ادبڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہلکھاری

ڈاکٹر اختر شمار زود رنج اور حفظ مراتب کے حوالے سے حساس تھے : ڈاکٹر شاہدہ دلاور شاہ کی یادیں ( آخری قسط )

۔۔گزشتہ سے پیوستہ ۔۔
اختر شمار صاھب کی ایک عادت تھی کہ وہ اپنے جونیئرز کی بہت ہی احسن طریقے سے راہنمائی فرما دیتے۔تمام بڑے شاعر غم دوراں اور غم جاناں کا شکار رہے ہیں۔ اختر شمار کی شاعری بھی ان دونوں کے کرب سے لبریز ہے۔
تجھے میں مل نہ پایا وقت رخصت
جیوں گا جب تلک یہ غم رہے گا
۔۔۔۔۔۔۔۔
دیکھے کسی کو ایک جھلک اور اس کے بعد
پہروں کسی کو بیٹھ کے سوچا کرے کوئی
۔۔۔۔۔۔۔۔
کاغذ پہ یہ اشعار ہیں یا خون کے چھینٹے
یا رنگ پہ آیا ہوا۔۔۔۔۔ فن کار کا دکھ ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک جیسے تھے سبھی اس شہر میں
مجھ کو سب سے مختلف ہونا پڑا
۔۔۔۔۔۔۔۔
کہاں رکے ہیں اب بھی یزیدوں کے ظلم و ستم
ہمارے سامنے کشمیر۔۔۔۔۔۔۔کی کہانی ہے
ڈاکٹر اختر شمار بنیادی طور پر ایک استاد تھے اور اپنے بعد آنے والوں کی حوصلہ افزائی اپنے فرائض کا حصہ گردانتے تھے۔ ہمیشہ کہتے کہ پڑھانے والے میں اور کوئی خوبی ہو نہ ہو اسے استاد اچھا ہونا چاہیے کیوں کہ وہ قوم کی نسلوں کے معمار ہوتے ہیں۔ڈاکٹر اختر شمار خود بھی ایک اچھے مدرس تھے۔ ان کے تلامذہ ان کی کلاس کا بے چینی سے انتظار کرتے۔ انہیں اپنے سبجیکٹ پر مکمل گرفت تھی۔وہ ادب،ادیب اور اپنے گردو پیش میں معاصرانہ چشمک کے معاملات سے بھی خوب واقف تھے۔ایک مرتبہ کسی ادبی تقریب میں وہ ایک خوبرو شاعرہ کے پاس کھڑے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر از راہ تلذت، دو عورتیں ان کے پاس آئیں اور تقریبا ً پورا گھنٹہ انہیں سمجھاتی رہیں کہ یہ نئی نئی لڑکیاں یوں ہی ادب میں شوقیہ آ جاتی ہیں ادب سے ان کا دور کا بھی واستہ نہیں ہوتاجب ان کا ٹھرک پورا ہو جاتا ہے تو جلد یا بہ دیر ادبی منظر نامے سے غائب ہو جاتی ہیں، ڈاکٹرصاحب!متذکرہ شاعرہ سے بچ کے رہیے گا۔ڈاکٹرصاحب حسب عادت مسکرائے اور انہیں باور کرایا کہ جو آپ سمجھ رہی ہیں ایسا کچھ نہیں وہ میری پڑھی لکھی کولیگ اور صاحب دیوان شاعرہ ہے۔اس پر وہ دونوں خائف ہو کر چلتی بنیں۔ڈاکٹر صاحب سوجھ بوجھ کے آدمی تھے اور زمانے کی اونچ نیچ کو برابر سمجھتے تھے۔وہ صاحبِ اسلوب تخلیق کار اور ایک مجلسی آدمی تھے۔ ان کے پاس ہمہ وقت کوئی نہ کوئی شاعر ادیب ضرور ادب و فن پر گفتگو کر رہا ہوتا۔آخری کچھ مہینوں سے وہ اپنے پرانے دوستوں منصورآفاق،شفیق احمد خان اورڈاکٹر غافر شہزاد کے پاس کافی وقت گزارنے لگے۔ یونیورسٹی سے اٹھتے تو ان کا دوسرا مسکن مجلس ترقی ادب تھا۔جہاں ہفتہ وار بڑے مشاعرے کے ساتھ ساتھ دیگر اصناف اورسینئر ادیبوں کے ساتھ شامیں ہوتیں، اکثر میں ڈاکٹر صاحب شرکت فرماتے۔ وہاں کچھ دیگر دوستوں سے بھی ان کی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ وہیں وہ اپنے پرانے دوست صابر رضا اور محمود پاشا سے بغلگیر ہو کر بے انتہا خوش ہوئے۔انہیں اس بات کا بھی ملال تھا کہ سوشل میڈیا نے ادیب اورتخلیق کارکو نقصان پہنچایا ہے اب لوگ محنت کی بجائے شہرت پر یقین رکھتے ہیں یہ سستی اور جعلی شہرت اور رات و رات وائرل ہونے کی خواہش پڑھنے لکھنے کے عمل اورحقیقی ہنر کی مسابقت کو بڑی تیزی سے برباد کر رہی ہے۔ان کا خیال تھا کہ شعرکو لکھ کر میدان میں رکھ دینا چاہیے اس میں جان ہو گی تو زندہ رجائے گا۔وہ مشاعرے میں پہلا مصرع پڑھتے تو سامعین اگلا مصرع دہرا دیتے۔ان کے چند اشعاردیکھیے:
ذرا سی دیر تھی بس اک دیا جلانا تھا
اور اس کے بعد فقط آندھیوں کو آنا تھا
میں گھر کوپھونک رہا تھا بڑے یقین کے ساتھ
کہ تیری راہ میں پہلا قدم اٹھانا تھا
وگرنہ کون اٹھاتا یہ جسم و جاں کے عذاب
یہ زندگی تو محبت کا اک بہانہ تھا
یہ کون شخص مجھے کرچیوں میں بانٹ گیا
یہ آئینہ تو مرا آخری ٹھکانہ تھا
پہاڑ بھانپ رہا تھا مرے ارادے کو
وہ اس لیے بھی کہ تیشہ مجھے اٹھانا تھا
بہت سنبھال کے لایا ہوں اک ستارے تک
زمیں پر جو مرے عشق کا زمانہ تھا
ملا تو ایسے کہ صدیوں کی آشنائی ہو
تعارف اس سے بھی حالاں کہ غائبانہ تھا
میں اپنی خاک میں رکھتا ہوں جس کو صدیوں سے
یہ روشنی بھی کبھی میرا آستانہ تھا
میں ہاتھ ہاتھوں میں اس کے دے نہ سکا تھا شمار
وہ جس کی مٹھی میں لمحہ بڑا سہانا تھا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس کے نزدیک غم ترک وفا کچھ بھی نہیں
مطمئن ایسا ہے وہ جیسے ہوا کچھ بھی نہیں
اب تو ہاتھوں سے لکیریں بھی مٹی جاتی ہیں
اس کو کھو کر تو مرے پاس رہا کچھ بھی نہیں
چار دن رہ گئے میلے میں مگر اب کے بھی
اس نے آنے کے لیے خط میں لکھا کچھ بھی نہیں
میں تو اس واسطے چپ ہوں کہ تماشا نہ بنے
تو سمجھتا ہے مجھے تجھ سے گلہ کچھ بھی نہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دشمنی کر مگر اصول کے ساتھ، مجھ پہ اتنی سی مہربانی ہو
میرے معیار کا تقاضا ہے، میرا دشمن بھی خاندانی ہو
اپنے پیر و مرشد کے نقش قدم پر وہ اللہ رسول اور ان کی آل سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ نبی آخر الزماں ﷺ سے ان کی عقیدت کسی سے ڈھکی چھپی نہ تھی ان کا یہ شعر دیکھیے:
میں گزرتا تو وہاں جاں سے گزرتا چپ چاپ
یہ ہوا کیسے مدینے سے گزر جاتی ہے
ڈاکٹر صاحب ایک مخلص پاکستانی اور محب وطن تھے۔سماج میں پنپنے والی خرافات کا بھی ان کے دل پر ایک بوجھ تھا۔ وہ کہتے ہیں:
ریزہ ریزہ ہونے لگا ہوں میں ہر پل
کھا جائیں گے مجھ کو پاکستان کے دکھ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ساری خلقت ایک طرف تھی اور دوانہ ایک طرف
تیرے لیے میں پاؤں پہ اپنے جم کے کھڑا تھا ایک طرف
ایک اک کر کے ہر منزل کی سمت ہی بھول رہا تھا میں
دھیرے دھیرے کھینچ رہا تھا تیرا رشتہ ایک طرف
دونوں سے میں بچ کر تیرے خواب و خیال سے گزر گیا
دل کا صحرا ایک طرف تھا آنکھ کا دریا ایک طرف
آگے آگے بھاگ رہا ہوں اب وہ میرے پیچھے ہے
اک دن تیری چاہ میں کی تھی میں نے دنیا ایک طرف
دوسری جانب اک بادل نے بڑھ کر ڈھانپ لیا تھا چاند
اور آنکھوں میں ڈوب رہا تھا دل کا ستارہ ایک طرف
وقت جواری کی بیٹھک میں جو آیا سو ہار گیا
اخترؔ اک دن میں بھی دامن جھاڑ کے نکلا ایک طرف
ڈاکٹر صاحب عادتاً ذرا زود رنج بھی رہتے تھے کہ ان کو ا ن کا جائز مقام نہیں ملا۔ ہمیشہ انہیں حفظ مراتب کا خیال رہتا۔وہ بہت حساس انسان تھے۔ اس کے باوجود بھی سب کو خوش رکھنے کی کوشش کرتے۔ اکثر کہتے کہ زندگی مختصر سی ہے ہم نے اور کتنا طویل جینا ہے لہذا دوریاں اور کدورتیں ختم ہونی چاہیں۔ان کا ایک شعر اس خیال کی غمازی کرتا ہے:
مت کسی کا گلہ کرو بھائی
سب پہ راضی رہا کرو بھائی
بہر حال ڈاکٹر صاحب نے اپنی تدریسی، صحافتی اور ادبی و تخلیقی زندگی کے ساتھ پورا پورا انصاف کیا۔ان کی اچانک وفات نے ان کے سب چاہنے والوں کوغمزدہ کر دیا ہے۔ اجل کو کون روک سکتا ہے۔ آخر میں ان کے دوستوں کی طرف سے ان کا اپنا ہی ایک شعر ہے:
میں کیا کہوں کہ کیسی تھی وہ شام الوداع
میں دیکھتا رہا تھا۔۔۔۔۔بلایا نہیں اسے
وقت نے تو یہی سکھایا شمارؔ
آج ہے آج، کل نہیں کوئی
رب کریم سے دعا ہے کہ وہ ان کے درجات بلند کرے اور انہیں آسودہ رحمت کرے ۔
( مکمل )‌

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker