اسلام آباد:سابق وفاقی وزیر غلام سرور خان نے 9 مئی کے واقعات کی مذمت کرتے ہوئے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) سے علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کردیا۔
اپنے ویڈیو بیان میں غلام سرور خان نے کہا کہ مجھے اور میرے خاندان کو سیاست میں آئے ہوئے 50 سال ہو چکے ہیں، جہاں تک 9 مئی کے واقعات کا تعلق ہے، بحیثیت ایک پاکستانی، افواجِ پاکستان کی ملکی بقا و سلامتی کے لیے قربانیاں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افواج پاکستان کے شہدا کی یادگاروں پر حملہ کرنا، جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس، میاں والی بیس پر حملہ کرنا، وہ حملہ آور ملک دشمنی کے مرتکب ہوئے ہیں۔
غلام سرور خان نے کہا کہ حملہ آوروں نے جی ایچ کیو، کور کمانڈر ہاؤس پر حملہ نہیں کیا بلکہ انہوں نے پاکستان کے دل پر اور پاکستانیت پر حملہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں تمام ناپاک عزائم اور اقدام کی بھرپور مذمت کرتا ہوں، بحیثیت ایک محب وطن پاکستانی میرا یہ مطالبہ ہے کہ ایسے لوگوں کو قرار واقعی سزا ملنی چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے اداروں کے ساتھ محاذ آرائی کی اس کی بھی بھرپور مذمت کرتا ہوں اور ایسی محاذ آرائی کی پارٹی میں رہتے ہوئے بھی مخالفت کی۔
سابق وفاقی وزیر نے کہا کہ جو کچھ ہوا غلط ہوا اس لیے تحریک انصاف سے علیحدگی کا اعلان کرتا ہوں۔
خیال رہے کہ گزشتہ روز راولپنڈی پولیس نے سابق وفاقی وزیر ہوابازی اور رہنما پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) غلام سرور خان کو اسلام آباد سے بیٹے اور بھتیجے سمیت گرفتار کر لیا تھا۔
ترجمان راولپنڈی پولیس انسپکٹر سجاد الحسن نے تصدیق کی تھی کہ راولپنڈی اور اسلام آباد پولیس نے مشترکہ طور پر چھاپہ مار کر غلام سرور کو گرفتار کیا۔
پولیس کے مطابق غلام سرور خان کے ساتھ ان کے بیٹے منصور حیات خان اور بھتیجے عمار صدیق خان (سابق رکن قومی اسمبلی) کو بھی گرفتار کیا گیا۔
غلام سرور خان کی گرفتاری کے لیے ان کے دوست کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارا گیا، تینوں پی ٹی آئی رہنما اسلام آباد میں دوست کی رہائش گاہ پر ملاقات کے لیے اکٹھے ہوئے تھے۔
پولیس کے مطابق غلام سرور خان سمیت تینوں افراد 9 مئی کو ٹیکسلا میں ہونے والے واقعات میں مطلوب تھے، غلام سرور خان کی گرفتاری کے لیے ٹیکسلا پنڈ نوشہری میں بھی متعدد چھاپے مارے گئے تھے۔
خیال رہے کہ گزشتہ ماہ 9 مئی کو اسلام آباد میں سابق وزیراعظم اور چیئرمین پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں نیب کے حکم پر رینجرز نے احاطہ عدالت سے گرفتار کرلیا تھا۔
چیئرمین پی ٹی آئی کی گرفتاری کے بعد ملک کے مختلف شہروں میں پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کی جانب سے پرتشدد احتجاج سمیت شدید ردعمل دیکھنے میں آیا تھا، احتجاج کے دوران فوجی تنصیبات پر حملہ کیا گیا اور سرکاری و نجی املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔
پرتشدد احتجاج کے ردعمل میں حکومت کی جانب سے مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن دیکھنے میں آیا، سیکڑوں کارکنان سمیت متعدد پارٹی رہنماؤں کو گرفتار کرلیا گیا۔
بعد ازاں پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت میں شامل متعدد رہنماؤں نے 9 مئی کے پرتشدد احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے پارٹی چھوڑنے کا اعلان بھی کردیا۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

