ہم سرخوں میں ایک خرابی ہوتی ہے کہ ہم ظالموں اور جابروں سے سمجھوتہ نہیں کرتے۔ سرمایہ دارانہ نظام سے ہماری جنگ ناقابل مصالحت ہے۔ ہم ایک اندرونی اور بیرونی تضادات سے بھری ہوئی دنیا میں سانس لے رہے ہیں۔ ہم ان تضادات کو سمجھنے کے دعویدار ہیں اور کسی بھی صورتحال میں اپنے نتائج کسی وقتی جذباتیت یا ردعمل کی صورت میں نہیں بلکہ مارکسی منطق سے اخذ کرنے کے قائل ہیں ۔اس کے باوجود ہم انسان بھی ہیں۔ ہم عالمی سرمایہ داری کے عہد میں زندہ ہیں۔ اس سماج میں برپا ہونے والا ہر ظلم ہماری نفسیات کو متاثر کرتا ہے جس کے نتائج خود ہمیں اور ہمارے پیاروں کو بھگتنا پڑتے ہیں۔
چودہ ماہ کی مسلسل بےروزگاری کے بعد آخرکار مجھے نوکری مل گئی اور اگست 2021 میں مجھے کوئٹہ میں انڈس ہسپتال نے بچوں کے سرطان کے یونٹ کا نگران بنا کر بھیج دیا۔ تنخواہ بہت اچھی تھی۔ اس سے پہلے کم آمدنی کی وجہ سے میرا بھائی اور میرے والدین معاشی مشکلات کا شکار تھے۔ ایک طویل اور صبرآزما انتظار کے بعد ہمارے معاشی حالات کچھ بہتر ہوئے تھے۔ میں کوئٹہ میں اکیلا ہی جا کر مقیم ہو گیا۔ انڈس کی انتظامیہ نے مجھے رہنے کے لیے ہسپتال کے اندر ہی ایک کمرہ دیا تھا۔ کھانا بھی ایک باورچی بنا دیتا تھا۔ ہنسی خوشی دن گزرنے لگے۔
میں اپنے کام میں اتنا مگن ہو گیا کہ مجھے کسی اور چیز کا ہوش نہیں رہا۔ گویا مجھے زندہ رہنے کا ایک بہت بڑا مقصد مل گیا تھا۔ میں بلوچستان کے پہلے مرکز امراض سرطان بچگان کا واحد ماہر ڈاکٹر تھا۔ بلوچستان اور افغانستان کے عوام نے مجھے جو محبت دی وہ میں کبھی فراموش نہیں کر سکتا۔ ہمارے مرکز میں آنے والے بچے ہمارے خاندان کا حصہ بن گئے۔ ہماری نرسنگ، شعبہ ادویات کے ماہرین اور ڈاکٹر سب اپنی اپنی ذمہ داریاں بخوبی سرانجام دینے لگے۔ ہم ایک ٹیم بن کر بچوں کا علاج کرنے لگے۔ شروع میں ہسپتال کی مقامی انتظامیہ نے ہمارے ساتھ زیادہ تعاون نہیں کیا لیکن ایک اعلٰی حکومتی عہدیدار کے دورے کے بعد ہمارے انتظامی مسائل بتدریج حل ہونے لگے۔
پھر ایک روز ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے ہم سب کے حوصلے پست کر دیے۔ اس دن ہمیں معلوم ہوا کہ ہمارے دشمن ہمارے بیچ میں موجود تھے۔ ہمارے ڈے کیر (وہ جگہ جہاں کیموتھراپی کی جاتی ہے) کے غسل خانے میں نصب گیزر ایک دھماکے کے ساتھ پھٹ گیا۔ ہمارا تمام عملہ اور مریض خوفزدہ ہو گئے۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی. اگلے روز ایمرجینسی وارڈ کے غسل خانے کا گیزر بھی اسی طرح پھٹ گیا۔ خوش قسمتی سے یہ دونوں واقعات رونما ہوتے وقت کوئی ان غسل خانوں میں موجود نہیں تھا ورنہ کسی کی جان بھی جا سکتی تھی۔ ان دنوں انڈس ہسپتال کراچی سے آئے ہوئے عملے نے ہمیں بتایا کہ صرف گیزر اور ان کی فٹنگ ہی نہیں بلکہ مرکز میں نصب بہت سا دوسرا سامان بھی غیرمعیاری تھا جس سے وہاں موجود افراد کی جانوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا تھا۔ ہم نے اپنے سینیر ڈاکٹروں کو جو کراچی میں موجود تھے ان واقعات کے بارے میں آگاہ کیا۔ کراچی میں موجود انتظامیہ کے ایک اہم فرد کو بھی میں نے ان کے بارے میں بتایا لیکن ان سب کو فراموش کر دیا گیا اور یہ ظاہر کیا گیا کہ جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ میرے لیے یہ بات بہت حیران کن تھی کیونکہ انڈس ہسپتال ایک معیاری ادارہ ہے۔
سردی دن بدن بڑھ رہی تھی۔ پرانے گیزر اتار لیے گئے تھے لیکن نئے تاحال نصب نہیں کیے گئے تھے۔مرکز میں انورٹرز بھی ابھی نصب نہیں کیے گئے تھے جس کی وجہ سے رات کو اکثر ہسپتال میں سردی ہو جاتی ۔غسل خانوں میں سرد اور برفیلا پانی استعمال کرنا اور ٹھنڈ میں اس عمارت میں موجود رہنا عملے اور مریضوں کے لیے بہت مشکل ہوتا۔ کچھ ہیٹر خریدے گئے لیکن وہ سارے یونٹ کو گرم رکھنے کے لیے کافی نہیں تھے۔ ریسیپشنسٹ اور سیکیورٹی گارڈز جس جگہ بیٹھتے تھے وہاں باقی وارڈ کی نسبت زیادہ سردی ہوتی تھی۔ مقامی انتظامیہ اپنے گھروں میں سکون سے سوتی رہتی جب کہ کراچی کی انتظامیہ کو شاید سردی کی شدت کا احساس ہی نہیں تھا اس لیے معاملات انتہائی سست رفتاری سے چل رہے تھے۔
مقامی انتظامیہ کی بدعنوانی اور بدانتظامی ہر گزرتے دن کے ساتھ ہم پر آشکار ہو رہی تھی۔ مجھ پر ذہنی دباؤ دن بدن بڑھ رہا تھا۔ رات کو میں آن کال ڈاکٹر ہوتا تھا اور اکثر رات کو مجھے وارڈ میں مریض دیکھنے جانا پڑتا تھا۔ نیند مجھے یوں بھی کم ہی آتی اس لیے مجھے کام کرنے میں بظاہر کوئی مسئلہ نہ ہوتا۔ میں نے اپنی بگڑتی ہوئی ذہنی صحت کے بارے میں مشورہ کرنے کے لیے لاہور میں موجود اپنے نفسیاتی معالج ڈاکٹر علی مدیح ہاشمی سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن وہ ڈینگی بخار میں مبتلا ہونے کی وجہ سے مجھے دستیاب نہیں ہو سکے۔ میں اپنی ادویات باقاعدگی سے استعمال کرتا لیکن شاید وہ ان حالات میں بےاثر ہو چکی تھیں۔ میں ہفتے کی رات اکثر اپنے قریبی دوستوں نوجوان شعراء احسان اصغر اور سلیم حسنی کے ساتھ ان کے مکان پر گزارتا۔
28 نومبر 2021 کی صبح مجھے میرے وارڈ سے فون آیا کہ ہمارے ایک سیکیورٹی گارڈ نے ایک تیرہ سالہ داخل بچی کو اس کی والدہ کی موجودگی میں جنسی ہراسانی کا نشانہ بنایا ہے۔ میرے لیے یہ بات ناقابل برداشت تھی۔ میں نے یونٹ کے انتظامی امور کے مقامی سربراہ اور کراچی میں موجود انتظامیہ اور سینیر ڈاکٹروں کو فوراً ایک ای میل کی اور انہیں اس واقعے کے بارے میں اطلاع دی۔ اس کے بعد میں فوراً اپنے وارڈ پہنچا۔ متاثرہ بچی کے لواحقین اسے فوراً کراچی لے کر جانا چاہتے تھے۔ ہم نے ان کی ڈسچارج اسلپ بنائی اور وہ بچی کو لے کر ہمارے وارڈ سے چلے گئے۔ بچی کے چچا نے ہمیں واقعے کے بارے میں بات آگے بڑھانے سے روک دیا کیونکہ شاید اس سے خود ان کی بدنامی ہو سکتی تھی ۔بعد ازاں کراچی میں بچی کا انتقال ہو گیا۔
28 نومبر کی رات کو مجھے اطلاع ملی کہ بچی کے ساتھ نازیبا حرکات کرنے والا سیکیورٹی گارڈ ڈیوٹی پر موجود تھا۔ میں نے اپنی نرسنگ ٹیم سے کہا کہ اسے وہاں سے فوراً چلے جانے کو کہے۔ لیکن گارڈ نے جانے سے انکار کر دیا اور کہا کہ وہ صرف انتظامیہ کے مقامی سربراہ کے حکم پر وہاں سے جائے گا ۔میں نے نرسنگ ٹیم سے کہا کہ اس سے کہیں کہ وہ وہاں سے چلا جائے ورنہ ڈاکٹر صاحب خود آ رہے ہیں۔ یہ پیغام دے کر میں رات کے گیارہ بجے وارڈ کی طرف روانہ ہو گیا۔ اس دوران بچی کو ہراساں کرنے والا سیکیورٹی اہلکار وہاں سے رخصت ہو چکا تھا. میں وارڈ پہنچا تو غلط فہمی میں میں نے ایک دوسرے سیکیورٹی گارڈ کی پٹائی کر دی۔ جب مجھے پتا چلا کہ میں نے غصے میں ایک بےگناہ پر ہاتھ اٹھایا ہے تو اس سے معافی مانگی۔ لیکن یہ فزیکل اسالٹ (جسمانی تشدد) سی سی ٹی وی کیمرے نے محفوظ کر لیا. میں ساری رات جاگتا رہا۔ اگلی صبح جونہی میں وارڈ میں پہنچا ایک انتظامی مسئلے پر انتظامیہ کے چہیتے ایک ریسیپشنسٹ سے توتو میں میں کے بعد میری ہاتھا پائی ہو گئی جس کے نتیجے میں میں زخمی ہو گیا۔اس ہاتھا پائی کو میں اپنے خلاف فزیکل اسالٹ یعنی جسمانی تشدد سمجھ بیٹھا ۔میں نے ریسیپشنسٹ کے خلاف کراچی کی انتظامیہ کو ای میل کی کہ اس نے مجھے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ لیکن دو روز بعد میں نے اپنی شکایت واپس لے لی کیونکہ مجھے لگا کہ اس میں بھی میرا ہی قصور تھا۔ 29 نومبر کو کراچی سے مجھے فون آیا کہ آپ کی جان خطرے میں ہے اس لیے فوراً کوئٹہ چھوڑ دیں۔ میں نے فوراً حکم کی تعمیل کی۔
میری غیرموجودگی میں میرے خلاف ٹرائل ہوا۔ سی سی ٹی وی میں بےگناہ سیکیورٹی گارڈ پر جسمانی تشدد بہت واضح تھا جو 28 نومبر کو رات گیارہ بجے میری طرف سے کیا گیا تھا.۔میرے پاس اپنی بےگناہی کا کوئی ثبوت اس لیے نہیں تھا کہ میں بےگناہ تھا ہی نہیں۔ ایک طبی مرکز کے طبی سربراہ کو کسی صورت یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ اپنی کمپنی کے کسی ملازم پر ہاتھ اٹھائے خواہ اس کی وجہ کتنی ہی سنگین کیوں نہ ہو۔
چھ دسمبر کو مجھے فون پر بتایا گیا کہ مجھے ملازمت سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ آج 8 دسمبر کو ایک خط میرے ہاتھوں میں ہے جس میں لکھا گیا ہے کہ مجھے تشدد کا مرتکب ہونے کے کی وجہ سے ملازمت سے فوری طور پر برطرف کیا جاتا ہے۔
میں کچھ دیر پہلے ڈاکٹر ہاشمی سے مل کر آیا ہوں جنہوں نے مجھے تاکید کی ہے کہ میں کچھ لکھوں۔ جو کچھ اس وقت میرے پاس لکھنے کو تھا وہ میں نے لکھ دیا. میری بیٹی مجھے کہہ رہی ہے کہ بابا زندگی میں نوکری ہی سب کچھ نہیں ہوتی۔ کاش اس کی یہ بات درست ہوتی۔
فیس بک کمینٹ

