Close Menu
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
Facebook X (Twitter)
پیر, جون 8, 2026
  • پالیسی
  • رابطہ
Facebook X (Twitter) YouTube
GirdopeshGirdopesh
تازہ خبریں:
  • آزاد کشمیر : عوام اور پولیس میں جھڑپیں، تین پولیس اہلکار ہلاک، 50 افراد زخمی: کمشنر راولاکوٹ
  • آزاد کشمیر میں تصادم سے گریز کی ضرورت : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • اسلام آباد میں ایک صحافی لاپتہ ہونے کی اطلاعات
  • گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکس : وسعت اللہ خان کا کالم
  • مظفر آباد ۔۔ کشمیر میں ہنگامے : عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد حراست میں لے لیے گئے
  • خلال سے بھی گئے اور خرام سے بھی گئے : وجاہت مسعود کا کالم
  • عرض الدین کی عرضداشت اور شیداں تندور والی : شاہدمجید جعفری کی مزاح نوشت
  • پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی پر پابندی عائد
  • پاکستان کے ساتھ نرمی ؟ برملا/نصرت جاوید کا کالم
  • معیشت کے بارے میں بے بنیاد دعوے : سید مجاہد علی کا تجزیہ
  • مرکزی صفحہ
  • اہم خبریں
    • عالمی خبریں
    • تجزیے
  • English Section
  • ادب
    • لکھاری
    • مزاح
    • افسانے
    • شاعری
    • کتب نما
  • کالم
  • سائنس و ٹیکنالوجی
  • علاقائی رنگ
    • پنجاب
      • لاہور
      • اوکاڑہ
      • خانیوال
      • پاکپتن
      • چکوال
      • جہلم
      • اٹک
      • گوجرانوالا
      • سیالکوٹ
      • گجرات
      • قصور
      • فیصل آباد
      • راولپنڈی
      • نارووال
    • سرائیکی وسیب
      • ملتان
      • ڈی جی خان
      • رحیم یار خان
      • لیہ
      • میانوالی
      • جھنگ
      • بہاول پور
      • راجن پور
      • مظفر گڑھ
      • وہاڑی
      • بہاول نگر
    • سندھ
      • کراچی
    • بلوچستان
      • کوئٹہ
      • ہرنائی
    • خیبر پختونخوا
      • شانگلہ
    • گلگت بلتستان
    • کشمیر
  • کھیل
    • پاکستان سپر لیگ
    • کرکٹ ورلڈ کپ2019
  • تجارت
  • جہان نسواں
  • وڈیوز
    • لایئوٹی وی چینلز
GirdopeshGirdopesh
You are at:Home»ادب»ڈاکٹر فاروق عثمان۔۔ اہلِ ملتان کی ناقدری کا کیسے شکار ہوئے ؟ : ڈاکٹر سید عامر سہیل کی یاد نگاری
ادب

ڈاکٹر فاروق عثمان۔۔ اہلِ ملتان کی ناقدری کا کیسے شکار ہوئے ؟ : ڈاکٹر سید عامر سہیل کی یاد نگاری

ایڈیٹراکتوبر 12, 2023114 Views
Facebook Twitter WhatsApp Email
farooq usman
Share
Facebook Twitter WhatsApp Email

وہ یقیناً ایک غیر معمولی دانش اور حساسیت کا حامل انسان تھا۔ اپنی علمی بصیرت،تجزیاتی فکر اور خالص تنقیدی پیرائیہ اظہار ایسی سبھی خوبیوں کا مکمل ادراک ہونے کے باجود وہ نہایت عام بلکہ عجز آمیز رویوں کے ساتھ اپنی واضح موجودگی پر اپنی لاموجودگی کو ترجیح دیتا تھا۔ وہ ملتانی رنگ میں رنگا ایسا کردار تھا جو یہاں کی زمین، گلیوں، محلوں، ممٹیوں، جھروکوں، راستوں اور زبان کی شناوری کے باوجود یہاں کی دھرتی کتھا میں گم ہو جانے والا کردار تھا یا پھر ہم سب نے مل کر اسے اس کتھا سے بے دخل کر دیا تھا۔کچھ اپنی غیر ضروری عاجزی، کچھ حالات و واقعات کے جبر اور زیادہ تر یہاں کے لوگوں کی بے قدری اور نظر انداز کر دینے والے رویوں نے اسے تنہائی اور گوشہ نشینی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا یا کیا گیا اس کا حساب مانگنے کے لیے وہ آج خود تو موجود نہیں تاہم یہ بات طے ہے کہ وہ ملتان کا اکلوتا خالص نقاد تھا اور یہاں کا ادبی اتہاس اس کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔
پروفیسر فاروق عثمان سے میری پہلی ملاقات کب اور کہاں ہوئی ٹھیک طرح سے یاد نہیں شاید زمانہ طالب علمی میں میں نے انھیں دور سے دیکھا ہو کہ جب میں گورنمنٹ کالج ملتان (حال ایمرسن یونیورسٹی ملتان) کا طالب علم تھا اور فاروق عثمان شاید اُن دنوں گورنمنٹ کالج آف سائنس، ملتان میں پڑھایا کرتے تھے تاہم یہ بہت اچھی طرح یاد ہے کہ پہلی بار انھیں اردو اکادمی ملتان کی ہفت روزہ تنقیدی نشستوں میں باقاعدہ دیکھا بھی، سنا بھی اوراُن سے ملاقاتوں کا موقع بھی ملا۔درمیانہ قد، متناسب ڈیل ڈول، کشادہ پیشانی، چھوٹی مگر گہری آنکھیں جن پر نظر کا چشمہ ٹکا ہوتا تھا، سانولی رنگت جو وقت کے ساتھ نسبتاً کچھ گہری ہو گئی تھی۔ لباس سادہ مگر نہایت صاف ستھرا، میں نے شلوار قمیض کے علاوہ انھیں عموماً پتلون اور ڈھیلی شرٹ میں دیکھا، ترتیب سے سنوارے گئے بال جن میں اترتی ہوئی چاندنی جو وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی، متناسب چہرہ جسے اچھی طرح شیو کیا جاتا تھا مگر بعد میں شیو کے جھنجھٹ سے آزاد ہو کر انھیں نے ہلکی سے داڑھی رکھ لی تھی، قدرے دھیما مگر جما ہوا اندازِ تکلم، بے تکلف گفتگو کرتے تو زیادہ تک مسکراتے مگر اچھے جملے پر کھل کر قہقہ لگاتے، سنا تھا پائپ اور سگریٹ کے رسیا تھے مگر جب میں نے انھیں دیکھا تو وہ اس عادت کو ترک کر چکے تھے۔ کم گو تو تھے ہی آخری دنوں میں پے در پے سانحات نے انھیں گم آمیز بلکہ گوشہ نشینی اور تنہائی کا شکار کر دیا تھا۔یہ تھے ہمارے فاروق عثمان جنھیں ادبی حلقوں میں پروفیسر ڈاکٹر فاروق عثمان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
ملتان کے ادبی حلقوں میں وہ کس انداز سے متحرک تھے یہ روداد تو ان کا کوئی دوست یا ہم عمر ہی بتا سکتا ہے تاہم میں نے انھیں اردو اکادمی ملتان کے اجلاسوں میں سر گرم دیکھا ہے۔ اردو اکادمی کا وہ زمانہ بھی کیا خوب زمانہ تھا کہ ملتان کے سینئر ادیبوں کے علاوہ نوجوان لکھاری اور ہم جیسے نو واردانِ ادب سبھی شریک ہوا کرتے تھے۔ معیاری تخلیقات کے ساتھ ساتھ گفتگو کے طویل سلسلے اور تیز و تند مباحث ان اجلاسوں کی شناخت تھے یہاں تک کہ اگلے اجلاس تک گفتگو کی باز گشت سنائی دیتی تھی اور اخبارات کے ادبی ایڈیشنز میں اجلاس کی روداد کے ساتھ رد عمل بھی شائع ہوا کرتے تھے۔ انہی اجلاسوں میں لطیف الزماں خاں، صلاح الدین حیدر اور ممتاز اطہر کے تیز جملے، عرش صدیقی، ڈاکٹر انوار احمد،خالد سعید، عبدالرؤ ف شیخ، فیاض تحسین، مبارک مجوکہ، انور جمال اور علمدار حسین بخاری کی اشاراتی مگر مدلل گفتگو، فرخ درانی کی طویل تمہیدی تقریر، مرزا ابن حنیف اور خادم علی ہاشمی کی دھیمی تر ہوتی آواز، نعیم چودھری اور اے کے درانی کے لطائف و چٹکلے، اصغر علی شاہ کی حتمی آراء، ارشد ملتانی، سلطان صدیقی اور محمد امین کی حوصلہ افزائی کے ساتھ ساتھ ڈاکٹر شمیم حیدر ترمذی اور فاروق عثمان کے منطقی اور خالص تنقیدی اظہاریے ان اجلاسوں کے معیار کو پاکستان کے ادبی حلقوں کے معیار سے ممتاز تر بنا رہے تھے۔ ہم ایسے طالب علموں کے لیے بھی اردو اکادمی کسی نعمت سے کم نہیں تھی کہ وقتاً فوقتاً نوجوانوں کو پڑھنے کا موقع مل جاتا تھا۔ یہ شاید 86۔1985ء کا سن ہو گا کہ مجھے اردو اکادمی کے اجلاس میں اپنا پہلا مضمون برائے تنقید پیش کرنے کا موقع ملا اور مضمون کا عنوان تھا ”اردو غزل میں تصوف کا رنگ“۔ مضمون کے اختتام پر دی جانے والی آراء میں نمایاں ترین رائے فاروق عثمان کی تھی جنھوں نے اہم نکات پر نہ صرف گرفت کی بلکہ نوجوان ہونے کے ناتے حوصلہ افزائی بھی کی۔
اردو اکادمی ملتان بنیادی طور پر خالص ادبی تنظیم تھی جو طویل عرصہ سے اردو ادب کی ترویج کا کام کر رہی تھی۔ ساٹھ کی دہائی میں اکادمی کے قیام کے بعد بہت سے لوگ اس سے وابستہ رہے۔کسی بھی طرح کی نظریاتی وابستگی کے بر خلاف ہر نقطہ نظر کے حامل ادیب، شاعر، نقاد، استاد اور طالب علم اس میں شریک رہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ بعض لوگ تنظیمی، شخصی یا مصلحت کوشی کی بنیاد پر اکادمی سے الگ بھی ہوتے رہے تاہم ہر دور میں نئے لوگ اس قافلے میں شامل ہوتے گئے۔ میں اور میری نسل کے لوگوں نے اسّی کی دہائی کے نصف آخر سے اکادمی کے بزرگوں اورنوجوانوں کو دیکھا ہے اور یہ انھی دنوں کا قصہ ہے۔ ضیاع مارشل لا اپنے پورے جوبن پر تھا اور ملک میں ہر چیز کو اسلامیانے کا جنون طاری تھا۔ نجی و قومی ادارے، شخصیات، نصابات،فنون لطیفہ، نظام ہائے زندگی سبھی کو مذہبی انتہا پسندی کے رنگ میں رنگا جا رہا تھا یہاں تک کہ ادب،موسیقی، فلم، ڈراما، مصوری سبھی کو مذہبی فوبیا کی نذر کر کے معتوب قراردیا جا رہا تھا اور مزاحمت کے ہر رنگ کے خلاف فتویٰ صادر کیے جا رہے تھے۔ افغان جنگ میں روس کے خلاف ہونے والی ڈالروں کی بارش میں امریکی مفادات کے تحفط کی خاطر کرائے کے لڑاکا تیار کرنے کی فیکٹریاں جہادیوں کی شکل میں تیار کر کے برامد کی جا رہی تھیں یہ سوچے بغیر کے آنے والے دنوں میں ڈالروں کی یہی بارش عوام کا سب کچھ بہا کر لے جائے گی۔ پرائی لڑائی کی خندقیں اپنے لوگوں کے خون سے بھرنے والے آج معتبر بھی ہیں اور طاقت ور بھی مگر حتمی نتائج آج ہم سب دیکھ رہے ہیں کہ یہ کشتی ابھی ڈوبی کہ ڈوبی۔ غرض وہ زمانہ ملک میں اپنے لوگوں کی تقسیم کا زمانہ تھا۔ مذہب، فرقہ واریت، زبان، قومیت، علاقایت غرض ہر طرح کی تقسیم کو روا رکھا گیا۔ یہی زمانہ دائیں اور بائیں بازو کی نظریاتی سیاست کا آخری زمانہ بھی تھا۔ خود ادبی سطح پر ترقی پسندی، جدیدیت، اسلامی ادب،امتزاجیت، خالص ادبیت وغیرہ ایسی بحثوں کا چلن تھا۔ اردو اکادمی اس حوالے سے منفرد تھی کہ یہاں ہر نقطہ نظر کا حامل شریک ہوا کرتا تھا۔ ذاتی طور پر ہم دوستوں کا ذہنی میلان بائیں بازو کی سیاست کی طرف تھا اس حوالے سے ادب میں ترقی پسندانہ ادب ہمارے ذہن و دل کے ہمیشہ قریب رہا اور فطری طور پر ان اساتذہ اور دوستوں سے قربت محسوس ہوتی رہی ہے جوہمارے نقطہ نظر کے قریب تر تھے۔ یہی وجہ تھی کہ اُس وقت اردو اکادمی میں ڈاکٹر انوار احمد، خالد سعید، صلاح الدین حیدر، ارشد ملتانی، ممتاز اطہر اور چند دیگر اساتذہ اور دوستوں سے ذہنی قربت کا احساس رہا تاہم فاروق عثمان کے حوالے سے یہ تاثر دیا گیا تھا کہ ان کا تعلق صالحین کی جماعت کے ساتھ ہے اور وہ ہمیشہ دائیں بازو والوں کے لئے نرم گوشہ رکھتے تھے۔ اس تاثر کے پیش نظر ذہنی طور پران کے ساتھ خود ساختہ دوری قائم رکھی گئی۔ اکادمی میں ہونے والی تنقید میں بھی وہ جب کسی ترقی پسندانہ فن پارے کا جائزہ لیتے ہوئے اپنے تاثرات بیان کرتے تو ہم خود سے ان کے جملوں سے معنی کشید کر لیا کرتے ہوئے ناپسندیدگی کی تیز لہر کی لپٹ میں ہوتے مگر ایک باطنی اعتراف اندر ہی اندر اپنی جگہ بناتا جاتا کہ بندہ ہے تو مخالف نظریے کا مگر بات بہت ٹھوس، منطقی اور مدلل کرتا ہے۔ فاروق عثمان کی اسی علمی دھاک کا اظہار ہم سبھی دوستوں کی محفل میں ابتداً ہلکے سروں میں اور بعد ازاں واشگاف الفاظ میں ہونے لگا اور پھر رفتہ رفتہ ان کے ساتھ بات چیت، اٹھنے بیٹھنے اور طالب علمانہ بے تکلفی سے ہم کلام ہونے کے بتدریج عمل میں یہ بات منکشف ہوئی کہ وہ نہ صرف صاحبِ مطالعہ اور صاحب الرائے ہیں بلکہ ایک نہایت نرم دل رکھنے والے اور محبت کرنے والے انسان ہیں۔ اس کا ایک نمونہ اردو اکادمی کے ایسے ہی ایک اجلاس میں دیکھا جب اجلاس شروع ہونے سے پہلے (یا شاید بعد میں) پروفیسر انور جمال مع فیملی کے لاہور جاتے ہوئے کار ایکسیڈنٹ میں شدید زخمی ہونے اور ان کے ایک فرزند کی ناگہانی وفات کی خبر پہنچی۔ 9 اگست 1991ء کے اس دن سبھی لوگوں کے لیے یہ ایک دل خراش خبر تھی۔کچھ احباب تو فوری طور پر ہسپتال کے لئے روانہ ہوگئے۔ اس موقع پر جن دو شخصیات کو شدید دکھی اور مضطرب دیکھا ان میں ایک ارشد ملتانی اور دوسرے فاروق عثمان تھے۔ فاروق عثمان کا یہ انسان دوست اضطراب میرے لیے حیرت کا باعث بھی تھا کیونکہ میں نے انھیں اپنی کم گوئی کے سبب کبھی بے ساختگی سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے نہیں دیکھا تھا۔اسی رویے نے ان کے ساتھ میری محبت اور عزت کو اعتماد بخشا۔
تو بات چل رہی تھی فاروق عثمان کے فکری نقطہ نظر کی تو سنے سنائے تاثر سے ہٹ کر جب عملی طور پر ان سے شنائی ہوئی اور انھیں سننے اور جاننے کا موقع ملا تو اندازہ ہوا کہ وہ شعر و ادب کی جمالیات کو تنقیدی تجزیہ میں اوّلیت دینے اور مقصدیت کو اس کے تابع رہنے کو اہمیت دیا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ان کا مسلک دوست داری بھی تھا۔ گورنمنٹ کالج آف سائنس کے زمانے میں وہ پروفیسر افتخار صاحب کے قریبی دوست تھے جن کا تعلق جماعت اسلامی سے تھا اور اسی پلیٹ فارم پر وہ پنجاب پروفیسرز اینڈ لیکچرر ایسوسی ایشن کی سیاست بھی کیا کرتے تھے۔ پروفیسر افتخار کے دوست ہونے کے ناتے ان کا ووٹ بھی انھی کی طرف جایا کرتا تھامگر سن 2000ء میں جب پی پی ایل اے پنجاب کے الیکشن ہوئے اور میں ملتان ڈویژن کے جوائنٹ سکریڑی کے طور پرالیکشن میں شریک ہوا تو تمام تر مخالفت کے باوجود فاروق عثمان نے مجھے ووٹ کاسٹ کیا جس کے سبب انھیں بہت سے دوستوں کے گلے شکوے بھی سننے پڑے۔ یاد رہے کہ میں نے انھیں ووٹ دینے کی درخواست بھی نہیں کی تھی اور نہ ہی انھوں نے مجھے یہ جتایا مگر جب سائنس کالج کا رزلٹ سامنے آیا تو باقی پینل کے مقابلے میں میرا ایک ووٹ زیادہ تھا۔ یقیناً یہ ووٹ فاروق عثمان کا تھاجس کا میں نے شکریہ ضرور ادا کیا۔ غرض دوستوں سے تمام تر فکری اختلاف کے باوجود انھوں نے دوستی کو مقدم رکھا یہی وہ رویہ تھا جو مجھے اپنے ہم خیال دوستوں میں بھی کم کم نظر آیا اور سچی بات تو یہ ہے کہ اس حوصلے کی خود مجھ میں بھی شدید کمی ہے۔
9 مارچ 1995ء میں جب ملتان آرٹس فورم کا قیام عمل میں آیا تو اس وقت اردو اکادمی کے ساتھ اختلاف عروج پر تھا۔یہ وہ دور تھا جب ہم پر ”فورمیے“ کی پھبتی کسی جاتی تھی تاہم چندبزرگوں کا رویہ نسبتاً بہتر تھا اور وہ اس بات کے خواہاں تھے کہ اکادمی اور فورم کا تعلق بہتر بنایا جائے۔ اوّلیں کوشش کرنے والے ان بزرگوں میں مرزا ابن حنیف، مبارک مجوکہ، ڈاکٹر عبدالرؤف شیخ اور ارشد ملتانی کے ساتھ فاروق عثمان کا نام بھی نمایاں تر ہے تاہم اکادمی کے کچھ بزرگوں کے سخت گیر رویے کے سبب یہ مرحلہ طے نہیں ہو سکا اور سچ بات تو یہ بھی ہے کہ تب تک فورم کے دوست بھی اکادمی کے ساتھ چلنے کو تیار نہیں تھے۔ اوپر بیان کی گئی شخصیات میں ارشد ملتانی اور فاروق عثمان دو ایسے بزرگ تھے جو بعد ازاں ملتان آرٹس فورم سے وابستہ رہے۔ فورم کو یہ بھی اعزاز حاصل ہے کہ ان دونوں شخصیات نے ملتان آرٹس فورم کی صدارت پرقبول کر کے اس عہدے کو اعتبار بخشا بلکہ فاروق عثمان غالباً سب سے طویل عرصہ تک فورم کے صدر رہے۔
فاروق عثمان کے دورِ صدارت میں فورم نے خاطر خواہ ترقی کی۔ تنقیدی محافل، مذاکرے، خصوصی نشستیں غرض ہر حوالے سے فورم نے آگے کی طرف سفر جاری رکھا۔ آغاز میں فورم کو نوجوانوں اور نو واردوں ٹھکانہ قرار دیا جاتا تھا تاہم فاروق صاحب اور ارشد ملتانی کے بعد بہت سے سینئر ادبا نے فورم کو عزت دی۔ دورانِ اجلاس ان کی گفتگو ہو یا پھر ان سے ہونے والی نجی محفلیں ہوں ہر جگہ ان سے سیکھنے اور ادب کو نئے تناظر ات میں پرکھنے کے اطوار سمجھنے کا موقع ملا۔ فورم کے ادبی مجلہ ”سطور“ کے لیے بھی ان کی قلمی محبت کا فیض جاری رہا۔ 1997ء میں شائع ہونے والے ”سطور“ کے پہلے شمارے میں ان کا لاجواب مضمون ان کی تنقیدی بصیرت کا شہکار ہے۔
جیسا کہ پہلے عرض کیا ہے کہ فاروق عثمان نہایت وسیع مطالعہ رکھنے والے نقاد اور استاد تھے۔ بالخصوص فکشن، تنقید اور کلاسیکی شاعری پر ان کی بڑی گہری نظر تھی۔ چونکہ تنقید ان کا ذریعہ اظہار تھی اس حوالے سے انھیں تنقیدی زبان کے استعمال، طریقہ کار اور نظریہ سازی میں اختصاص حاصل تھا۔ اردو تنقید میں وہ حسن عسکری کی روایت اور ان کے طرزِ استدلال کے قائل تھے۔ اردو، انگریزی اور سرائیکی زبانوں اور ان کے ادبیات پر ان کی گہری نظر تھی مگر انھوں نے لکھنے سے زیادہ پڑھنے اور گفتگو کرنے کو ترجیح دی۔ ان کی پہلی کتاب ”نکاتِ نظر“ کے نام سے شائع ہوئی جبکہ دوسری کتاب ”اردو ناول میں مسلم ثقافت بحوالہ خصوصی: عزیز احمد، انتظار حسین، قرۃالعین حیدر، خدیجہ مستور“ تھی جو ان کے پی ایچ ڈی کا شاندار مقالہ تھا۔ اس کے علاوہ انھوں نے ”دل گداز“ میں عبدالحلیم شرر کے مضامین کو چار جلدوں میں مرتب کیا۔ ان کے بہت سے مضامین ابھی غیر مددن ہیں نیز انھیں نے انگریزی زبان سے کئی تراجم بھی کیے ہیں۔ جوزف کانریڈ کی ایک کہانی ”آؤٹ پوسٹ آف پراگرس“ کا ترجمہ انھوں نے مجلہ ”انگارے“ کے لیے بھی کیا تھا جو فروری 2004ء کے شمارے میں شائع ہوا تھا۔ ان سے زیادہ تر ملاقاتیں محلہ قدیر آباد والی رہائش گاہ میں ہوئیں جہاں میں کبھی اکیلا اور کبھی شوکت نعیم قادری کے ہمراہ بن بلائے مہمان کی طرح وارد ہوتا۔ میر، قرۃالعین حیدر، عزیز احمد، حسن عسکری، سلیم احمد،جابر علی سید، معاصر ادب، ملتان اور ملتان کی ادبی سیاست اور نجانے کتنے موضوعات پر ہمارے نیم پختہ اور نیم خواندہ سوالات کا نہایت حوصلہ مندی کے ساتھ جواب دیتے رہتے یہاں تک کی وہ تھک جاتے اور ہم ان کی اَن کہی کو سمجھ کر ان سے اجازت طلب کرتے۔عمر کا آخری کچھ عرصہ انھوں نے اپنی نئی رہائش گاہ واقع کہکشان اسٹریٹ بوسن روڈ میں بسر کئے تاہم یہاں ان سے چند ایک ملاقاتیں ہی میسر آ سکیں۔ اپنوں کے بچھڑنے کے صدمات کے سبب وہ بہت کم گھر سے نکلتے اور ملاقات کرتے تھے گویا اب ان کی ہم راز ان کی تنہائی تھی۔ ادھر ملتان کے ادبی حلقوں نے بھی انھیں نظر انداز کیا۔ وہ کس پائے کے نقاد اور استاد تھے انھیں شعور و لا شعوری طور پر وہ مقام نہیں دیا گیا جس کے وہ حق دار تھے۔ المیہ ہے کہ اہل ملتان نے ایک بڑے نقاد اور استاد کو کھو دیا۔
ماضی کو تو میں نہیں جانتا اس بارے میں تو ان کے ہم رکاب ہی بتا سکتے ہیں مگر جتنا میں نے انھیں دیکھا ہے وہ بظاہر کم آمیز نظر آتے تھے مگر اپنی ذات میں وہ محبت کرنے والے اور دوسروں کی بات توجہ سے سننے والے انسان تھے۔ میں نے انھیں کبھی غصے میں نہیں دیکھا تاہم اپنا زاویہئ نظر صاف اور واضح الفاظ مین بیان کرنے کی قدرت اور حوصلہ رکھتے تھے۔ ملتان میں ان کی سب سے زیادہ قربت اور محبت جابر علی سید سے رہی جن کے ساتھ ان کا دوستی سے زیادہ عقیدت کا رشتہ تھا۔ اس کے علاوہ ادبی دوستوں کے ساتھ ان کا زیادہ تر وقت تاج ہوٹل واقع نواں شہرمیں گزرتا جہاں ارشد ملتانی، اصغر علی شاہ، مبارک مجوکہ، نجم الاصغر شاہیا، ڈاکٹر محمد امین، اے کے درانی، ظہور شیخ کے علاوہ کچھ نوجوان شریک ہوتے تھے۔ مجھے خالد سعید کے ہمراہ دوچار مرتبہ ہی تاج ہوٹل میں ان سے مختصر ملاقات کا موقع ملا مگر ہم اپنے مدار یعنی آرٹس فورم اور گول باغ سے باہر نہ نکل سکے۔ 2007ء میں سرگودھا ہجرت کرنے بعد فاروق عثمان سے ملاقاتوں کا یہ سلسلہ موقوف ہو گیا۔ چار چھ ماہ بعد جب کبھی ملتان آنا ہوتا تو اتقافاً بیکن بکس یا کسی جگہ کوئی سرسری ملاقات ہو جاتی تھی تاہم دوستوں سے بات چیت کے دوران ان کا تذکرہ رہتا اور ان کی گوشہ نشینی کی اطلاع ملتی رہتی۔ 2018ء میں سرگودھا ہی کے بن باس کے دوران یہ اندوہ ناک اطلاع ملی کہ وہ اُس مالک کے حضور پیش ہو گئے ہیں جس کے سامنے ساری مخلوقات کو پیش ہونا ہے۔ ملتان میں تحقیق و تنقید کا ایک در بند ہوا، علم و دانش کا ایک اور چراغ گل ہوا۔
چراغ بجھتے چلے جا رہے ہیں سلسلہ وار
میں خود کو دیکھ رہا ہوں فسانہ ہوتے ہوئے
فاروق عثمان اردو ادب کی روایت میں بالعموم اور ملتان کی تنقیدی روایت میں بالخصوص روشن تر باب تھے۔ وہ اپنے عمر بھر کے مطالعہ کا فیض ہم جیسوں کے لیے ارزاں کرتے رہے۔ وہ مکالمے کے انسان تھے جسے انھوں نے ساری زندگی جاری رکھا۔ افسوس ان کی دانش اور بصیرت سے بڑے ادارہ جاتی سطح پر فائدہ نہیں اٹھایا گیا۔ وہ جس سطح کے صاحبِ فکر تھے انھیں لاشعوری سے زیادہ شعوری سطح پر نظر انداز کیا گیا۔ ایسی ناسازگار کیفیات اور نامساعد حالات میں بھلا کوئی حساس انسان کب تک سانس لے سکتا تھا۔ جہاں نااہلوں کی قدر اور اہل علم کی ناقدری کی جاتی ہو وہاں ترقی کا خواب تو عبث ہے۔ بس زوال ہی زوال ہے اور یہ ہوا بھی اپنوں ہی کے ہاتھوں ہے۔
ابلہاں راہ ہمہ شربت ز گلاب و قند است
قوتِ دانا ہمہ از خونِ جگر می بینم
اسپِ تازی شدہ مجروح بہ زیر پالاں
طوقِ زریں ہمہ در گردنِ خر می بینم

فیس بک کمینٹ

  • 0
    Facebook

  • 0
    Twitter

  • 0
    Facebook-messenger

  • 0
    Whatsapp

  • 0
    Email

  • 0
    Reddit

#girdopesh اردو اکادمی فاروق عثمان
Share. Facebook Twitter WhatsApp Email
Previous Articleاعصاب شکن بریکنگ نیوز : جب جنرل پرویز مشرف نے جمہوریت کی بساط لپیٹی ۔۔ رضی الدین رضی کی یاد نگاری
Next Article حامد میر کا کالم:پاکستانیوں کا فلسطین سے رشتہ کیا؟
ایڈیٹر
  • Website

Related Posts

امن معاہد ہ کی امید، اندیشے اب بھی موجود ہیں : سید مجاہد علی کا تجزیہ

اپریل 19, 2026

حکومت کا پٹرولیم نرخوں میں مزید اضافے سے گریز ۔۔ مگر کب تک ؟ برملا / نصرت جاوید کا کالم

مارچ 16, 2026

تل ابیب میں کلسٹر بم حملوں میں متعدد افراد زخمی: اسرائیلی ایمرجنسی سروسز

مارچ 15, 2026

Comments are closed.

حالیہ پوسٹس
  • آزاد کشمیر : عوام اور پولیس میں جھڑپیں، تین پولیس اہلکار ہلاک، 50 افراد زخمی: کمشنر راولاکوٹ جون 8, 2026
  • آزاد کشمیر میں تصادم سے گریز کی ضرورت : سید مجاہد علی کا تجزیہ جون 8, 2026
  • اسلام آباد میں ایک صحافی لاپتہ ہونے کی اطلاعات جون 7, 2026
  • گلگت بلتستان کا لکی سیاسی سرکس : وسعت اللہ خان کا کالم جون 7, 2026
  • مظفر آباد ۔۔ کشمیر میں ہنگامے : عوامی ایکشن کمیٹی کے 72 افراد حراست میں لے لیے گئے جون 7, 2026
زمرے
  • جہان نسواں / فنون لطیفہ
  • اختصاریئے
  • ادب
  • کالم
  • کتب نما
  • کھیل
  • علاقائی رنگ
  • اہم خبریں
  • مزاح
  • صنعت / تجارت / زراعت

kutab books english urdu girdopesh.com



kutab books english urdu girdopesh.com
کم قیمت میں انگریزی اور اردو کتب خریدنے کے لیے کلک کریں
Girdopesh
Facebook X (Twitter) YouTube
© 2026 جملہ حقوق بحق گردوپیش محفوظ ہیں

Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.