گلگت :گلگت بلتستان میں احتجاجی مظاہروں کے بعد دفعہ 144 نافذ کر کے فوج طلب کر لی گئی ہے ۔ بی بی سی کے مطابق اگست کے اواخر میں گلگت بلتستان کے مختلف شہروں میں مذہبی گروہوں کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور بعض مذہبی رہنماؤں پر فرقہ واریت کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا گیا۔ سکردو کے ایک مذہبی فرقے کے رہنما کے خلاف دیامیر کے شہر چلاس میں پہلے مقدمے کے اندراج اور پھر گرفتاری کے لیے احتجاج ہوا اور مرکزی شاہراہ کو بھی بند کیا گیا۔
اسی دوران سیاحتی مقام سکردو کے احتجاجی مظاہرین نے یہ مطالبہ رکھا کہ ’اگر سکردو کے لوگوں کے لیے چلاس کا روڈ محفوظ نہیں تو ہمارے لیے کارگل روڈ کھول دیا جائے۔‘
ان مظاہروں کے بعد گلگلت بلتستان کی حکومت کی جانب سے ‘ صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے۔‘
ادھر برطانوی سفری تنبیہ میں گلگت بلتستان میں ’حالیہ احتجاجی مظاہروں کی وجہ سے تمام غیر ضروری سفر سے اجتناب‘ کی ہدایت کی گئی ہے تاہم محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کا کہنا ہے کہ ’حالات مکمل طور پر پُرامن ہیں۔‘
اس کا مزید کہنا ہے کہ خطے میں ’تمام رابطہ سڑکیں، تجارتی و کاروباری مراکز اور تعلیمی ادارے معمول کے مطابق کھلے ہیں۔ چہلم امام حسین پر امن و امان برقرار رکھنے کے لیے‘ پاکستانی فوج اور سول آرمڈ فورسز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
دوسری طرف اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے خبردار کیا ہے کہ خطے میں ’پُرامن ارادے کے ساتھ منعقد کردہ اجتماعات بغیر کسی انتباہ کے پُرتشدد ہوسکتے ہیں۔‘
اس نے کہا ہے کہ سکردو اور دیامیر میں مزید مظاہروں، سڑکوں کی بندش، موبائل و انٹرنیٹ کی بندش کا امکان موجود ہے۔
محکمہ داخلہ گلگت بلتستان کا کہنا ہے کہ ’امن و امان کی صور تحال کو بر قرار رکھنے، عوام کے جان و مال کے تحفظ اور کسی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کے لیے صوبے بھر میں دفعہ 144 نافذ کیا گیا ہے۔‘اس کی جانب سے جاری کردہ نوٹیفیکیشن میں کہا گیا ہے کہ کسی کو بھی جلسہ، جلوس اور احتجاج کی اجازت نہیں ہے۔
اعلامیہ کے مطابق ’اگر کوئی ایسی اجازت مقامی انتظامیہ نے پہلے دی ہے تو اس کو منسوخ تصور کیا جائے۔ ایسا امن و امان بحال رکھنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔‘
اس کا مزید کہنا ہے کہ ’تمام اسلحہ لائسنس اور ممنوعہ بور کے خصوصی لائسنس، جو کہ خصوصی حالات کے لیے جاری کیے گئے تھے، تا حکم ثانی واپس لیے جاتے ہیں۔ ماسوائے سرکاری فرائض پر مامور اہلکاروں کے کسی کو بھی اسلحہ کی نمائش اور ساتھ رکھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔‘گلگت بلتستان کے محکمہ اطلاعات کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گلگت بلتستان میں چہلم امام حسین کے پُرامن انعقاد کے لیے پاکستانی فوج اور سول آرمڈ فورسز کی خدمات حاصل کی گئی ہیں۔
چہلم پر جلوس کے راستوں اور امام بارگاہوں کی سکیورٹی کے لیے ماضی کی طرح ضلع دیامیر کی انتظامیہ نے اپنے ایک نوٹیفیکشن میں بابو سر ٹاپ کے راستے سے سفر کرنے والوں کے لیے مخصوص اوقات مختص کر دیے ہیں۔
انتظامیہ کے جاری کردہ نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ چلاس زیرو پوائنٹ شام ساڑھے چھ بجے سے صبح چھ بجے تک جبکہ بابو سر ٹاپ کا راستہ شام چھ بجے سے صبح چھ بجے تک ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند رہے گا۔نوٹیفیکشن میں کہا گیا ہے یہ فیصلہ موجودہ حالات میں سخت حفاظتی اقدامات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ٹیلیکام اتھارٹی (پی ٹی اے) نے مقامی موبائل کمپنی کو ہدایت کی ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں فور جی کو ٹو جی میں منتقل کر دے تاہم سکردو اور چلاس کے مقامی لوگوں کے مطابق موبائل انٹرنیٹ تک رسائی محدود ہوئی ہے۔
( بشکریہ : بی بی سی اردو )
فیس بک کمینٹ

