بے پایاں مہنگائی کے سبب غریب عوام کے صبر کا پیمانہ تو ٹوٹنے کو تھا ہی ۔ پٹرول کی قیمت میں ساٹھ روپے کے ہوشربا اضافے کیساتھ ہی مہنگائی کا ایک ایسا بے ہنگم سونامی آیا چاہتا ہے، شاید متوسط طبقہ بھی جس کی تاب نہ لا سکے گا۔
اب بھی اگر اشرافیہ کی مراعات، حکمرانوں کے اللے تللے، بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کی ناز برداریاں، ججوں اور وزیروں کے بیجا پروٹوکول ختم نہ کئے گئے تو ملک بھر میں انارکی اور خانہ جنگی ناگزیر ہو جائے گی، جس کے بعد ایک خونی انقلاب کا راستہ کوئی مائی کا لعل نہیں روک سکے گا۔
عوام اگر اس قدر رُل گئی تو بالا دست طبقات بھی چَس نہیں اُٹھا سکیں گے. یہ تو یقینی ہے..! غریب کو روٹی میسر نہ ہوئی تو وہ مراعات یافتہ کیک والوں کو بھی قطعاً بخشیں گے نہیں. جنہیں تن ڈھانپنے کو لیریں دستیاب نہ رہیں تو، کیا دستار و جُبہ اور کیا آراستہ یونیفارم، مہنگائی کے مارے ان بھڑکے ہوئے غریبوں سے کچھ محفوظ نہیں رہے گا.
حکمران اشرافیہ سادگی اور کفایت شعاری کو اپنا نصب العین بنائیں تو عوام بھی مہنگائی کا یہ کڑوا گھونٹ صبر سے پی سکیں گے.
یاد رہے، حکمران اشرافیہ میں صرف سیاستدان ہی نہیں بلکہ فوج، پولیس، عدلیہ، بیوروکریسی اور ان سے وابسطہ امراء و علماء بھی شامل ہیں.وزراء اور ممبران اسمبلی و سینیٹ کی تنخواہوں میں خاطر خواہ کٹوتی کی جانی چاہئے.
لاکھوں روپے ماہانہ کی مشاہیر پانے والوں کی تنخواہوں، انکے الاؤنسز، انکے یوٹیلیٹی بلز، انکے پٹرول کوٹوں میں خاطر خواہ تخفیف اب ناگزیر ہے.
ایک بل کے ذ ریعے تمام پنشرز پر نوکری کے دروازے بند کر کے بیروزگاری پر قابو پانے کی کوشش کی جانی چاہیئے.وزراء، جج صاحبان اور منجملہ تمام دیگر کی سیکیورٹی اور پروٹوکول کے کاروانوں میں مناسب حد تک کمی ہونی چاہیے.
ٹریفک پولیس اور دیگر مخصوص محکموں کے علاوہ تمام سرکاری ملازمین کو دی جانے والی سرکاری گاڑی کی زیادہ سے زیادہ حد ہزار سی سی ہونی چاہئے.
اس مشکل وقت کے دوران تمام وزارتوں، اداروں اور محکموں کو کفایت شعاری پر پابند کیا جانا چاہئے.
فیس بک کمینٹ

