اسلام آباد:پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ہمایوں اختر خان نے پی ٹی آئی چھوڑنے کا اعلان کر دیا۔
ایک بیان میں ہمایوں اختر خان کا کہنا ہے کہ قیام پاکستان سے لے کر آج تک ہمارے خاندان کا پاک فوج سے لازوال تعلق قائم ہے اور شہید اختر عبدالرحمٰن جس فوج کے جرنیل تھے اس پر ہمیں فخر ہے اور ہمیشہ رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے شہداء کا لہو اور قربانیاں یہ قوم کبھی فراموش نہیں کرے گی، 9 مئی کے واقعات نے پوری قوم کی طرح ہمارے خاندان کو بھی انتہائی افسردہ کیا، بالخصوص شہداء کی یادگاروں کو جو نقصان پہنچایا گیا وہ شہید کی اولاد ہونے کے ناطے اُن کے لیے شدید باعثِ رنج تھا اور اس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ ان حالات میں میرے لیے پاکستان تحریک انصاف کے ساتھ تعلق جاری رکھنا ممکن نہیں رہا لہٰذا میں پارٹی کو چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں۔
ان کا کہنا ہے کہ پاکستان کی قوم نے ہمیشہ افواج پاکستان کا بے انتہا احترام کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ قوم اور اس کے محافظوں کا یہ محبت بھرا رشتہ ہمیشہ قائم رہے گا۔
9 مئی کو کیا ہوا؟
9 مئی کو قومی احتساب بیورو (نیب) نے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کو القادر ٹرسٹ کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کے احاطے سے گرفتار کیا تھا جس کے بعد احتجاج کرنے والے تحریک انصاف کے کارکنان نے فوجی تنصیبات اور سرکاری املاک پر حملے کیے جس میں جناح ہاؤس لاہور اور ریڈیو پاکستان پشاور کی عمارت کو بھی نذر آتش کیا گیا۔
سابق وفاقی وزیر غلام سرور کا بھی تحریک انصاف چھوڑنے کا اعلان
ملک میں 9 مئی کو ہونے والی شرپسندی کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے سخت ایکشن لیتے ہوئے متعدد شرپسندوں کو گرفتار کیا جب کہ اس موقع پر تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کو تھری ایم پی او کے تحت نظر بند کیا گیا۔
پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد اب تک پارٹی کے کئی نامور رہنما اسے خیرباد کہہ چکے ہیں جن میں فواد چوہدری، شیریں مزاری، عامر کیانی، علی زیدی، عمران اسماعیل، فردوس عاشق اعوان، فیاض چوہان، ملیکہ بخاری، آفتاب صدیقی، محمود مولوی بھی شامل ہیں جب کہ پارٹی کے سیکرٹری جنرل اسد عمر بھی تمام عہدوں سے مستعفی ہوچکے ہیں۔
تحریک انصاف سے علیحدگی اختیار کرنے والے رہنماؤں کی تعداد 100 سے زائد ہوچکی ہے۔
(بشکریہ:ڈان نیوز)
فیس بک کمینٹ

