خیبر پختون خوا کا معاشرتی وجود قبائلی رویوں سے متشکل ہے ۔قبائلی لوگ اپنے بہت سے معاملات میں روایت پرست ہوتے ہیں۔مذہب،زن،زمین اور زر کے معاملات کو جس طرح یہ لوگ دیکھتے ہیں شاید ہی کسی اور نظام کے لوگ دیکھتے ہوں،دوستی اور دشمنی ؛وفا اور جفا کے پیمانے ان کے اپنے ہیں،جہاں ڈٹ گئے وہاں چٹان بن گئے،گزرے تو جاں سے گزر گئے۔انانیت حد سے آ گے اور ذات کی مرکزیت میں بھی منفرد۔بطور خاص عورت کے معاملے میں پرلے درجے کے غیرت مند،کئی مقامات پر کمپرومائز ہو جاتے ہیں پر عورت کی بے پردگی اور اس کے کھلے پن کو آ سانی سے قبول نہیں کرتے۔عورت کی تعلیم ہو یا اس کے پردے کا ایشو،پٹھان کے اپنے قاعدے اور قانون ہیں۔قبائلی معاشرے میں ایسے ایشوز صدیوں سے موجود ہیں۔عورت کو تعلیم دلانا یا اس کا سماجی سطح پر نمایاں ہونا عرصہ دراز سے ایک بنیادی سوال رہا ہے ۔لیکن لمحہ موجود میں سوشل میڈیا،جدید تعلیم،الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا نے صدیوں کے جمود میں ایک ارتعاش پیدا کر دیا ہے ۔اب قبائلی معاشروں کی عورت اتنی باشعور ہو گئی ہے کہ وہ اپنے اچھے برے کو سمجھنے لگی ہے ۔سناٹوں میں اس کی آواز سنائی دینے لگی ہے ۔اس کی تابندہ مثال کے پی کے کی ہونہار شاعرہ محترمہ طاہرہ غزل مروت کے کلام سے دی جاسکتی ہے ،وہ کہتی ہیں:
میرا ہے اس قبیل کے لوگوں سے واسطہ
لہجوں میں جن کے شور ہے لفظوں میں خامشی
طاہرہ غزل مروت ایک پٹھان زادی ہیں۔ان کے شعری مجموعے کا عنوان”بند لبوں کی گویائی”معنی خیز ہے ۔اس مجموعے کا”اظہاریہ” غزل کی صنف میں ہوا ہے ۔ان کی غزلوں کے اشعار میں بے باکی، سرکشی اور باغیانہ لہجہ نمایاں انداز میں نمایاں ہے :
میری دانست میں وہ وقت بھی آ ئے گا ضرور
سرمئی شام اجالے کا حوالہ ہو گی
چار سو چھا گئی ہے تاریکی
آ پ کہتے ہیں دن کا منظر ہے
اگرچہ سب حقیقت جانتی تھی
مگر اظہار پر قدغن لگی تھی
ہے مکافات کا خدشہ ورنہ
کون اس مہربان سے ڈرتا ہے
طاہرہ غزل مروت،کے بند لب اب گویا ہونے لگے ہیں،یہ بند لب فقط طاہرہ کے نہیں بلکہ روایتوں اور رسموں سے اٹی سوسائٹی کی ہر لڑکی کے "لب” ہیں، جنھیں اب قوت گویائی نصیب ہو رہی ہے ۔اس گویائی کے حصول کے لیے یہاں کی عورت نے بہت دکھ جھیلے ھیں،اس سفر میں کیسے کیسے نوکیلے کانٹوں نے صنف نازک کے پاوں مجروح کیے ھیں، انھیں دکھوں کی کتھا میں تلاشنا ہو گا۔دکھ کی اس کتھا میں کئی ملالوں کے کردار پنہاں ہیں۔اکثر کردار تو کسی جھوک،کسی بند مکان ،کسی جھونپڑی یا پھر قبائلی قافلوں ہی میں مر کھپ گئے ہیں۔ان کی آ وازیں سناٹوں ہی میں دب کر رہ گئی ہیں۔ان آ وازوں کو طاہر غزل مروت جیسا اعتماد جو حاصل نہیں تھا:
میں تو خود سے گزرنے والی تھی
پر بچانے لگی انا مجھ کو
"انانیت”سے مملو معاشرے میں انا ۰ی انسان کو تحفظ بخشتی ہے ،ہر آ واز سن کر ہاتھ کھڑے کرنے والے لوگ گمنامی اور مظلومیت کی زندگی جیتے ہیں۔طاہرہ غزل کو ایسی مریل زندگی قبول نہ تھی تو اس نے پوری تمکنت سے اپنے لبوں کو باوقار گویائی سے آ شنا کر دیا:
میرا باطن بھی اس سے مزین ہوا
بن گئی جب مری زندگی روشنی
یہ "روشنی” خودی، انا اور وقار کی علامت ہے جس نے طاہرہ کے لبوں کو گویائی کا اذن دیا۔اب یہ اذن اس کے ماحول کے ہر نسائی کردار کی شخصیت کا خاصہ بننے جا رہا ہے ،وہ کہتی ہیں :
نئی رتوں کا میں ایک امکاں
میں اگلی نسلوں کا نقش پا ہوں
امکانات سے مالا مال یہ شاعری کے پی کے کی عورت کے تخلیقی امکانات کی خبر دے رہی ہے کہ صدیوں سے مروجہ روایتوں اور رسموں میں دبی عورت اب جاگ اٹھی ہے ،اب یہ اپنے وجود اور ذات کی شناخت چاہتی ھے۔اب اس کے بند لبوں نے گویائی کا ذائقہ چکھ لیا ہے ۔زیر نظر یہ شعری مجموعہ معاصر عورت کے مائنڈ سیٹ کا لطیف پیرائے میں فنکارانہ "اظہاریہ” ہے۔۔
فیس بک کمینٹ

