تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : کورونا کے خلاف جنگ اور بے تیغ سپاہی

پاکستان میں ایک دن میں کورونا کے ایک ہزار سے زیادہ مریض سامنے آئے ہیں۔ سندھ کے وزیر اعلیٰ مراد علی شاہ کے علاوہ وزیر اعظم کے مشیر برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے متنبہ کیا ہے کہ رمضان کے دوران کورونا خطرناک حد تک پھیل سکتا ہے۔ اس لئے لوگوں کو احتیاط کرنی چاہئے۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ رمضان المبارک کے آغاز میں ہی مساجد اور بازاروں میں جس طرح لوگ بڑی تعداد میں جمع ہوئے ہیں ، اس کی وجہ سے صورت حال بے قابو ہوسکتی ہے۔ مراد علی شاہ بدستور احتیاط کرنے اور حکومت کی عائد کردہ پابندیوں پر عمل کرنے کی اپیل کررہے ہیں۔
کورونا وائرس کے حوالے سے پاکستان میں روز اوّل سے سرکاری پالیسی بے یقینی کا شکار رہی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے فروری کے آخر میں کورونا کا پہلا مریض سامنے آنے کے بعد اس معاملہ میں غیرضروری تساہل کا مظاہرہ کیا۔ شروع میں اسے سندھ کا مسئلہ سمجھتے ہوئے نظر انداز کیا گیا پھر سندھ حکومت کے لاک ڈاؤن پر تنقید کرتے ہوئے پاکستان کے غریبوں کی زندگی اجیرن ہونے کا علم بلند کیا گیا۔ اگرچہ مارچ اور اپریل کے دوران باقی صوبوں میں بھی لاک ڈاؤن یا جزوی لاک ڈاؤن کیا گیا اور کاروبار زندگی کسی حد تک بند بھی ہوگیا لیکن جس سماجی دوری کے ذریعے کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کا مقصد حاصل کرنا مطلوب تھا، وہ کسی مرحلے پر حاصل نہیں ہوسکا۔ دنیا کے باقی سب ملکوں کی طرح پاکستان میں بھی کورونا وائرس اہم ترین چیلنج کی صورت میں سامنے آیا ہے لیکن حکومت کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے صورت حال دن بدن بگڑتی جارہی ہے اور حکومت کی طرف سے کوئی ٹھوس حکمت عملی سامنے نہیں آسکی۔
اب یہ بات واضح ہوچکی ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نہ تو کورونا وائرس کی سنگینی کو سمجھ سکی ہے اور نہ ہی اس کی طرف سے عوام کو ذہنی اور عملی طور سے تیار کرنے کے لئے اقدامات کئے گئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور کم پڑتی طبی سہولتوں کے باوجود گزشتہ ہفتہ کے دوران صدر مملکت نے علما سے ایک بیس نکاتی معاہدہ کیا جس کے تحت مساجد میں نماز باجماعت اور تراویح پڑھانے کی اجازت دی گئی۔ وزیر اعظم نے اس سے ایک روز بعد علما کے ایک وفد سے ملاقات کرتے ہوئے اس معاہدہ کی توثیق بھی کی اور یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس ملک کے عوام کو جانتے ہیں ۔ کوئی طاقت انہیں رمضان کے دوران مساجد میں جانے سے نہیں روک سکتی۔ اسی دوران کراچی کے سینئر ڈاکٹروں کی طرف سے وزیر اعظم اور علما کو لکھے گئے ایک خط میں درمندی سے اپیل کی گئی تھی کہ مساجد میں نمازوں کا اہتمام کرنے سے باز رہا جائے کیوں کہ اس طرح کورونا وائرس تیزی سے پھیلنے کا اندیشہ ہے ۔ اس صورت میں ملک کا ناقص اور کمزور نظام صحت مریضوں کو سنبھالنے اور ان کا علاج کرنے کے قابل نہیں رہے گا۔ یہ صورت بھی پیش آسکتی ہے کہ لوگوں کاسڑکوں پر علاج کرنا پڑے اور ڈاکٹروں کو یہ فیصلہ کرنا پڑے کہ کس مریض کو بچایا جائے اور کسے مرنے دیا جائے۔
اس طبی اور ماہرانہ رائے کو تحریک انصاف کی قیادت نے سندھ حکومت کی سیاست قرار دیتے ہوئے یہ تاثر قائم کرنے کی کوشش کی کہ خط لکھنے والے ڈاکٹر دراصل سندھ حکومت کی سیاسی حمایت کی کوشش کررہے ہیں۔ تحریک انصاف کے لئے کوئی ایسی آواز قابل قبول نہیں ہے جو اس کی کمزور پالیسیوں اور سیاسی غلطیوں کی نشاندہی کرسکے۔ یہ پارٹی اور اس کی حکومت اپنی اصلاح کی بجائے طبقاتی تقسیم کے نعرے اور معاشی مشکلات کا حوالہ دیتے ہوئے کورونا کی روک تھام کے کسی ٹھوس منصوبہ پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ کراچی کے بعد لاہور میں پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے ایک پریس کانفرنس میں وہی باتیں دہرائیں جن کا حوالہ کراچی کے ڈاکٹروں نے دیا تھا اور رمضان میں مساجد میں اجتماعات کو کورونا کے پھیلاؤ کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیا تھا۔
ملک بھر کے ڈاکٹر یا تو حکومت سے کورونا وائرس کو سنجیدگی سے لینے اور فوری اقدامات کی اپیل کررہے ہیں یا پھر وہ حفاظتی کٹ اور ضروری ساز و سامان کے لئے مظاہرے کرنے پر مجبور ہوچکے ہیں۔ اس ماہ کے شروع میں بلوچستان کے ڈاکٹروں نے ناکافی ساز و سامان کی شکایت کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ کے دفتر تک احتجاجی مظاہرہ کرنے کی کوشش کی لیکن پولیس نے دفعہ 144 کی آڑ میں ڈاکٹروں پر لاٹھی چارج کیا اور پچاس سے زیادہ ڈاکٹروں کو گرفتار کرلیا گیا۔ اس احتجاج کے بعد آرمی چیف کی خصوصی ہدایت پر بلوچستان کے ہسپتالوں کے لئے حفاظتی سامان بھجوایا گیا۔ وزیر اعظم عمران خان نے اس موقع پر بھی کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا بلکہ ایک روز بعد جب وہ کوئٹہ کے دورے پر گئے تو انہوں نے ڈاکٹروں سے ملنے اور ان کے ساتھ اظہار یک جہتی کرنے کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی۔ اب لاہور میں نوجوان ڈاکٹروں اور دیگر طبی عملہ کی طرف سے روزانہ کی بنیاد پر احتجاج کیا جاتا ہے اور بھوک ہڑتال کا آغاز کیا گیا ہے۔
ہسپتالوں میں حفاظتی انتظامات کی ابتر صورت حال پورے معاشرے کے لئے شدید پریشانی کا سبب ہونی چاہئے۔ کیوں کہ کورونا وائرس سے نمٹنے کی جد و جہد میں اگر ہسپتال ہی محفوظ نہیں ہوں گے اور طبی عملہ کو ہی ضروری حفاظتی سامان میسر نہیں ہوگا، تو اس وبا کی روک تھام کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوسکتی۔ بدقسمتی سے گزشتہ روز لاہور ہائی کورٹ نے ڈاکٹروں کے ایک گروپ کی طرف سے حفاظتی ساز و سامان فراہم کرنے کی درخواست یہ کہتے ہوئے مسترد کردی کہ اس کا مقصد سیاسی ہے اور ڈاکٹروں کو اپنے مطالبات کے لئے عدالتوں سے نہیں بلکہ وزارت صحت سے رجوع کرنا چاہئے۔ اسی پر بس نہیں فاضل ججوں نے درخواست دائر کرنے والے ڈاکٹروں کو مقدمہ کے اخراجات ادا کرنے کا حکم بھی دیا۔ اس طرح ڈاکٹروں کے لئے انصاف کا دروازہ بند کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
دنیا کا ہر ملک اس وقت اپنے طبی عملہ اور کورونا کے خلاف جنگ میں برسرپیکار ڈاکٹروں اور نرسز کو سر آنکھوں پر بٹھا رہا ہے۔ امریکہ میں ہوٹلوں نے طبی عملہ کو مفت رہائش دینے کا اعلان کیا ہے۔ مختلف کمپنیاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹروں کو مفت اشیا فراہم کررہی ہیں۔ سپین میں پاکستانی ٹیکسی ڈرائیوروں نے طبی عملہ کو گھر سے ہسپتال لے جانے کی مفت سروس فراہم کی تھی ۔ اس جذبہ خیر سگالی کا ملک بھر میں خیر مقدم کیا گیا تھا۔ اسی طرح کھانے پینے کی اشیا فراہم کرنے والی درجنوں کمپنیاں ڈاکٹروں اور دوسرے میڈیکل اسٹاف کی حوصلہ افزائی کے لئے مفت کھانے کی پیش کش کررہی ہیں۔ اس کے برعکس پاکستان میں ڈاکٹروں کو عدالتوں سے دھتکارا جارہا ہے، جیلوں میں بند کیا جارہا ہے یا انہیں بھوک ہڑتال کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔
کورونا کے خلاف جنگ میں ڈاکٹر اور طبی اسٹاف محاذ میں سب سے آگے ہیں۔ ان کی مدد اور خدمات کے بغیر نہ تشخیص ہوسکتی ہے ، نہ علاج کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مریضوں کی دیکھ بھال ہوسکتی ہے۔ انہیں یوں بھی غیر معمولی حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ ان کا مسلسل کورونا وائرس کا شکار مریضوں سے رابطہ ہوتا ہے۔ ایسی وبا کا سامنا کرتے ہوئے ضروری ساز و سامان فراہم کرنے کے نام پر اگر عدالتیں ڈاکٹروں کو یہ ہدایت کریں گی کہ قوم نے ان پر کثیر سرمایہ صرف کیا ہے اب وہ قوم کی خدمت کریں تو ڈاکٹروں میں مریضو ں کی دیکھ بھال کا جذبہ یا حوصلہ کیسے پیدا ہوگا؟ اس کے باوجود پاکستانی ڈاکٹر قابل صد تحسین ہیں کہ ان سنگین حالات ، سیاسی قیادت کے عدم تعاون اور عدالتوں سے داد رسی نہ ہونے کے باوجود وہ کورونا کے خلاف پوری بہادری اور تندہی سے کوشش کررہے ہیں۔
ملک میں اگر کورونا وبا کو سنجیدگی سے لیا جاتا تو اس وقت ڈاکٹروں اور طبی عملہ کو وہی اعزاز اور مرتبہ دیا جاتا جو جنگ کے دوران محاذ پر لڑنے والے فوجیوں کو دیا جاتا ہے۔ کیا کبھی کسی جنگ کے دوران فوجیوں کو اسلحہ فراہم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اور بارود کے بغیر لڑنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اگر کورونا کا سدباب کرنا بھی ایک قومی جنگ ہی کا حصہ ہے جس میں ڈاکٹر اپنی زندگی داؤ پر لگا کر دوسروں کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کی خدمات کو اسی طرح خراج تحسین پیش نہ کرنا ناقابل فہم ہے۔ کورونا کے خلاف جنگ میں درجنوں ڈاکٹر جاں بحق ہوچکے ہیں۔ گزشتہ روز پشاور کے ایک پروفیسر اس وبا کی وجہ سے چل بسے۔ اس وبا کا وار اس قدر کاری ہے کہ کراچی کے عباسی شہید ہسپتال کا ایمرجنسی وارڈ وبا پھیلنے کی وجہ سے بند کیا جاچکا ہے۔ اب لاہور کے امراض قلب کے ہسپتال سے بھی اطلاع آئی ہے کہ وہاں عملہ کے درجنوں افراد کو قرنطینہ میں بھیجا گیا ہے۔ اس وبا کے بارے پاکستان میں اختیار کی گئی لا پرواہی مجرمانہ فعل ہے اور بدقسمتی سے اس کی سرکردگی وزیر اعظم ہاؤس سے ہورہی ہے۔
دو روز پہلے وزیر اعظم ہاؤس میں منعقد ایک تقریب میں عالمی شہرت یافتہ مبلغ مولانا طارق جمیل نے جھوٹ اور بے حیائی کو اس وبا کی وجہ قرار دیا۔ اس سے اگلے ہی روز وزیر اعظم عمران خان نے ایک گفتگو میں ان خیالات کی توثیق کی۔ یہ وہی طرز عمل ہے جس کا مظاہرہ امریکہ سے لے کر بھارت تک کی قیادت کررہی ہے۔ امریکی صدر نے عالمی ادارہ صحت اور چین کو وبا کا موجب قرار دینے کے بعد اب مشورہ دیا ہے کہ بکٹیریا مارنے والی دواؤں کو انسانی جسم میں داخل کرکے کوروناکو مار دیا جائے۔ فلپائن کے صدر روڈریگو ڈیوٹرٹو نے لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے والے کو موقع پر گولی ماردینے کی دھمکی دی ہے اور بھارت کے وزیر اعظم مودی اور ان کے حامی مسلمانوں کو کورونا پھیلانے کا سبب قرار دے کر اصل مسئلہ سے نظریں چرانے کی کوشش کررہے ہیں۔
پاکستان میں وزیر اعظم عمران خان غریب کی کفالت اور وبا کو آسمانی آفت یا بداخلاقی کا شاخسانہ قرار دے کر اسی مقبولیت پسند سیاسی رویہ کا مظاہرہ کررہے ہیں جو ان جیسے دیگر مقبول لیڈروں نے اختیار کیا ہے۔ بدقسمتی سے کورونا ایک طبی و سائنسی مسئلہ ہے۔ جب تک اس بچاؤ کے لئے سائنسی طریقے اختیار نہیں کئے جائیں گے اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنا ممکن نہیں ہوگا۔

( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker