا، وہ اس علیحدہ تنظیم کو ختم کر دیں اور متحدہ مسلم لیگ ان تمام مطالبات کو اپنا لے جو آل پارٹیز مسلم کانفرنس کی قراداد میں شامل کیے گئے تھے۔
’اس گفتگو میں جو حکیم اجمل خاں کے مکان پر ہو رہی تھی، کچھ دیر لگ گئی۔ ادھر مسلم لیگ کا کھلا اجلاس شروع ہونے کا وقت آگیا تھا۔ لیگ کے پنڈال میں لوگ جمع ہو چکے تھے اور کرسی صدارت مسٹر جناح کی منتظر تھی۔ کچھ نیم مسلم لیگی، نیم کانگریسی حضرات لیگ کے پنڈال میں یہ منصوبہ بنا کر آئے تھے کہ جلسے پر قبضہ کر کے اس سے نہرو رپورٹ کے حق میں قرار داد پاس کروا لیں۔
’مسٹر جناح کی تشریف آوری میں دیر ہوئی تو ان لوگوں نے آپس میں کانا پھوسی کی اور ایک شخص نے تجویز پیش کر دی کہ صدر جلسہ کی آمد تک ڈاکٹر محمد عالم کرسی صدارت سنبھال لیں اور کارروائی شروع کروا دیں۔
’یہ تجویز پیش ہوئی تو ایک طرف اس کی رسمی تائید ہوئی اور دوسری طرف پنڈال میں ’نہیں نہیں، ہرگز نہیں‘ کا شور بلند ہوا۔ اسی شور میں ڈاکٹر عالم نے کرسی صدارت پر قبضہ جما لیا اور کرسی پر بیٹھتے ہی غازی عبدالرحمٰن کو تقریر کی اجازت دے دی۔ غازی صاحب نے جیب سے ایک کاغذ نکالا اور سٹیج کی طرف بڑھے لیکن اور لوگ بھی سٹیج کی جانب بڑھ رہے تھے۔ غازی عبدالرحمٰن صاحب نے ایک منٹ کے اندر اپنی قرارداد پیش کر دی جس کا مطلب تھا کہ یہ جلسہ نہرو رپورٹ میں پیش کردہ اصولوں کی تائید کرتا ہے۔
’سٹیج پر اور اس کے گرد لوگوں کا ہجوم ہو گیا جو شور مچا رہا تھا۔ پنڈال میں دھکم پیل ہو رہی تھی، کرسیاں ٹوٹ رہی تھیں، مسٹر تصدق احمد خان شیروانی صرف اتنا کہہ سکے کہ میں اس تجویز کی تائید کرتا ہوں۔ کچھ لوگوں نے دھکے مار کر اُنھیں سٹیج سے نیچے گرا دیا۔
’کچھ لوگوں نے ڈاکٹر عالم کو پکڑ کر کرسی سے اٹھا لیا اور پنڈال سے باہر نکالنا چاہا جب اُنھیں ’پابہ دست دگرے، دست بہ دست دگرے‘ پنڈال سے باہر کشاں کشاں لے جایا جا رہا تھا تو وہ بلند آواز سے پکار رہے تھے ’قرار داد منظور ہو چلی ہے میں جلسے کو برخواست کرتا ہوں۔‘
’اتنے میں مسٹر جناح کی کار آئی راجہ غضنفر علی خان اور دو چار اور لوگوں نے جو ان کے انتظار میں باہر کھڑے تھے، آگے آ کر ان سے کہا آپ ابھی اندر نہ جائیں، پنڈال میں ہنگامہ برپا ہے اور مکے چل رہے ہیں۔ مسٹر جناح نے پرواہ نہ کی اور پنڈال کے اندر چلے گئے۔ اُنھیں دیکھتے ہی مسٹر جناح زندہ باد کا نعرہ بلند ہوا اور پنڈال میں سکون ہوگیا۔ آپ اطمینان کے ساتھ ڈائس پر پہنچے، جلسے سے خطاب کرتے ہوئے آپ نے ایک مختصر تقریر کی اور اگلے دن کے لیے جلسہ ملتوی کر دیا۔‘
’مسلم لیگ میں ڈاکٹر عالم کو منہ کی کھانی پڑی تو جولائی 1929ء میں اُنھوں نے آل انڈیا مسلم نیشنلسٹ پارٹی کی بنیاد ڈال دی۔ اس پارٹی کے صدر ڈاکٹر مختار احمد انصاری منتخب ہوئے۔ اس پارٹی کے بانیوں میں ڈاکٹر عالم کے ساتھ ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد، ڈاکٹر سیف الدین کچلو، چودھری خلیق الزماں اور تصدق احمد خان شیروانی جیسے اکابر شامل تھے۔
’تھوڑے ہی دنوں بعد ڈاکٹر عالم کی متلون مزاجی نے ایک کروٹ لی اب وہ کانگریس کی صفوں میں نظر آنے لگے۔ مارچ 1931ء میں جب کانگریس کا سالانہ اجلاس کراچی میں منعقد ہوا تو مہاتما گاندھی نے خواہش ظاہر کی کہ پنجاب کے کسی مسلمان کو کانگریس کی مجلس عاملہ میں شامل کیا جائے۔
’اُنھوں نے ابوالکلام آزاد سے درخواست کی کہ کسی موزوں آدمی کی سفارش کیجیے۔ مولانا نے مولوی عبدالقادر قصوری سے ذکر کیا اور مولوی عبدالقادر نے جھٹ اپنے دوست ڈاکٹر محمد عالم کا نام تجویز کر دیا۔ یوں ڈاکٹر عالم کانگریس کی مجلس عاملہ میں شامل کر دیے گئے۔‘
جواہر لال نہرو نے اپنی خود نوشت ’میری کہانی‘ میں لکھا ہے کہ ڈاکٹر عالم کی نامزدگی سے پنجاب میں کانگریس کو بہت نقصان پہنچا کیونکہ وہ رہنما جنھوں نے کانگریس سے علیحدہ ہو کر مجلس احرار بنائی تھی زیادہ تر نچلے درمیانے طبقہ سے تعلق رکھتے تھے اور ان کا عام مسلمانوں پر بڑا اثر تھا۔
چراغ حسن حسرت دو ڈاکٹر میں لکھتے ہیں:
’مگر ڈاکٹر عالم کو یہ عزت بھی راس نہ آئی۔ کچھ ہی دنوں بعد مولانا ظفر علی خان نے مجلس اتحاد ملت کی تنظیمِ نو کی تو اُنھوں نے ڈاکٹر عالم کو اس جماعت میں شمولیت کی دعوت دی اور ڈاکٹر عالم بغیر کچھ سوچے سمجھے فوراً اس جماعت میں بھی نہ صرف شامل ہوگئے بلکہ مجلس عاملہ کے رکن بھی بن گئے۔ 1936ء میں لاہور میں مسجد شہید گنج کا غلغلہ بلند ہوا تو ڈاکٹر عالم کو ایک مرتبہ پھر منظر عام پر آنے کا موقع مل گیا۔
’شام کو موچی دروازے کے باغ میں جلسہ تھا۔ ڈاکٹر عالم بھی پہنچے اور اس زناٹے کی تقریر کی کہ ڈاکٹر عالم زندہ باد کے نعروں سے سارا موچی دروازہ گونج اٹھا۔ چونکہ مسلمانوں کے اجتماع میں اس قسم کا نعرہ مدت سے نہیں لگایا گیا تھا اس لیے لوگ راستہ چلتے چلتے ٹھنک گئے۔ اکثر لوگ حیران ہو کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے کہ یہ کون ڈاکٹر عالم تقریر کر رہے ہیں؟
’اب تک تو خیر آئینی جدوجہد کے ذکر و اذکار تھے۔ سب یہی سمجھے بیٹھے تھے کہ بڑے زناٹے کا مقدمہ چلے گا اور کہیں برس چھ مہینے میں فیصلہ ہو گا۔ ڈاکٹر عالم بار بار کہتے تھے کہ مسلمانوں کے مطالبہ میں بڑا وزن ہے۔ خدا نے چاہا تو ہم مقدمہ جیتیں گے اور برسر عدالت مسجد لے کر رہیں گے۔
’ایک دن دفعتاً خبر ملی کہ رات کو مسجد گرا دی گئی۔ جس نے سنا سن ہو کے رہ گیا۔ اب پکڑ دھکڑ شروع ہوئی اور جو لوگ اس تحریک میں پیش پیش نظر آتے تھے تو اُنھیں گرفتار کر کے مختلف مقامات پر نظر بند کر دیا گیا۔ ڈاکٹر عالم اس موقع پر بھی صاف بچ گئے یعنی مسجد کے انہدام سے ایک دن پہلے وہ اپنی کوٹھی میں پڑے تھے اور بخار سے سارا جسم پھنک رہا تھا۔
’ڈاکٹر صاحب کا بخار اس وقت اترا جب ہر طرف امن و امان ہو گیا۔ پیر جماعت علی شاہ امیرِ ملت بن کے لاہور آئے اور شاہی مسجد میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اگر میں مسجد کے گنبد یا مینار پر چڑھ جاؤں تو پولیس مجھے کیسے پکڑے گی؟
’بعض لوگ نے کہا کیا نکتہ ارشاد فرمایا ہے۔ بعض لوگ کہنے لگے یہ عالم اسرار کی باتیں ہیں، اُنھیں اہل تصوف ہی سمجھ سکتے ہیں۔ اگرچہ حضرت امیر ملت کے عقیدت مند ہزاروں تھے لیکن بحمد اللہ کہ ڈاکٹر عالم ان کی عقیدت کے معاملے میں کسی سے پیچھے نہیں تھے۔
’پیر جماعت علی شاہ حج کو سدھارے اور واپس آ کے گوشہ نشین ہوگئے۔ مسٹر محمد علی جناح آئے تو نظر بندوں اور قیدیوں کو رہا کر دیا گیا۔ مجلس اتحاد ملت قائم ہوئی، مولانا ظفر علی خاں نے نیلی پوش تحریک شروع کی اور عالم تو عالم ملک لال خان تک نیلا کرتہ پہن کے نیلی خان بن گئے۔
’ساتھ ہی شہید گنج کا مقدمہ شروع ہوا۔ اگرچہ بہت سے دوسرے وکلا بھی اس مقدمہ کو ناموری کا ذریعہ بنانے کے لیے بے تاب تھے لیکن ڈاکٹر صاحب نے کسی کو پاس نہ پھٹکنے دیا اور تو اور ملک برکت علی بھی اس قضیے میں پھسڈی رہ گئے۔ غرض شہید گنج کی تحریک میں ڈاکٹر صاحب کا نام مولانا ظفر علی خان کے نام کے ساتھ لیا جاتا تھا اور اتحاد ملت کے جلسوں میں ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اس برات کے دولہا وہی ہیں۔
’ادھر مسٹر سیل کی عدالت میں شہید گنج کے مقدمہ کی سماعت شروع ہوئی ادھر ’انقلاب زندہ باد‘ کے ساتھ ساتھ ’انتخاب زندہ باد‘ کے نعرے بلند ہونے لگے۔ ڈاکٹر عالم کے دعوے تو بڑے بڑے تھے لیکن عدالت میں مقدمہ ہارے اور بہت بری طرح ہارے۔ دوپہر کو فیصلہ سنایا گیا، سہ پہر کو مولانا ظفر علی خان کے ہاں مختصر سا اجتماع ہوا جس میں چودھری افضل بھی موجود تھے۔
’مسئلہ زیر بحث یہ تھا کہ اب مسلمانوں کو کیا کرنا چاہیے۔ کچھ جوشیلے نوجوان کہہ رہے تھے کہ آج سے سول نافرمانی شروع کر دی جائے۔ مولانا ظفر علی خان بھی کچھ تذبذب سے معلوم ہوتے تھے۔
’لوگوں نے ڈاکٹر عالم کی رائے دریافت کی تو وہ کہنے لگے کہ ہائی کورٹ میں اپیل ہونی چاہیے۔ کسی نے پوچھا اور اگر ہم اپیل میں ہار گئے پھر کیا کریں گے۔ ڈاکٹر عالم صاحب کہنے لگے اسمبلی میں پہنچ کر مسجد کی واگزاری کا قانون بنوائیں گے۔
’ایک صاحب نے پوچھا کیوں ڈاکٹر صاحب آپ میں اتنی ہمت ہے کہ اسمبلی میں جا کر قانون بنوائیں، ڈاکٹر صاحب کے منہ میں سگریٹ تھا۔ دیا سلائی تلاش کر رہے تھے میں نے بڑھ کر دیا سلائی پیش کی۔ ڈاکٹر صاحب نے سگریٹ سلگایا اور کہنے لگے جب تک میں کانگریس کے ساتھ تھا آپ مجھے کافر کہتے تھے اب میں مسلمان ہو گیا ہوں جب بھی آپ کو میری باتوں کا یقین نہیں آتا۔‘
’شام کو شاہی مسجد میں جلسہ ہوا ڈاکٹر صاحب نے بڑے معرکے کی تقریر کی۔ یہاں بھی وہی اسمبلی کی ممبری ٹیپ کا بند تھی یعنی ڈاکٹر صاحب بار بار کہہ رہے تھے کہ آپ میرے ساتھ تقریباً 20 آدمی اسمبلی میں بھجوا دیجیے، پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے۔
’اگرچہ اسی دن مقدمہ کا فیصلہ سنایا گیا تھا اور دلوں پر ناکامی کا داغ تازہ تھا لیکن ڈاکٹر صاحب کی باتوں سے ٹوٹی ہوئی ہمتیں بندھ گئیں، سب پھیپھڑوں کی پوری قوت صرف کر کے چلا اٹھے، ڈاکٹر عالم زندہ باد۔
’ڈاکٹر عالم پہلے بھی دو مرتبہ راولپنڈی کے شہری حلقے سے امیدوار کھڑے ہوئے تھے۔ اس دفعہ کے انتخابات میں بھی اُنھوں نے یہی حلقہ پسند فرمایا۔ سید حبیب ان کے مدمقابل تھے اگرچہ دونوں اتحاد ملت میں شامل تھے اور مسجد کی واگزاری کے لیے پہلو بہ پہلو کام کرتے چلے آئے تھے۔ لیکن انتخابی جدوجہد شروع ہوئی تو ساری مجلس اتحاد ملت ڈاکٹر عالم کی پشت پر تھی اور سید حبیب ’یوسفِ بے کارواں‘ بنے ہوئے تھے۔
’ڈاکٹر صاحب اسمبلی میں پہنچے تو ان کے حامیوں کو یہ فکر ہوئی کہ کسی طرح اُنھیں وزارت مل جائے۔ غالباً سر سکندر حیات خان سے اشاروں کنایوں میں یہ ذکر بھی کیا گیا مگر اُنھوں نے بات ہنسی میں ٹال دی۔ اتحاد ملت والے تو اس خیال میں مگن تھے کہ اسمبلی میں کم از کم ہمارا ایک ممبر تو موجود ہے۔ اتنے میں خبر آئی کہ ڈاکٹر عالم کانگریس میں شامل ہو گئے اور یہ لوگ گھبرا کر ایک دوسرے کا منہ تکنے لگے۔
’ڈاکٹر صاحب سے جواب طلبی ہوئی۔ وہ الفاظ کی موجوں کو اچھالتے ہوئے بولے ’کانگریس میں ضرور شامل ہوا ہوں لیکن میرا انتخاب شہید گنج کے ٹکٹ پر ہوا ہے۔ اب کانگریس مجھے اپنا ممبر بناتی ہے تو اس کا مطلب ہے کہ کانگریس اس ٹکٹ کو تسلیم کرتی ہے جس ٹکٹ پر میں نے نشست حاصل کی ہے گویا کانگریس نے اصولاً شہید گنج کی بازیابی کا اصول مان لیا ہے۔ جہاں تک کانگریس کا تعلق ہے وہ ان شاء اللہ مسلمانوں کے مؤقف کی حمایت کرے گی۔ مسلم لیگ کے پٹنہ اجلاس میں سردار سکندر حیات شہید گنج پر مسلمانوں کا حق تسلیم کر چکے ہیں اب اسمبلی میں قرارداد پیش کرنا ان کی پارٹی کا فرض ہے۔ اکثریت ان کی وزارت کی حامی ہے۔
’ڈاکٹر عالم ابھی تک مسلم لیگ میں شامل نہیں ہوئے تھے۔ قائدِ اعظم نے ان سے کہا ’عالم! اسمبلی میں لیگ کی باقاعدہ پارلیمانی پارٹی بن چکی ہے۔ اس میں شامل ہو جاؤ اب تو تم قراردادِ پاکستان کی حمایت بھی کر چکے ہو۔‘
’ڈاکٹر صاحب نے جواباً عرض کی ’سوچ کر جواب دیا جا سکتا ہے۔‘ قائدِ اعظم نے چمک کر فرمایا ’عالم! کسی پارٹی میں آنے جانے کے لیے کیا تمہیں بھی سوچنے کی ضرورت ہے۔‘
شورش کاشمیری لکھتے ہیں کہ ’ڈاکٹر صاحب اس شدید طنز سے گھبرا گئے اور اپنا سا منہ لے کر لوٹ آئے۔ اور اس کے بعد ان کی مسلم لیگ میں شمولیت کی ہمت نہ پڑی۔
’سنہ 1945ء کے انتخابات میں اُنھوں نے ایک مرتبہ پھر خاکسار پارٹی کے ٹکٹ پر راولپنڈی کے حلقے سے انتخاب لڑنے کی ٹھانی۔ مگر اب حالات یکسر بدل چکے تھے ڈاکٹر صاحب کو یہ روز روز پارٹیاں بدلنا راس نہ آئیں اور ان کا نام ہی ڈاکٹر لوٹا پڑ گیا۔
شورش کاشمیری لکھتے ہیں کہ اس پھبتی کے خالق عطا حسین میر کاشمیری تھے۔ وہ ’زمیندار‘ میں ملازم تھے اور صوبائی محکمہ اطلاعات کی معرفت لاہور ریڈیو کے لیے پنجابی پروگرام کی خبریں تیار کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب نے کسی بات پر برافروختہ ہو کر اُنھیں ریڈیو سے نکلوا دیا۔
عطا نے زمیندار میں فوراً ڈاکٹر صاحب کے خلاف مضمون لکھا جس کا نام تھا ’ڈاکٹر لوٹا‘ اور یوں ڈاکٹر لوٹا ’آناً فافاً‘ زبان زد عام ہو گیا۔ ڈاکٹر عالم جہاں جاتے ان کا استقبال لوٹوں سے کیا جاتا، حتیٰ کہ پولنگ اسٹیشنوں پر بھی لوگوں نے لوٹے سجا دیے۔ لاہور میں مزنگ روڈ پر ڈاکٹر صاحب نے نئی کوٹھی بنائی، یار لوگوں نے اس پر بھی لوٹوں کو جھنڈیوں کی طرح سجا دیا۔
1945ء کے انتخابات میں ڈاکٹر صاحب کو مسلم لیگی امیدوار سر فیروز خاں نے شکست سے ہم کنار کیا۔ ڈاکٹر عالم کی رسوائی بھی ہوئی اور شکست بھی، وہ اس ذلت کو برداشت نہ کرسکے اور تھوڑے ہی دنوں بعد 9 مئی 1947ء کو اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔
روزنامہ انقلاب نے نہ صرف ان کے انتقال کی نمایاں خبر اور ایک تعزیتی نوٹ شائع کیا بلکہ سر خضر حیات خان ٹوانہ کا ایک تعزیتی بیان بھی اپنی اشاعت میں شامل کیا۔
سر خضر حیات ٹوانہ نے اپنے بیان میں لکھا ’مجھے ڈاکٹر شیخ محمد عالم بیرسٹر کے انتقال کی خبر سے سخت صدمہ ہوا ہے۔ مرحوم مدت سے بیمار تھے۔ آپ نے اس مفاد کی خاطر جسے وہ آزادی وطن کہتے رہے کئی مرتبہ سزائے قید بھگتی اور ان کی طویل علالت اسی قید و بند کا نتیجہ تھی۔
’اس کے بعد جب ملک فرقہ وار جھگڑوں میں مبتلا ہوا تو ڈاکٹر صاحب دل و جان سے فرقہ وار رفاقت کے لیے کام کرتے رہے۔ آپ آل انڈیا شہرت کے سیاسی لیڈر تھے۔ آپ پنجاب کونسل اور پنجاب اسمبلی کے قدیم ترین ارکان میں سے تھے۔ بدیہہ گوئی بذلہ سنجی کے جو شاہ کار آپ ان ایوانوں میں پیش کرتے رہے ان کی یاد ہمیشہ تازہ رہے گی۔
’آپ اس زمانے کے قابل ترین مقررین میں سے تھے اور اپنے عقیدے کو جرأت کے ساتھ پیش کر دینے کی وجہ سے مشہور تھے۔ جس چیز کو آپ نے صحیح اور مبنی پر انصاف سمجھا اس کے اظہار سے کوئی مصلحت آپ کو روک نہ سکی، غرضیکہ ’خدا بخشے بہت سی خوبیاں تھیں مرنے والے میں۔‘
’آج جبکہ اس قابلیت کے افراد کی دنیا کو سخت ضرورت ہے، افسوس کہ وہ ہم سے جدا ہوگیا ہے۔ میں خلوص دل سے مرحوم کے غم زدہ ورثا کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتا ہوں۔‘
(بشکریہ: بی بی سی اردو)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker