زندگی کی سب سے بڑی حقیقت غیر متوقع واقعات کا اچانک سے وقوع پزير ہو جانا ہے ۔۔۔سب کچھ معمول کے مطابق چل رہا تھا جب بابا کی اچانک طبیعت ناساز ہوئی تشخيص اور علاج، دوا اور ایمرجنسی سرجری کی ذہنی اور جسمانی پریشانی نے جہاں ہم سب کو متاثر کیا وہاں نور پر بھی گہرا اثر آيا۔۔۔میں چونکہ زیادہ وقت بابا کو ہسپتال لے کر جانے آنے اور وہیں رکنے میں مصروف تھی فلزا کی باتیں باقی گھر والوں کے ذریعے مجھ تک پہنچتیں۔۔۔
نور کو اداس دیکھ کر بی بی جان نے کہا کہ کیوں پریشان بیٹھی ہو۔۔۔جواب آيا جس بیٹی کے بابا بیمار ہوں وہ پریشان نہ ہو گی تو کیا ہو گی؟ماموں نے اپنے غم کو نور کے ساتھ کم کرنے کی غرض سے کہا نور بیٹھے بیٹھے کیا پریشانی آگئی ہے۔۔۔جھٹ جواب آیا ماموں جان پریشانی آتی بھی اللہ کی طرف سے ہے جاتی بھی اللہ کی مرضی سے۔۔۔میں پورا دن بابا کے ساتھ تھی رات بابا کے ساتھ رکنے سے پہلے گھر کھانا کھانے اور نور کو ملنے آئی تو نور نے بڑے بابا کے نام اہم پیغام مجھے نوٹ کروایا۔۔بابا کو کہنا ڈاکٹر کے بابا بن کر رہیں۔۔۔ڈاکٹر ہمت والے ہوتے ہیں تو جن بابا نے ڈاکٹر کو ڈاکٹر بنایا ان کو زيادہ ہمت والا ہونا چاہیے۔۔۔مشکل کے اس وقت میں ان سب دوستوں کا چھوٹوں کا بڑوں کا بے حد شکریہ جنہوں نے میرا ہاتھ بٹایا۔۔۔حوصلہ بڑھایا جب حالات الجھے الجھے تھے اس وقت میں معاملات کو سلجھایا۔۔۔ان لوگوں کا زیادہ شکریہ جنہوں نے مشکل میں خود غرضانہ رویہ اپنایا۔۔۔خوشی ہوئی کہ اس بہانے آپ نے اپنا اصل چہرا دکھایا۔۔۔
فیس بک کمینٹ

