تجزیےڈاکٹرعفان قیصرلکھاری

کورونا وائرس کے بعد کی دنیا اور ماضی۔۔گونج/ڈاکٹر عفان قیصر

کورونا وائرس کے دن قرنطینہ میں شدید وحشت ، خوف اور ڈیپریشن سے بھرے ہیں۔ میری زندگی میں تو شاید ارد گرد اتنا کچھ ہے کہ کبھی کبھی لگتا ہے کہ زندگی ہی کورونا کی وباء جیسی تھی اور اب یہ سب؟
ایسی کیفیت کا شکار بہت لوگ ہیں۔ ایسے جیسے پہلے ہی پورا وجود کسی سختی میں ہو اور پھر یہ سب اور مشکل ہوجائے۔ 1918ءمیں جب سپینش فلو آیا تو امریکہ سے پھیلا، مگر امریکہ جنگ مزید چاہتا تھا، سٹینٹ کینساس کے جس فوجی کیمپ ’ کیمپ فنسٹن ‘ میں پہلے فوجی میں یہ وائرس پازیٹیو آیا ،اگر امریکہ اس کیمپ کو بند کردیتا تو وائرس پوری دنیا میں نہ پھیلتا اور نہ ہی پانچ کروڑ افراد کی جان لیتا۔ مگر امریکہ نے یہاں سے فوجی پوری دنیا میں نکال دیے،یہ وائرس فرانس میں پھیلا اور پھر اس نے بدترین تباہی مچائی۔صرف سپینش فلو سے مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد675,000 تھی، جب کہ جنگ ِ عظیم اول میں 116,516 فوجی مرے اور بیسویں صدی میں مرنے والے امریکی فوجیوں کی کل تعداد 619,000 تھی۔ یہاں سے اندازہ لگایا جاسکتا کہ وبائیں کیسی خطرناک ہوتیں ہیں اور یہ پھیل جائیں تو کیا قیامت نازل ہوسکتی ہے۔
امریکہ نے اس وباءکے پھیلنے کا الزام جرمنی پر لگایا، اس وقت بھی یہی کہا گیا کہ یہ وائرس جرمنی میں تیار ہوا اور یہ بطور جنگی ہتھیار جرمنی استعمال کررہا ہے۔یہ ایک متنازع تھیوری تھی اور مقصد سیاسی تھے اور مر انسان رہے تھے۔ مجھے ذاتی طور پر تاریخ پڑھ کر لگتا تھا کہ امریکہ کبھی سپینش فلو والی غلطی نہیں دہرائے گا، مگر یہ سب کورونا وائرس کی موجودہ وبا ءنے غلط ثابت کرد یا، امریکی صدر SARS COV 2 کو ’ چینی وائرس ‘ کہہ کر ماضی کی غلطی دہراتے رہے، جبکہ اس وائرس نے چین سے نکل کر سب سے زیادہ تباہی اٹلی کے بعد امریکہ میں ہی مچائی ہے۔اسی طرح چین بھی اس کے پھیلاؤ کا الزام کسی طور امریکی فوجیوں پر لگاتا رہا اور کبھی بائیولوجیکل وار فئیر کی تھیوریاں آتی رہیں اور کبھی اس کو انسانی وائرس قرار دیا جاتا رہا۔
یہ وائرس کسی بھی ایٹم بم، ہائیڈروجن بم یا جنگی طیارے سے زیادہ خطرناک ہے ،اگر یہ کسی انسان کی پیداوار ہے تو سب سے پہلے یہ خود اس انسان کی جان لے گا،لہذا میری ذاتی رائے میں یہ تھیوریاں ،الزامات ،سب غلط ہیں، مگر افسوس یہ ہے کہ ہم نے ان سے بطور بنی نوع انسان سیکھا کچھ نہیں۔ نہ 1346ءکا بدترین طاعون ہمیں کچھ سکھا سکا، کہ جس نے ایک چوتھائی دنیا ہی ختم کردی تھی، نہ ہی سپینش فلو کچھ سکھا سکا اور نہ اب کورونا وائرس سے ہم کچھ سیکھنے کو تیار ہیں۔ ایک وحشت ہے جو ہمیں کھا رہی ہے اور ہم زندگی کی اصل سے بہت دور ہیں۔ میں شدید ڈیپریشن میں تھا، احتیاطی تدابیر کے ساتھ ملتان سے گاڑی نکالی اور اپنے میڈیکل کالج کے عزیز ترین اساتذہ کی راہ لی۔ منزل بہاولپور تھی۔
سب سے پہلے پروفیسر آف میڈیسن پروفیسر ڈاکٹر منیر اظہر صاحب کے گھر پہنچا،ناشتہ کیا اور پھر ان کا انٹرویو کیا کہ عوام کو آگاہی مل سکے۔ پروفیسر منیر اظہر بہترین شاعر اور ادیب بھی ہیں اور یوں وہ میرے میڈیسن کے ساتھ ادب کے بھی استاد ہیں۔ان سے وائرس کے بارے میں آگاہی انٹرویو کرنے لگا۔پروفیسر ڈاکٹر منیر اظہر کورونا وائرس کو لے کر پاکستان کے حوالے سے بہت مثبت نظر آئے۔ان کی نظر میں بہت سی وجوہات ایسی تھیں جن کی وجہ سے کورونا وائرس پاکستان میں پھیل تو سکتا ہے،مگر اس سے اموات بہت کم ہوں گی۔ان کا کہنا تھا کہ کیونکہ پاکستان ایسا ملک ہے جہاں پہلے ہی ملیریا زیادہ ہے اور ملیریا کے خلاف استعمال ہونے والی ادویات اس کے علاج میں استعمال ہونے کے ساتھ ساتھ کورونا وائرس کے خلاف بھی موثر ہیں تو ہم میں پہلے ہی کورونا وائرس کے خلاف قوت مدافیت موجود ہے،دوسرا یہ کہ جدید تحقیق میں ٹی بی سے بچنے کے لیے بی سی جی نام کی جو ویکسین استعمال ہوتی ہے ،وہ بھی کورونا وائرس سے بچاؤمیں موثر ہے اور یہ بھی ہمیں کورونا وائرس سے بچانے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
پروفیسر منیر اظہر صاحب اس تھیوری کے خلاف نظر آئے کہ درجہ حرارت اس وائرس کو مار دے گا۔جبکہ ان کا کہنا تھا کہ ایسا ممکن نہیں البتہ گرمی میں انفیکشن کی شدت میں ضرور کمی آسکتی ہے۔ کمی کی وجہ یہ ہے کہ گرمی میں لوگ زیادہ صفائی کا خیال رکھتے، زیادہ پانی استعمال کیا جاتا،زیادہ نہایا جاتا ،چنانچہ انفیکشن کے کیس کم ہو جائیں گے۔وہ چاہتے تھے کہ کورونا وائرس کے خلاف عوامی رویوں میں تبدیلی آئے اور سرکار بھی اس پر جنگی بنیادوں پر کام کرے تو جلد کورونا وائرس سے ہم نجات پالیں گے۔ یہ ان کی زندگی میں پہلا ایسا واقعہ ہے کہ جس نے دنیا ہلا دی ہے اور یقینا وہ اس کی تباہی سے پریشان مگر پر امید نظر آئے۔اس کے بعد میں اپنے استاد اور والدین کے کلاس فیلو پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کے ہسپتال پہنچا۔پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کا شمار پاکستان کے ٹاپ ٹین موٹیویشنل سپیکرز میں ہوتا ہے۔ قائد ِ اعظم میڈیکل کالج بہاولپور کے سابق پرنسل ہیں اور درس و تدریس کے لیے پرنسپل شپ ہی میں جلد ریٹائیرمنٹ لے لی۔ یہ مجھے اپنا بھانجا اور بھتیجا دونوں کہتے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال جس مائنڈ سیٹ کے ری سیٹ پر کام کررہے اس کی نوعیت بہت ہی زیادہ مختلف ہے۔ سر کا نظریہ یہ ہے کہ اگر بنی نوع انسان کی سوچ بدل دی جائے ،تو پورا معاشرہ بدلا جاسکتا ہے۔ان کا انٹرویو شروع کیا تو ان کا ایک ایک لفظ اسی نظریہ کے گرد گھومتا رہا کہ ہمیں کورونا وائرس کی اس وبا ءسے کچھ سیکھنا ہے۔ ہمیں اس کو مثبت لینا ہے۔ صفائی کا حکم آج کورونا سے بچنے کے لیے نہیں ہے یہ چودہ سو سال پرانا حکم ہے۔ اسی طرح ہمیں معاشرتی ڈسپلن اور انسان مدد پالیسی پر بھی عمل کرنا اسی کورونا سے ہی سیکھنا ہے، کہ کس طرح اگر انسانوں پر مشکل آجائے تو اس سے مل کر نکلا جاسکتا ہے۔ اس میں دنیا کے لیے بھی سبق ہے کہ انسان کی اصل جیت ہتھیار نہیں ،ہیلتھ ریسورس ہے،آپ کے ہسپتال مضبوط تو آپ بطور قوم مضبوط۔ ساتھ ہی پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے تمام ڈاکٹرز،نرسز کے ساتھ ساتھ پولیس اور فوج کے جوانوں کو بھی زبردست خراجِ تحسین پیش کیا کہ وہ کس طرح اس کورونا کے خلاف جنگ میں صفِ اول کی فوج کا کردار ادا کررہے ہیں اور انہی کی وجہ سے جیت رہے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر منیر اظہر کی طرح پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال بھی کورونا وائرس کی وباءکے معاملے میں کافی پرسکون نظر آئے،انہیں یقین تھا کہ پاکستان میں یہ زیادہ نقصان نہیں پہنچائے گی اور ہم جلد اس تمام صورتحال سے نکل آئیں گے،مگر اس سب سے ہمیں کچھ سیکھ کر نکلنا ہے۔ نہ ہی سپینش فلو والی تاریخ دہرائی جائے اور نہ ہی جنگ عظیم والی،ہمیں طاقت ور انسانوں پر مشتمل ایک باشعور ،باکردار دنیا میں تبدیل ہونا ہوگا اور یہ سب صرف سوچ کی تبدیلی کرسکتی ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر جاوید اقبال نے آخر میں جو ریلیف پیکج کے استعمال کا آئیڈیا دیا ،وہ بے حد کمال تھا۔ان کا کہنا تھا کہ سرکار غرباءکی امداد ضرور کرے ،مگر یہ سب بھیک کی صورت میں گھر بیٹھے نہ ہو۔ اس سے چھوٹے چھوٹے کام لیے جائیں، کو ئی سرکاری عمارت پینٹ کروائی جائے،کہیں درخت لگوائے جائیں۔ جو جو ہنر جس بھی ضرور مند میں موجود ہے ،اسے استعمال میں لایا جائے اور پھر پیسے دیے جائیں،اس سے آپ کو ہنر مند لوگ مل جائیں گے،ان کی ڈیٹا بیس تیار ہوجائے گی،ساتھ کسی کی عزت نفس بھی مجروح نہیں ہوگی۔ بہالپور سے واپسی پر میرے پاس زندگی کے سبق تھے،کورونا وائرس سے جہاں پاکستان میں زیادہ نقصان نہ ہونے کی نوید تھی وہیںنئی دنیا کی نوید بھی تھی۔ شرط صرف سوچ کی تبدیلی تھی۔اگر سپینش فلو کے بعد امریکہ کی سوچ بدل جاتی، تو ان وباؤں سے لڑنے کے لیے دنیا زیادہ بہتر طور پر تیار ہوتی،امریکہ پر جنگی جنون سوار رہا،جو پیسہ ہیلتھ ریسورس،ہسپتالوں پر لگنا چاہیے تھا،وہ فوج پر لگتا رہا اور جو الزام پہلے جرمنی پر لگا ،آج چین پر لگ رہا تھا، مگر سوچ نہیں بدلی اور نہ ہی تباہی بدلی۔ دنیا جنگِ عظیم اول کے آخری مرحلے میں داخل ہوچکی تھی ،جب سپینش فلو نے جنگ کا فائنل راؤنڈ ،بدترین موت کی صورت میں کھیلا اور اب ایران امریکہ تنازعہ اور مشرقی وسطی میں پھیلی بدامنی تیسری جنگ ِ عظیم کے قریب تھی کہ کورونا وائرس آگیا۔انسان نے سوچ نہیں بدلی اور قدرت نے اپنا کھیل نہیں بدلا۔انسان 1346ءمیں بھی بے بس تھا،1918ءمیں بھی بے بس تھا اور آج 2020ءمیں بھی بے بس ہے۔ اس کی سوچ طاقت اور تباہی کے گرد گھومتی رہی اور قدرت نے وہی لا کر جھولی میں ڈال دیا۔اب ان دیکھا دشمن ہے اور موت کا ناچ ہے،اس سے ہمیں کچھ سیکھ کر نکلنا ہوگا، نئی دنیا کے لیے نئی سوچ کو جنم دینا ہوگا۔

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker