انصاف کی تعریف اور تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنا انسان کا وجود بلکہ اس سے بھی بہت پہلے جب انسان کا وجود تھا ہی نہیں کیونکہ انصاف کا تعلق اللہ تعالیٰ کی ذات سے ہے۔اور ہم انسان ہوتے ہوئے بے اختیار اور بغیر کسی شک کے کہتے ہیں کہ خدا برحق انصاف کا خدا ہے اور وہ کبھی کسی سے ناانصافی نہیں کرتا۔انصاف کا ترازو اس کے ہاتھ میں ہے اور کبھی کم یا زیادہ نہیں تولتا یہ صرف اس وقت ہوتا جب یہ ترازو انسانوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے ۔تارنح گواہ کہ صرف اسی بادشاہ اور قاضی کو رعایا پسند کرتی تھی اور ان کے لبوں سے اس کے لئے دعائیں نکلتی تھیں جو انصاف کے ترازو کو ہاتھ میں رکھتے تھے۔اور دنیا آج بھی انہیں یاد کرتی ، اور ان کی مثالیں دیتی ہے ،اسی انصاف کے ترازو کی تصاویر دنیا بھر کی عدالتوں میں نظر آتی ہیں ۔لیکن اس کی عزت اور تقدس کو برقرار رکھنا ہر کسی کے بس میں نہیں ۔۔۔۔
چلئے میں مزید اس بحث میں نہیں جاتا کیونکہ بات لمبی ہو جائے گی۔چند روز پہلے امریکہ کے ایک جج فرینک کیپریو۔(Frank Caprio)۔۔کی وفات ہوئی ہے انہیں لبلبے کا کینسر تھا اور وہ ایک ہسپتال میں زیر علاج تھے۔جن کی عمر 88 برس تھی، ہنستا مسکراتا چہرہ۔۔۔۔عدالت میں ان کے ماتھے پر کبھی کوئی شکن نہیں دیکھی ہر مقدمے،ہر فیصلے کو شائستہ لب ولہجہ میں انصاف کے ترازو میں تولنا ان کی سرشت میں شامل تھا۔مجرم اور مدعی اور فیصلہ سننے والے سبھی کے چہرے گل و گلزار رہتے تھے اور کوئی ان کے فیصلے سے غیر مطمئن نہیں ہوتا تھا۔۔۔مثالیں بہت ہیں لیکن میں صرف ایک مثال دینا چاہتا ہوں ۔
ایک بار ایک مقدمہ ان کے سامنے پیش ہوا کہ ایک دس بارہ سال کے بچے کو عدالت میں پیش کیا گیا جس نے ایک بیکری سے ڈبل روٹی چرائی تھی۔جب فرینک نے اس سے پوچھا کہ تم نے ڈبل روٹی کیوں چرائی۔بچے نے بتایا سر میری ماں عرصہ سے بیمار ہے اس کیلئے دوائی کے بھی پیسے نہیں۔۔۔وہ دو دن سے بھوکی ہے اور دوا بھی میسر نہیں میں اپنی ماں کو بچانا چاہتا تھا ۔۔۔۔میں اعتراف کرتا ہوں میں نے جرم کیا ہے ڈبل روٹی چرائی ہے سر۔۔۔۔۔فرینک کی آنکھوں میں آنسو تھے اور عدالت میں موجود سب لوگ بھی نم ناک۔فرینک نے فیصلہ سنایا۔”یہ بچہ نہیں ہم سب مجرم ہیں ہم سب نے اسے اس حالت میں پہنچانے کا جرم کیا ہے۔اور اسی وقت اپنی جیب سے دس ڈالر نکالے اور حکم صادر کیا کہ جیتے لوگ عدالت میں موجود ہیں دس دس ڈالر میری میز پر رکھ دیں اور یہ سب اس بچے کے گھر پہنچائے جائیں ۔اور پھر سب نے دس دس ڈالر ایک جگہ جمع کئے اور اس بچے کو ڈالرز کے ساتھ گھر پہنچایا ۔خوبصورت بات یہ تھی کہ کسی کے چہرے پر ناگواری کے آثار نہیں تھے بلکہ ہر کوئی محسوس کر رہا تھا کہ انہوں نے ایک اچھا اور نیک کام کیا ہے اور ہمیں کرتے رہنا چاہیے ۔
آج جج فرینک اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔لیکن وہ ہمدردی ،ایثار اور عدل کے انمٹ نقوش چھوڑ گئے ہیں ۔حقیقت میں ججع فرینک جیسے لوگ مرتے نہیں ہمیشہ ز ندہ رہتے ہیں۔ بس انہوں نے ہسپتال سے دعاؤں کی درخواست کے ساتھ آخری پیغام دیا کہ” اگر میری ذندگی سے کسی ایک کی بھی مدد ہوئی ہےتو میری زندگی کامیاب ہے”
فیس بک کمینٹ

