ملتان: نام ور ادیب ، شاعر اور ماہر تعلیم حبیب الرحمن بٹالوی انتقال کر گئے۔ان کی عمر 79 برس تھی۔حبیب الرحمن بٹالوی دو مارچ 1944ء کو بٹالہ (بھارت ) میں پیدا ہوئے آپ کا اصل نام حبیب الرحمٰن ہے ۔ گوجرانوالا میں پلے بڑھے ابتدائی تعلیم مشن پرائمری سکول گوجرانوالا سے حاصل کی میٹرک محبوب عالم ہائی سکول گوجرانوالا سے ہی پاس کیا ۔ لڑکپن اور لاہور کی حدود میں ایک ساتھ داخل ہوئے ۔1969ء میں پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے علوم اسلامیہ 1970ء میں ایم اے اردو 1971ء میں ایم اے فارسی کی ۔
ذریعہ روزگار کلرکی ٹھہرا ۔10سال تعلیمی بورڈ لاہور میں ملازمت کی ۔اس دوران آغا شورش کشمیری اور احسان دانش کی محفلوں میں بیٹھنے کا اعزاز حاصل ہوا ۔1960ء سے 1968ء تک آٹھ برس لاہور میں گزارنے کے بعد تبادلہ کرا کے ملتان آ گئے ۔نصف صدی سے یہیں مقیم ہیں۔ تعلیمی بورڈ ملتان کے ڈپٹی سیکرٹری کی حیثیت سے 2004ء میں ریٹائر ہوگئے ۔
انہوں نے بورڈ میں ملازمت کے دوران اس کے جریدے ”خبر نامہ “ کی ادارت بھی کی ۔ ماہنامہ ” نقیب ختم نبوت “ کی ادارت میں معاونت کرتے ہیں . ان کے اساتذہ میں ماسٹر گہنا مل ،(گوجرانوالا) آقا بیدار بخت (لاہور) پروفیسر ڈاکٹر عاصی کرنالی (ملتان ) شامل ہیں اب تک مختلف اخبارات و جرائد میں 100سے زیادہ مضامین شائع ہو چکے ہیں حبیب الرحمٰن بٹالوی 2009ء سے رائیز کالج ملتان میں لیکچرار اور سربراہ شعبہ اردو کی حیثیت سے فرائض انجام دے رہے ہیں ۔ان کی مطبوعہ کتابوں میں ”ہر قدم روشنی (سفر نامہ حجاز )خطبات شورش ،چمن خیال ( شاعری ) خاکہ کہانی ،ڈائری میں رکھے لفظ ، ماں اور مامتا ، ماں کی اشکوں بھری کہانی ،نامے میرے نام ، مترادف ضرب الامثال ، شامل ہیں ۔ بٹالوی صاحب سے میرا ہی نہیں فورم کے تمام ارکان کا احترم اور محبت کا رشتہ ہے . ان کی تمام کتابوں کی رونمائی سخن ور فورم نے کرائی ۔
فیس بک کمینٹ

