سیاسی قیدی کو ہر حال میں اپنا وقار قائم رکھنا چاہیے. محترمہ بینظیر بھٹو لکھتی ہیں کہ کچھ فوجی افسر ان کے پاس آ کر پھانسی کی سزا سے پیشتر ان کے والد پر توڑے گئے مصائب بیان کیا کرتے تھے. اس پر وہ فوجی اشرافیہ سے کہتی تھیں کہ جاؤ اور ضیاءالحق کو جا کر بتا دو کہ وہ کسی صورت میں بھی بینظیر بھٹو کو نہیں توڑ سکتا. میں نے پیپلز پارٹی کے کسی کارکن کو کبھی قید و بند کی تکالیف پر روتے ہوئے نہیں دیکھا. شاید اس کی وجہ یہ ہو کہ اس وقت سوشل میڈیا موجود نہیں تھا. لیکن اگر ایسا ہوا ہوتا تو فوجی حکومتیں اسے منظرعام پر ضرور لاتیں. جہانگیر بدر کو پہلا کوڑا پڑا تو وہ بلبلا اٹھے. اس پر مائیک ان کے منہ کے قریب لا کر دوسرا کوڑا مارا گیا تاکہ لوگ ان کی چیخ و پکار سن کر خوفزدہ ہو جائیں. لیکن توقعات کے برعکس جہانگیر بدر ہر کوڑے کے ساتھ جیے بھٹو کا نعرہ لگانے لگے. اسی طرح پیپلز پارٹی کے بہت سے کارکنان جیے بھٹو کا نعرہ لگا کر تختہ دار پر جھولتے رہے.
دیدنی ہو گا وہ منظر آنے والے وقت کا
لوگ مقتل کی طرف جب رقص کرتے جائیں گے
یہ دیدنی مناظر ہم ضیاءالحق کی آمریت کے دوران دیکھ چکے ہیں.
مسلم لیگ ن کے رہنما کہتے ہیں کہ انہوں نے جمہوریت کے لیے بہت سی قربانیاں دی ہیں. لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی نواز شریف پر برا وقت آیا وہ مقتدر حلقوں سے سازباز کر کے بیرون ملک فرار ہو گئے. دوران قید نوازشریف ہمیشہ روتے دھوتے، غمزدہ، بیمار اور نفسیاتی شکست و ریخت کا شکار دکھائی دیے. یہ بات مسلم لیگ ن کے کارکنوں کے لیے ہمیشہ باعث شرمندگی رہے گی. میاں نوازشریف کے برعکس ان کی جماعت کے کچھ رہنماؤں اور کارکنوں نے پروقار انداز میں قید و بند کی صعوبتیں برداشت کی ہیں.
دور حاضر میں مقتدرہ کے سامنے اگر کوئی جماعت مزاحمت کرتی اور اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیے کو لے کر چلتی ہوئی نظر آتی ہے تو وہ پاکستان تحریک انصاف ہے. لیکن یہ مزاحمت واضح طور پر ایک جعلی اور کھوکھلی مزاحمت ہے. حال ہی میں ہم نے دیکھا کہ تحریک انصاف کے ایک رہنما دو دن کی قید کے بعد ہی ٹوٹ گئے. وہ اپنی مصیبتوں پر واویلا کرتے اور پھوٹ پھوٹ کر روتے دکھائی دیے. یہ کسی بھی صورت ایک پروقار سیاسی رویہ نہیں ہے. پی ٹی آئی کے قائد عمران خان کا ایک انٹرویو بہت مشہور ہے جس میں وہ بیان کرتے ہیں کہ کیسے پولیس کے چھاپے پر وہ دس فٹ کی دیوار پھلانگ کر فرار ہو گئے. نہ صرف یہ بلکہ انٹرویو میں انہوں نے اپنے اس عمل کو اپنے لیے باعث فخر قرار دیا اور کہا کہ کوئی اور سیاسی رہنما ان کی عمر میں ایسا نہیں کر سکتا تھا.
دور حاضر میں ظلم اور جبر کے خلاف حوصلے اور استقامت کے ساتھ ڈٹ جانے والے ایک شخص علی وزیر ہیں. انہوں نے ہمیشہ ہر تکلیف کا مقابلہ پروقار طریقے سے کیا ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ آدرشوں کی سیاست کرتے ہیں. ان کی سیاست مزاحمتی، پختہ، مسلسل اور مستقل مزاج ہے.
مظلوم بلوچ، پختون اور سندھی قوموں کے افراد آئے روز لاپتا کر دیے جاتے ہیں. ان میں سیاسی ہی نہیں بلکہ غیرسیاسی لوگ بھی شامل ہوتے ہیں. ان کی رہائی پر ہمیں ان سے اطلاعات ملتی رہتی ہیں کہ دوران قید ان پر ڈھائے گئے مظالم کی نوعیت کیا ہوتی ہے. ان میں سے اکثر افراد کے ساتھ وہی غیرانسانی سلوک کیا جاتا ہے جس کا ذکر عمران خان نے حال ہی میں اپنی تقاریر میں کیا. عمران خان کے بیانات کا یہ فائدہ ضرور ہوا ہے کہ لوگوں کو اب ان رازوں کا پتا چل گیا ہے. شہباز گل کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ عمران خان کے انکشافات کے بعد وہ اگر غیرت مند ہیں تو کبھی اس ملک میں دوبارہ سر اٹھا کر نہیں چل سکیں گے. ہم سمجھتے ہیں کہ وہ سر اٹھا کر نہیں چل سکیں گے لیکن اس کی وجہ ان پر توڑے گئے مظالم نہیں بلکہ ان کا وہ ردعمل ہے جو انہوں نے ان مظالم پر عوام کے سامنے دیا ہے. سچ یہ ہے کہ انہوں نے پاکستان میں پروقار مزاحمتی اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست کا منہ کالا کر دیا ہے.
فیس بک کمینٹ

