مخصوص نشستوں کے فیصلے کے بعد حکمران جماعت کی پارلیمانی پوزیشن مستحکم ہوئی ہے۔ ایسے میں تحریک انصاف کا یہ خواب پورا ہوتا دکھائی نہیں دیتا کہ وہ موجودہ حکومت کو کسی احتجاج یا سول نافرمانی کے ذریعے ہٹا لے گی ۔یا کسی بھی طور حکومت کو عمران خان کی رہائی پر آمادہ کرلے گی۔ ایسے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ پاکستان تحریک انصاف کا مستقبل کیا ہے اور کیا یہ جماعت مستقبل کی سیاست میں فیصلہ کن کردار ادا کرسکے گی؟
اس سوال کا جواب خود پی ٹی آئی کے اپنے ہاتھ میں ہے۔ اگر پارٹی قیادت اپنی ساری صلاحیت اور قوت عمران خان کو رہا کرانے اور احتجاج کے ذریعے نظام معطل کرنے کی خواہش کی تکمیل پر ہی صرف کرتی رہی تو اس کا نتیجہ بھی ماضی قریب میں پیش آنے والی ناکامی ہی کی طرح نکلنے کا امکان ہے۔ البتہ اگر پارٹی لیڈر احتجاج کے ساتھ اپنا پارلیمانی کردار ادا کرنے اور حکومت کے ساتھ مواصلت کا کوئی طریقہ تلاش کرنے میں کامیاب ہوسکے تو پھر پاکستانی عوام میں پارٹی کی مقبولیت کو کسی حد تک برقرار رکھا جاسکے گا جو کسی آئیندہ انتخابات میں اسے سیاسی طاقت کے طور پر موجود رکھے گی۔ اس کے برعکس اگر احتجاج ہی واحد آپشن ہے اور پارٹی عمران خان کی رہائی سے بڑھ کر کسی معاملہ پر غور کرنے ہی کے لیے تیار نہیں ہوگی تو یہ خود ہی اپنی سیاسی اہمیت و حیثیت کھوتی چلی جائے گی ۔ حکومت و دیگر مخالف سیاسی قوتیں بھی اس عمل کو تیز کرنے میں کردار ادا کریں گی۔
اب لاہور کے ایک فارم ہاؤس میں پارٹی رہنماؤں کا اجلاس ہورہا ہے جس میں 5 اگست سے شروع ہونے والے احتجاج کے حوالے سے حکمت عملی بنائی جائے گی لیکن پارٹی کے ’ڈمی‘ چئیرمین بیرسٹر گوہر علی نے کہا ہے کہ احتجاج کے بارے میں حقیقی فیصلہ عمران خان ہی کریں گے۔ پارٹی لیڈر ابھی تک یہ باور کرنے میں کامیاب نہیں ہوئے کہ اگر سارے فیصلے اڈیالہ جیل سے ہی ہونے ہیں تو انہیں تگ و دو کرنے، میڈیا شو میں اپنی موجودگی کا احساس دلانے اور بے سر و پا بیانات کا سلسلہ جاری رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔ یوں بھی پارٹی کی جو قیادت اس وقت متحرک و فعال دکھائی دیتی ہے، اس میں ہر لیڈر خود کو عمران خان کا معتمد خاص سمجھتا ہے اور دوسرے کسی لیڈر کی حیثیت کو ماننے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ لیڈروں کا ایسا گروہ کسی سیاسی پارٹی کو منظم کرنے کی صلاحیت سے محروم رہتا ہے۔
اب تک تحریک انصاف کی کل قوت عمران خان کی پبلک اپیل اور مقبولیت پر استوار ہے۔ اس بارے میں حامی و مخالف اپنے اپنے اندازے قائم کرسکتے ہیں۔ یہ کہنا بے حد مشکل بلکہ ناممکن ہے کہ گزشتہ سال کے انتخابات کے بعد تحریک انصاف کی قبولیت میں اضافہ ہؤا ہے یا کمی واقعہ ہوئی ہے۔ تحریک انصاف کا کوئی بھی لیڈر یہی دعویٰ کرے گا کہ تحریک انصاف کو عوام کی سو فیصد حمایت حاصل ہے گویا ان کے نزدیک مخالف سیاسی پارٹیوں کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ بس فوج نے من مانی کرکے اور تحریک انصاف کو نیچا دکھانے کے لیے ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی ہوئی ہے جسے نہ تو عوام میں قبولیت حاصل ہے اور نہ ہی اسے اقتدار میں حصہ ملتا ہے۔ بس عہدوں کا پروٹوکول ہی ان کی کل اوقات ہے۔ اس کے ساتھ ہی تحریک انصاف کے بعض لیڈر یہ دعویٰ کرتے بھی دکھائی دیتے ہیں کہ پاکستانی عوام تو پی ٹی آئی کو بیس سال تک اقتدار میں دیکھنا چاہتی ہے لیکن اسٹبلشمنٹ نے راستہ روکا ہؤا ہے۔
اس قسم کے دعوؤں سے تحریک انصاف کی جمہوریت کے ساتھ وابستگی کو نقصان پہنچتا ہے۔ پارٹی کی طرف سے اسٹبلشمنٹ سے بات چیت پر اصرار اور سیاسی پارٹیوں کے ساتھ رابطوں سے انکار سے بھی یہی تاثر قوی ہوتا رہا ہے کہ تحریک انصاف بھی درحقیقت اقتدار کے لیے تگ و دو کررہی ہے، اس کا مسائل حل کرنے سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ عمران خان کی شخصی مقبولیت کے علاوہ پی ٹی آئی کی کل سیاست سوشل میڈیا پر مہم جوئی پر استوار ہے۔ بدقسمتی سے اس مہم جوئی میں بے بنیاد، غلط اور گمراہ کن ہی نہیں بلکہ مخالفین کے لیے نفرت کی بنیاد پر مہمات چلائی جاتی ہیں اور یک طرفہ طور سے ملک میں تقسیم گہری کرکے سیاسی مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ عمران خان کی مسلسل حراست اور سوشل میڈیا پر حکومت کی بڑھتی ہوئی گرفت کے باعث اب یہ دونوں عوامل پارٹی کو سیاسی طور سے مقبول یا فعال رکھنے میں اہمیت کھونے لگیں گے۔
کوئی بھی سیاسی پارٹی تنظیم سازی اور گراس روٹ کی بنیاد پر پارٹی اسٹرکچر کے ذریعے لوگوں کو متحرک رکھنے سے ہی قوت پاتی ہے۔ خاص طور سے اگر کوئی بڑی سیاسی پارٹی طویل عرصہ تک اقتدار سے محروم رہے اور وہ احتجاج کو ہی اپنی کامیابی کی واحد امید سمجھتی ہو تو اس کے لیے صرف مختلف الخیال لیڈروں کو جمع کرنا یا جیل میں بند قائد سے ملاقات کی باریاں لینے والوں کا ہجوم ہی کافی نہیں ہوتا ۔بلکہ اس پارٹی کو پارٹی کا ڈھانچہ استوار کرنے اور ہر قسم کے حالات میں ایسے پارٹی فورمز مضبوط و منظم کرنے کی ضرورت ہوتی ہے جو بروقت اور مؤثر فیصلے کرسکیں ۔ البتہ تحریک انصاف کی تان اسی ایک فقرے پر آکر ٹوٹتی ہے کہ ’آخری فیصلہ‘ تو عمران خان ہی کریں گے۔ پارٹی لیڈر اس وقت جو احتجاج منظم کرنے کا پروگرام بنانے کے لیے لاہور میں جمع ہیں، اے شروع کرنے کا اختیار بھی موجودہ چئیرمین گوہر علی سمیت کسی لیڈر یا پارٹی فورم کے پاس نہیں ہے۔
پاکستانی سیاست میں کسی سیاسی پارٹی کی کامیابی کا دوسرا اہم ترین ذریعہ حلقوں کی سیاست ہے۔ اگر کوئی پارٹی زیادہ منظم نہ بھی ہو لیکن اس کے اراکین اسمبلی اپنے حلقوں کے لوگوں کو مطمئن کریں، ان سے رابطے قائم رکھیں تو انہیں انتخابات میں ووٹ ملنے کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اس طرح یہ لوگ اپنی پارٹی کو بھی مضبوط کرسکتے ہیں۔ اسی اصول کی بنیاد پر حلقوں کی بنیاد پر سیاست کرنے والے افراد یا خاندان یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ مستقبل میں انہیں کس پارٹی کے ساتھ شامل ہونا چاہئے۔ تحریک انصاف کو اقتدار سے محروم ہوئے تین سال سے زیادہ مدت ہوگئی ہے، اس لیے اب پارٹی کو یہ قیاس نہیں کرلینا چاہئے کہ وہ حلقوں پر توجہ دیے بغیر مستقبل میں بھی نام نہاد الیکٹ ایبلز کو اپنے ساتھ شامل کرسکے گی۔ اس مقصد کے لیے ٹھوس سیاسی کام کی ضرورت ہے لیکن ابھی تک تحریک انصاف اپنی ساری صلاحیت احتجاج منظم کرنے اور کسی بھی طرح حکومت کے خلاف عوام کو سڑکوں پر لانے کی کوششوں میں صرف کررہی ہے۔ لیکن جوں جوں وقت گزر رہا ہے، حلقوں کی سیاست پر اس کی گرفت کمزور ہونے لگے گی جو پارٹی کے سیاسی مستقبل کے لیے اچھی خبر نہیں ہوگی۔
خیبر پختون خوا میں حکومت تبدیل کرنے کی خبریں بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔ آج ہی جمیعت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے بھی اس تبدیلی کا عندیہ دیا ہے۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ تبدیلی پی ٹی آئی کے اندر سے آنی چاہئے۔ مولانا بھی بخوبی جانتے ہیں کہ پارٹیوں میں کیسے فارورڈ گروپ بنتے ہیں اور کیسے اسمبلیوں میں اکثریت تبدیل کی جاتی ہے۔ لاہور میں احتجاج منظم کرنے کے لیے آنے والے لیڈروں کی قیادت کرنے والے علی امین گنڈا پور کو درحقیقت خیبر پختون خوا میں رہ کر پارٹی کومضبوط رکھنے اور صوبائی اسمبلی میں پارٹی کے اندر توڑ پھوڑ روکنے کے لیے کام کرنا چاہئے تھا لیکن دیکھا جاسکتا ہے کہ ماضی کی طرح وہ شورمچانے اور سیاست میں طوفان برپا کرنے کے دعوؤں میں زیادہ دلچسپی لے رہے ہیں۔
اس دوران حیرت انگیز طور پر تحریک انصاف نے اس افواہ نما خبر پر کام شروع کیا ہؤا ہے کہ عمران خان کے بیٹے سلیمان خان و قاسم خان لندن سے پاکستان آکر آئیندہ احتجاجی تحریک کی قیادت کریں گے۔ اس بارے میں عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان نے بھی دعوے کیے ہیں۔ اور دو روز پہلے سلیمان و قاسم کی والدہ جمائمہ گولڈ اسمتھ نے بھی ایک ٹویٹ کے ذریعے اس تاثر کو قوی کیا ہے۔ انہوں نے ایکس پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’ میرے بچوں کو اپنے والد عمران خان سے فون پر رابطے کی اجازت نہیں دی جاتی۔ عمران خان کو دو سال سے قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ اب حکومت پاکستان نے کہا ہے کہ اگر میرے بیٹے اپنے والد سے ملنے پاکستان آئے تو انہیں بھی قید میں ڈال دیاجائے گا۔ کسی جمہوریت یا فعال ریاست میں ایسا نہیں ہوتا۔ یہ سیاست نہیں ، ذاتی انتقام ہے‘۔ اس بیان میں وہ ساری غلط بیانی موجود ہے جو عمران خان سے ملاقاتوں کے حوالے سے تحریک انصاف کی طرف سےپھیلائی جاتی ہے۔ انہیں خبروں کے تناظر میں متعدد حکومتی نمائیندوں نے کہا ہے کہ اگر سلیمان و قاسم سیاسی احتجاج کے لیے پاکستان آنے کی کوشش کرتے ہیں تو انہیں ویزا نہیں دیا جائے گا۔ یا امن و امان کا مسئلہ پیدا کرنے کی کوشش میں انہیں گرفتار بھی کیا جاسکتا ہے۔ شاید انہیں بیانات کے حوالے سے جمائمہ نے ایکس پر پیغام جاری کیا ہے۔
عمران خان کے صاحبزادوں کو اپنے والد سے ملنے اور ان سے رابطہ کرنے کی مناسب سہولت حاصل ہونی چاہئے۔ لیکن ان دونوں نوجوانوں کو بھی کسی ایسے ملک کی سیاست میں حصہ دار بننے کی غلطی نہیں کرنی چاہئے جس کے بارے میں وہ مکمل نابلد ہیں۔ تحریک انصاف کے کچھ عناصر اگر زیر حراست باپ کے بیٹوں کو گمراہ کرکے پارٹی مضبوط کرنے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو انہیں اس غلط فہمی سے باہر نکل آنا چاہیے۔ تحریک انصاف کو افواہ سازی اور نعروں کی بجائے کامیابی کے لیے سیاسی حکمت عملی بنانی چاہئے اور پارٹی کو منظم کرنا چاہئے۔ بصورت دیگر آئیندہ انتخابات پارٹی کی خواہشات و خوابوں کا شیرازہ بکھیر سکتے ہیں۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ناروے )
فیس بک کمینٹ

