سب سے زیادہ ہنسنے والے اکثر بہت زيادہ غموں کو سینے میں دفناۓ بیٹھے ہوتے ہیں۔۔۔ڈھیروں باتوں اور کہانیوں کی آوازوں میں اپنی روحوں کی آہ و فغاں کو دباتے ہیں۔۔ سانس رکتا ہے دل ٹوٹا جاتا ہے پھر بھی کام چلاۓ جاتے ہیں۔۔۔۔
ہمارے وارڈ کے ایک مہربان صفت ڈاکٹر ہیں جو خود کو بہت سیدھا سادہ اور کام کے متعلق ہر فکر سے آزاد ہونے کا اظہار کرتے نظر آتے تھے۔۔۔مگر ان کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا تو جانا کہ یہ تو بس خوبیاں چھپانے کا بہانہ تھا۔۔۔گوہر نایاب کو کتنا ہی چھپا لیں اس کی صفات روز روشن کی طرح مظہر ہوتی ہیں۔۔۔ہمیں بھی واسطہ پڑنے پر معلوم ہوا کہ جہاں باقیوں کی ہمت ختم ہوتی ہے ڈاکٹر صاحب کی مریضوں سے ہمدردی اور ایمان داری شروع ہوتی ہے۔۔۔کام زیادہ ہو جاۓ یا کوئی فضول بات سنا جاۓ ہنس کر ٹال دیتے ہیں لیکن مریض کے ساتھ زیادتی ہوئی ہو تو اس کے ساتھ والوں کو بھی ڈانٹ دیتے ہیں۔۔۔دائمی مرض کا شکار ہونے والے افراد اکثر سب سے ناراض ہوتے ہیں اور پھر موذی چيزوں کے استعمال سے پرہیز پر بھی آمادہ نہیں ہوتے۔۔۔ڈاکٹر صاحب پیار سے ، اردو میں، سرائيکی میں ،امثال سے سمجھاتے ہیں اگر کوئی نہ مانے تو پھر کسی اور ڈاکٹر کے ذمے لگاتے ہیں۔۔۔۔ڈاکٹر صاحب کی عادت ہے کہ ان کو دن رات کے کسی حصے میں اپنے ذاتی یا وارڈ کے کسی مریض کے لیے تنگ کرو برا نہیں مانتے اور حتی الامکان مدد کرتے ہیں۔۔۔چونکہ قابل ہیں تو ان کے مشورے ہم جونئيرز کے لیے تو سند سے کم نہیں ہوتے اس لیے وہ جسے بھی کہیں وہ ان کے کام آنے کو انکار نہیں کر سکتا۔۔۔۔حال ہی میں ڈاکٹر صاحب نے میٹرک کی ایک طالبہ کو شدید علیل حالت میں داخل کیا۔۔۔بچی پندرہ برس کی عمر کے برعکس آٹھ دس سالہ بچی کی جسامت رکھتی ہے۔۔۔کمزور بدن پر تیکھے نقوش اور بڑی بڑی نمایاں آنکھیں۔۔۔ہاتھوں اور پاوں کی انگلیاں سانس کی طویل علالت کی چغلی کھاتی ہیں۔۔۔بچی عرصہ دراز سے سانس پھولنے کی شکایت کا شکار تھی لیکن اپنی صحت سے لاپرواہی مریضہ کو اس حالت تک لے آئی کہ اس کی رنگت نیلی پڑگئی اور اس کے خون میں آکسیجن کی مقدار خطرناک حد تک گر گئی تھی۔۔۔بچی نے طوطے پال رکھے ہیں اور سکول سے گھر آکر اس کا زیادہ وقت طوطوں کے درمیان گزرتا ہے۔۔۔بچی کے علاج اور بیماری کی تشخيص کے عمل سے معلوم ہوا کہ بچی کو سانس کی ایسی بیماری ہے جو پرندوں بالخصوص کبوتر اور طوطے سے الرجی ہونے کی صورت میں لاحق ہوتی ہے۔۔۔
ہمارے ڈاکٹر صاحب جو شاذونادر غصہ کرتے ہیں بچی کے حال سے اس قدر پریشان اور مستقبل کے لیے متفکر ہیں کہ بچی کے والدین سے بھی ان کے لاپرواہی پر ناراض ہوۓ۔۔خود بھی صبح و شام مریضہ کو سمجھا رہے ہیں اور ہم سے بھی کہتے رہتے ہیں کہ اپنی اپنی ڈيوٹی میں اس کو سمجھائيں۔۔۔۔آج کی ڈائری ڈاکٹر صاحب کے نام ۔۔۔شاید کوئی سمجھ پاۓ ہم ڈاکٹروں کا پیغام کہ سانس کی الرجی اور دمے کا بہترین علاج الرجی والی چيزوں سے دوری ہے پھر بے شک وہ کتنا ہی اہم ہو یا غیر ضروری ہو۔۔۔۔
فیس بک کمینٹ

