پاکستان تحریک انصاف نے 90 دن کی احتجاجی تحریک چلانے اور عمران خان کی رہائی تک چین سے نہ بیٹھنے کا اعلان کیا ہے۔ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اس بار آر یاپار کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’90 دن کے بعد فیصلہ کریں گے کہ سیاست کرنی بھی ہے یا نہیں۔ اگر سیاست سے کام نہیں بنتا تو پھر نئے لائحہ عمل سے آگاہ کردیا جائے گا‘۔
اسی پریس کانفرنس میں تحریک انصاف کے لیڈر نے ’فیصلہ سازوں‘ سے بات چیت کی پیش کش دہرائی ہے اور کہا ہے کہ عمران خان نے واضح پیغام دیا ہے کہ ہم بات چیت کے لیے تیار ہیں۔ لیکن یہ بات چیت فیصلہ سازوں یعنی فوج کے ساتھ ہوگی۔ کیوں کہ تحریک انصاف کے خیال میں ملک پر حکمرن سیاسی قیادت بے اختیار ہے جو نہ تو ملک کو درپیش مسائل حل کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور نہ ہی پی ٹی آئی کے ساتھ بات چیت میں کوئی اقدام کرنے کی اہل ہے۔ اس لیے تحریک انصاف صرف ان عناصر سے ہی بات کرے گی جو ملک پر حکمران ہیں اور بادشاہ گر بنے ہوئے ہیں۔
علی امین گنڈا پور کی دھؤاں دار تقریر سے ملک میں سیاسی ماحول میں ایک نیا جوش و ولولہ پیدا کرنے کی کوشش کی گئی ہے ۔ یہاں تک کہ انہوں نے پریس کانفرنس کے دوران بظاہر پاکستانی عوام سے مخالطب ہوکر دعویٰ کیا کہ ’اگر غلام بننا ہے تو یہ نظام چلنے دو۔ اور اگر آزاد ہونا ہے، بچوں کو آزادی و خودمختاری دلانی ہے تو ہمارے ساتھ مل جاؤ۔ اور حقیقی جمہوریت و آزادی کے لیے ہمارا ساتھ دو‘۔ تاہم کچھ عوامل علی امین گنڈا پور کے بلند بانگ دعوؤں سے تال میل نہیں رکھتے۔ ایک طرف تحریک انصاف 90 روزہ احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کرچکی ہے تو دوسری طرف پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن کے 26 ارکان کی معطلی کے بارے میں کسی مفاہمت کے لیے تحریک انصاف کے اپوزیشن لیڈر ملک احمد خان بھچر اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان سے بات چیت کررہے تھے۔ اجلاس کے بعد ان کاکہنا تھاکہ’ آج ہماری اور حکومتی اراکین کے درمیان ہونے والی گفتگو کافی مثبت رہی۔ میٹنگ میں سامنے آنے والے نکات کو اپنی پارلیمانی پارٹی کےسامنے رکھیں گے۔ اگلے تین سے چار روز میں ایک اور سیشن کاانعقاد کیاجائےگا‘۔ گویا علی امین گنڈا پور جس نظام کو گرانے کے لیے عوام کو اکسانے کی کوشش کررہے ہیں، اسی نظام کو فعال بنانے کے لیے پی ٹی آئی کے ارکان پنجاب اسمبلی کسی مفاہمت کی کوشش کررہے ہیں۔ ایک ہی پارٹی کے ان دو رخوں کو دیکھ کر کوئی بھی اندازہ کرسکتا ہے کہ احتجاج اور آر یا پار کی باتیں الفاظ کی جگالی سے زیادہ اہمیت نہیں رکھتیں۔
تحریک انصاف ایک طرف ’آر یا پار’ والا احتجاج شروع کرچکی ہے جس کا آغاز علی امین گنڈا پور کے الفاظ میں گزشتہ روز یعنی 12 جولائی سے ہو چکا ہے۔ یہ مدت 10 اکتوبر کو ختم ہوجائے گی۔ گویا ہر گزرنے والے دن کے ساتھ تحریک انصاف کے پاس کسی حتمی فیصلہ تک پہنچنے کے لیے وقت کم ہوتا چلے جائے گا۔ اس کے باوجود پارٹی کے پاس نہ احتجاج کا کوئی منصوبہ ہے اور نہ ہی احتجاجی حکمت عملی کے بارے میں کوئی ٹھوس پلان پیش کیا گیا ہے۔ ان حالات میں جو لوگ علی امین گنڈا پور کی اپیل پر احتجاج کرنا بھی چاہیں گے، انہیں بھی معلوم نہیں ہوگا کہ انہوں نے اپنا احتجاج جیسے رجسٹر کرانا ہے۔ پریس کانفرنس کے دوران ہی علی امین گنڈا پور نے احتجاج کی نوعیت و طریقے کے بارے میں خود ہی بے یقینی کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ پورے پاکستان میں ہر گلی، کوچے، قصبے اور شہر سے لوگوں کو اکٹھا کریں گے۔ پھر فیصلہ کریں گے کہ ہم نے مقامی سطح پر احتجاج کرنا ہے یا ایک جگہ جمع ہونا ہے‘۔ گویا پی ٹی آئی کی قیادت کو خود ہی یقین نہیں ہے کہ گلیوں، کوچوں، قصبوں و شہروں میں لوگ احتجاج کے لیے نکلیں گے۔ یا ارکان اسمبلی اور کے پی کے کی حکومت کے تعاون سے کچھ لوگ جمع کرکے اسلام آباد کی طرف مارچ کرنے کا پرانا طریقہ آزمایا جائے گا۔ احتجاج کی ناقص منصوبہ بندی کے حوالے سے خود پارٹی کے اندر سے بھی سوالات سامنے آئے ہیں۔ پاکستان تحریک انصاف پنجاب کی چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ ملک نے ایکس پر اپنی پوسٹ میں استفسار کیا ہے کہ ’وزیراعظم خان کی رہائی کے لیے کس لائحہ عمل کا کل یا آج اعلان ہوا ہے؟ تحریک کہاں سے اور کیسے چلے گی؟ 5اگست کے مقابلے میں 90 دن کاپلان کہاں سے آیا ہے؟ اگر آپ میں سے کسی کی نظر سے گزرا ہو تو میری بھی رہنمائی کر دیں‘۔
احتجاجی منصوبے کے بارے میں بے یقینی کی یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت سخت پریشان خیالی کا شکار ہے۔ البتہ ہر لیڈر اپنے اپنے طور پر بلند بانگ اعلانات کرکے اور میڈیا میں جگہ بنا کر عمران خان تک یہ پیغام پہنچانا چاہتا ہے کہ وہی ان کا سب سے زیادہ وفادار ہے۔ پارٹی کے اسی انتشار کی وجہ سے شاید تحریک انصاف اس بار بھی کوئی احتجاج منظم کرنے میں کامیاب نہ ہو اور ملکی سیاست میں خود اپنے لیے سپیس کم کرنے کا سبب بنے۔ علی امین گنڈا پور ایک طرف ملک میں آئین کی بالادستی، جمہوری حقوق اور عوامی نمائندگی کی بات کرتے ہیں لیکن اسی سانس میں ’فیصلہ سازوں‘ سے بات چیت کرنے کا اعلان بھی کررہے ہیں۔ اس صورت حال میں انہیں اس سوال کا جواب دینا چاہئے کہ اگر پی ٹی آئی آئینی عمل پر یقین رکھتی ہے تو وہ فوجی نمائیندوں سے مل کر کیا بات کرنا چاہتے ہیں؟ فوج کو ملک کا آئین کون سا ایسا ختیار دیتا ہے کہ وہ کسی سیاسی پارٹی کے ساتھ بیٹھ کر اس کی شکایات سنے اور پھر انہیں دور کرنے کا اقدام کرے؟ یہ مطالبہ یا خواہش ہی درحقیقت ملک میں جمہوری روایت و نظام کو دفن کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ فوج کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے ’سیاسی حقوق‘ مانگنے والے لیڈروں کو یا تو جمہوریت کے معنی ہی معلوم نہیں ہیں یا وہ جان بوجھ کر اسے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے استعمال کرتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کررہے ہیں۔ تحریک انصاف کو سمجھنا چاہئے کہ ملک کے عوام سیاسی معاملات سے اتنے بھی بے خبر نہیں ہیں کہ وہ ایسی سیاسی قلابازیوں کو نہ سمجھتے ہوں۔
ملکی سیاست میں چونکہ جوابدہی کا عمل موجود نہیں ہے اور سب سیاسی پارٹیاں صرف اقتدار و اختیار کی سیاست کرتی ہیں، اسی لیے نہ سوال کیے جاتے ہیں اور نہ کوئی ان کا جواب دینے پر تیار ہے۔ جیسے اس وقت حکمران پارٹیوں کو اس سوال کا جواب دینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوتی کہ اگر وہ انتخابات میں منتخب ہوکر اقتدار سنبھالے ہوئے ہیں تو پاک فوج کی قیادت کو سیاسی و معاشی معاملات میں کیوں دخیل بنایا جاتا ہے۔ یہی سوال اگر تحریک انصاف کے لیڈروں سے پوچھ لیا جائے کہ آج تو آپ حقیقی آزادی کا نعرہ لگاتے ہیں لیکن 2018 کا انتخاب جیتنے، حکومت قائم کرنے اور تین ساڑھے تین سال تک حکمرانی کے دوران کون سے عناصر کو ساتھ ملایا گیا تھا ، تو ان کے پاس بھی کوئی صائب جواب موجود نہیں ہوگا۔
اسی طرح علی امین گنڈا پور نے آج کی پریس کانفرنس میں ملک میں جاری دہشت گردی کے حوالے سے غیر ذمہ دارانہ تبصرے کرکے پارٹی پوزیشن خراب کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ عمران خان کے دور میں دہشتگردی نہیں تھی۔ ریکارڈ اٹھا کر دیکھ لیں۔ کتنے خودکش دھماکے ہوئے، کتنےدھماکے ہوئے؟ کتنے لوگ شہید ہوئے؟ کتنے ڈرون حملے ہوئے۔ پی ڈی ایم ون کی حکومت آئی، وہی حالات بن گئے اور پی ڈی ایم 2 آئی تو اس سے بدتر حالات ہورہے ہیں۔ یہ آپ کی ذمہ داری ہے اور آپ کی وجہ سے ہورہا ہے، آپ کو قبول کرنا ہوگا‘۔ اس تبصرے میں بظاہر حکومت پر الزام لگانے کی کوشش کی جارہی ہے لیکن ان باتوں سے تو یہ تاثر بھی ملتا ہے کہ عمران خان کی وجہ سے دہشت گردی ختم ہوئی تھی ، اب ان کی قید کی وجہ سے شروع ہوئی ہے۔ گویا علی امین گنڈا پور جیسا وفادار عمران خان کو ان دہشت گردوں کے دوست کے طور پر پیش کرنے کی غلطی کررہا ہے جو روزانہ پاک فوج پر حملہ آور ہوتے ہیں اور ہلاکتوں کا سبب بنتے ہیں۔
تحریک انصاف کے مسائل سیاسی ہیں۔ ان کا سیاسی حل تلاش کرنے سے ہی وہ سرخرو ہوسکتی ہے۔ لیکن اگر وہ اپنے مخالفین کو فوج کے ساتھ ہتھ جوڑی کے ذریعے سزا دلوانے کا خواب دیکھ رہے ہیں تو یہ ایک ایسی بھول ہے جس کا خمیازہ تحریک انصاف کو خود ہی بھگتنا پڑے گا۔ پارٹی کی سب سے بڑی غلطی سانحہ 9 مئی کا سبب بننا تھا۔ اس کے بعد اس سانحہ کا الزام فوج پر ہی عائد کرکے اپنے لیے مشکلات میں اضافہ کیا گیا۔ اس مشکل سے نکلنے کے لیے سیاسی مکالمہ اور دیگر سیاسی جماعتوں سے افہام و تفہیم اسی طرح سود مند ہوسکتی تھی جیسے کہ پنجاب اسمبلی میں معطل ارکان کی بحالی کے لیے اسپیکر سے معاملات طے کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
تحریک انصاف کو ماننا چاہئے کہ اس کا سیاسی وجود موجودہ نظام کی ہی وجہ سے قائم ہے۔ اگر وہ اس نظام کو گرانا چاہتی ہے تو پھر دوسرے ہی زیر نہیں ہوں گے تحریک انصاف بھی موجود نہیں رہے گی۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

