ادبڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہلکھاری

ڈاکٹراختر شمار کی قبر کشائی اور تیسرا جنازہ ڈاکٹر شاہدہؔ دلاور شاہ کی یادیں ( پہلی قسط )

 ڈاکٹر اختر شمار ؔ محبتیں بانٹنے والے ایک خوبصورت شاعر ہیں۔ انہیں مرحوم لکھتے ہوئے کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ قدرت کے اپنے اصول اور قاعدے ہیں جن سے کسی کو مفر نہیں۔بعض اوقات خصوصاً موت کے معاملے میں اس کے فیصلے انسان کو اچانک حیران کر دیتے ہیں۔بہر حال موت برحق ہے آج نہیں تو کل سب نے اس کا ا یندھن ہو کر رہنا ہے۔ڈاکٹر اختر شمار اعلیٰ پائے کے شاعر، ادیب، ماہر تعلیم، کالم نگار، افسانہ نگاراور ایک مخلص انسان تھے۔
جانے کس دیس جا بسے اخترؔ
ہائے وہ لوگ خوش کلام سے لوگ
لوگ لوگوں کے لیے شعرکہتے ہیں اختر شمار کا یہ شعر انہی پر صادق آتا ہے۔وہ ایک مخلص اور گداز دل رکھنے والے شخص تھے۔وہ محبتیں بانٹتے اور سمیٹتے ہوئے دنیا سے رخصت ہوئے ہیں ان کی محبت پر ایک معرو ف زمانہ غزل ہے:
محبت بھی مصیبت ہے کریں کیا
مگر اپنی ضرورت ہے کریں کیا
ہمارے پاس اک لمحہ نہیں ہے
اسے فرصت ہی فرصت ہے کریں کیا
تجھے کھونے کا ڈر اپنی جگہ ہے
تجھے پانے کی حسرت ہے کریں کیا
مسلسل دیکھنے سے مت خفا ہو
یہی اپنی عبادت ہے کریں کیا
ہمیں مرنا پڑا خوش فہمیوں میں
اسے ہنسنے کی عادت ہے کریں کیا
کوئی ماحول راس آتا نہیں ہے
جہاں جائیں اذیت ہے کریں کیا
ہم اس سے بچ کے چلنا چاہتے ہیں
مگروہ خوبصورت ہے کریں کیا
ہمیشہ سچ نکل جاتا ہے منہ سے
کچھ ایسی ہی طبیعت ہے کریں کیا
ستم دل پر نہ کوئی ہم بھی سہتے
مگر اس کی حکومت ہے کریں کیا
انہوں نے اپنی ساری زندگی تدریس کے ساتھ جوڑ دی اس سلسلے میں مصر کی جامعہ عین شمس اور جامعہ الازہر میں بھی پانچ چھ سال تک پاکستان کی نمائندگی کی۔ان کا آبائی گاؤں پنڈی کے قریب چکری سہال تھا۔ جب والد صاحب کا بہ سلسلہ روز گار ملتان تبادلہ ہوا تو آپ اپنی فیملی سمیت حسن آباد آن بسے۔اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ آپ نے ایک دو ملازمتیں بھی کیں، ایک سکول میں کلرکی اور پولیس کے محکمے میں بھی دل نہ لگا کیوں کہ تخلیقی ادب کی بے چینی نے ایک جگہ رکنے نہ دیا۔شعرو شاعری کا شغل انہیں ان کے استاد بیدل حیدری سے فیضیابی کے بعد لاہورمیں لے آیا۔ان کے حلقہ احباب کی تعداد وسیع ہے جن میں کئی ایک کے ساتھ معاصرانہ چشمک رہی۔ کئی ایک پر خاکے لکھ کر ان کو ناراض بھی کر لیا کرتے تھے۔ ڈاکٹر صاحب کی ایک یہ اچھی عادت تھی کہ ناراض شدہ دوستوں کو خود ہی منا بھی لیتے تھے۔اطہر ناسک مرحوم، باقی احمد پوری، مدثر بٹ، سعد اللہ شاہ، ڈاکٹر جواز جعفری، ناصربشیر، گل نوخیز اختر، عرفان صادق، نوشی گیلانی، ڈاکٹر صغریٰ صدف، صوفیہ بیدار، آفتاب خان، راجہ نیر اور ڈاکٹر تنویر حسین ان کے مزاج کو خوب سمجھتے تھے۔ڈاکٹر صاحب اپنی فیملی لائف میں تو بہت پر سکون تھے مگر میدان سخن میں کچھ بے چیناں ساری زندگی ان کے ہم رقاب رہیں۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ ڈاکٹر صاحب پرائڈ آف پرفارمنس کے حق دار تھے جو ان کو ان کی زندگی میں نہ مل سکا۔لاہور میں کئی دوسرے شہروں سے آئے ہوئے لکھنے پڑھنے والے ان کے دوست بنے۔کچھ ان کے پرانے دوست جو دوسرے شہروں میں رہتے ہیں،نے بھی اپنے اپنے مقام پر شہرت پائی جن میں رضی الدین رضی، شہزاد سلیم،قمر رضا شہزاداور تابش الوری جیسے معروف شاعر بھی شامل ہیں۔لاہور میں اختر شمار ادبی مسائل کے بڑے محازوں پر ڈٹے رہے۔ ان کے بجنگ آمد نے شہرت کے ڈونگرے ان کے دامن میں لا جمع کیے۔ان کا شمار اردو ادب کے بڑے شاعروں میں ہوتا ہے۔ ان کے بہت سے اشعار زبان زد عام ہیں۔ان کے عہد میں یہ شرف صرف اختر شمار، فرحت عباس شاہ، عباس تابش، منصور آفاق اور وصی شاہ کے حصے میں آیا ہے کہ ان کی حیات میں ہی ان کے اشعار عوامی درجہ اختیار کر لیں۔ان کی 30 سے زائد کتب منصۂ شہود پر آ چکی ہیں ا خترشمار کا تخلیقی سفر چار دہائیوں پر مبنی ہے۔ڈاکٹر صاحب نے بی اے ملتان سے کیا اور ایم اے اردو اسلامیہ یونی ورسٹی بہاول پور سے کیا۔ انہوں نے تدریسی فرائض کا آغاز قصور کالج سے کیا۔ اس کے بعد جی سی کالج لاہوراور پھر تا دم آخر ایف سی کالج یونیورسٹی میں صدر شعبہ اردو کی حیثیت سے متمکن رہے۔انہوں نے ”حیدر دہلوی:احوال و آثار“ کے عنوان سے خواجہ محمد زکریا کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ تحریر کیا۔اسی کی دہائی کے اواخر میں انہوں نے مختلف رسائل اور اخبارات میں کام کیا۔ڈاکٹر صاحب کی انجمن ترقی اردو کراچی سے بھی خاص یاد اللہ رہی۔ابھی تک ان کے تخلیقی کام پرمختلف یونی ورسٹیوں سے پانچ چھ تحقیقی مقالہ جات رقم ہو چکے ہیں۔ان کی پیدائش پاک پتن شریف میں ہوئی اور تدفین ان کے آبائی گاؤں چکری سہال میں ہوئی۔ان کی تصانیف میں روشنی کے پھول، کسی کی آنکھ ہوئے ہم، ابھی آغاز محبت ہے، جیون تیرے نام، ہمیں تیری تمنا ہے، آپ سا کوئی نہیں، تمہی میری محبت ہو، دھیان، عاجزانہ، اکھیاں دے وچ دل، میلہ چار دیہاڑے، پنجابی ادب رنگ، بھرتری ہری ایک عظیم شاعر، میں بھی پاکستان ہوں، ہم زندہ قوم ہیں، لاہور کی ادبی ڈائری، موسی سے مرسی تک، جی بسم اللہ وغیرہ ہیں۔ان کی کلیات ”اختر شماریاں“ کے نام سے چھپی تھی۔انہوں نے حمد، نعت، سلام، منقبت و مناجات، غزل، نظم، گیت، ترانے، دوہڑے وغیرہ جیسی معتبر اصناف میں بسیرا کیا۔ وہ نو محرم الحرام 8 اگست دو ہزار بائیس کو دار فانی سے باسٹھ سال کی عمر میں رخصت ہوئے۔وہ عارضہ جگر میں مبتلا تھے۔بڑے صابر آدمی تھے اتنے سیف میڈ کہ کبھی اشد ضرورت کے وقت بھی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلاتے وہ ”ہمیشہ اوپر والاہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہے“ والی حدیث پر عمل پیرا رہے۔
اکثر غریب ادیبوں کی چپکے سے مدد کر دیتے کہ کسی کو کانوں کان خبر بھی نہ ہوتی پھر ان سے کبھی صلے کے متمنی نہیں رہے۔اپنی زندگی میں انہوں نے بہت جدوجہد کی ان کے اندر صوفیانہ خو اور آرزو تھی۔ان کا شعری سفر تو ان کی تقریبا ساری زندگی پر محیط ہے مگر ان کی گفتگو اور نثری تحریروں میں اپنے مرشد (جو کہ ہری پورکے باسی ہیں) سے والہانہ، دلبرانہ،صوفیانہ، بے باکانہ اور بے لوث عقیدت ٹپکتی تھی۔ان کے کالموں میں اشفاق احمد کی طرح ایک بزرگ یا بابا جی ہوتے تھے جن سے زندگی کو سدھارنے کاسلیقہ ملتا۔ڈاکٹر صاحب کو اپنی زندگی میں سب سے زیارہ حرف کا پاس تھا شاعری انہیں اپنی جان سے بھی عزیز تھی مگر آپ یہ جان کر انگشت بدنداں ہوں گے کہ ڈاکٹر صاحب کو اپنے شعر سے بھی زیادہ پیار اپنے مرشد پیر جی سے تھا۔ جب کبھی ان کے مرشد کا تذکرہ چھڑ جاتا تو ڈاکٹر صاحب کا رنگ پہلے بھی سرخ سفید تھا، وہ مزید سرخ ہو جاتا چہرے پر عقیدت کا نور پھیل جاتا اور پلکوں پر محبت کے دیپ جل اٹھتے۔اس سچی لگن کا نتیجہ یہ تھا کہ اپنی وفات سے چند ہی دن قبل وہ باقاعدہ مرشد کے ڈیرے کا طواف کرنے گئے ایسا لگتا ہے کہ وہ اپنے پیر و مرشد سید شبیر حسین شاہ رحمت اللہ علیہ سے وصال کے راز و نیازکرنے گئے ہیں۔ان کی وفات کے بعد کا منظر اس کی تصدیق کرتا ہے کہ جب ان کو ان کے آبائی قبرستان چکری سہال میں دفن کر دیا گیا تو دوسرے تیسرے دن بعد وہ ہری پور کے احباب، ان کے پنڈی کے احباب اور ان کے بڑے صاحبزادے تیمور خان کے خواب میں ڈاکٹر صاحب آکے کہتے ہیں کہ وہ پنڈی کی آرام گاہ میں خوش نہیں ہیں وہ ہری پور اپنے پیر کے پاس جانا چاہتے ہیں۔یوں یہ بات آن دی ریکارڈ ہے کہ ان کی دوبارہ قبر کشائی کی گئی ان کے جسد خاکی کو وہاں سے نکال کے ہری پور لے جا کر تیسرا جنازہ پڑھایاگیا۔کسی ہستی سے والہانہ جڑت کو ادبی زبان میں عشق کا نام دیا گیا اور سچے عشق کا جادو سر چڑھ کر بولتا ہے۔ڈاکٹر صاحب نے پارسائی، حیا داری اور خود انحصاری کی زندگی بسر کی۔ ان کا کبھی کوئی سکینڈل سامنے نہیں آیا کیوں کہ وہ ہر شخص کو اس کے مقام کے مطابق جگہ دیتے اور ایک بڑی یونی ورسٹی میں ہوتے ہوئے بھی جہاں کبھی نہ کبھی کسی کا بھلے ہلکا اور کمزورسا ہی سہی، اسکینڈل لوگ ضرور بنا دیتے ہیں مگر ڈاکٹر صاحب اس معاملے میں بھی سرخرو ہو کر دنیا سے رخصت ہوئے ہیں۔
( جاری )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker