صحافتی زندگی میں جن سینئر لوگوں کی مجھے قربت نصیب رہی اور مجھے جن سینئر لوگوں نے قلم پکڑنا سکھایا ان میں جناب ارشاد حقانی مرحوم ، جناب منوں بھائی مرحوم ،جناب رحیم اللہ یوسف زئی مرحوم،جناب ڈاکٹر صفدر محمود مرحوم اور محترم حسن نثار شامل ہیں ؎ میں بلاشبہ انھیں اپنا استاد تسلیم کرتا ھوں . یہ ہفتہ مجھ پر بھاری گزرا , اس ہفتے میں میں نے اپنے دو سینئر ساتھیوں رحیم اللہ یوسف زئی اور ڈاکٹر صفدر محمود کو کھو دیا ۔
ڈاکٹر صفدر محمود سابق وفاقی سیکرٹری، کالم نگار اور دانشور روزنامہ جنگ میں کالم نگار تھے اور وہ "صبح بخیر” کے عنوان سے کالم لکھا کرتے تھے، اس کے علاوہ ڈاکٹر صفدر محمود کئی کتابوں کے مصنف بھی تھے۔کچھ عرصے تدریس کے شعبے سے وابستہ رہے۔
ڈاکٹر صفدر محمود 30 دسمبر 1944ء کو ڈنگہ (ضلع گجرات ) میں پیدا ہوئے۔
گورنمنٹ کالج لاہور سے بی اے آنرز اور پنجاب یونیورسٹی سے سیاسیات میں ایم اے کیا۔
1967ء میں سول سروس کا امتحان پاس کیا اور 1974ء میں پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ڈاکٹر صفدر محمود متعدد انتظامی عہدوں پر فائز رہے۔ادارہ قومی تحقیق و حوالہ،وزارت اطلاعات و نشریات کے ڈائریکٹر رہے۔
قائداعظم یونیورسٹی کے شعبہ پاکستانیات میں تعلیم دی، پوسٹ گریجویٹ جماعتوں کو تاریخ پاکستان پڑھائی اور تحقیقی پروگرام مرتب کیے۔پھرکابینہ ڈویژن اسلام آباد کے شعبہ تحقیق کے سربراہ رہے۔ حکومت پنجاب کے محکمہ اطلاعات و ثقافت اور بعد ازاں محکمہ تعلیم کے سیکرٹری رہے۔ مرکزی وزارت تعلیم کےسیکرٹری کے عہدے پر فرائض انجام دیئے۔
حکومت پاکستان نے انہیں 14 اگست 1997ء کو صدارتی تمغہ حسن کارکردگی عطا کیا۔
ڈاکٹر صفدر محمود تاریخ پاکستان ،اقبال اور ایک قائد اعظم محمد علی جناح پر اتھارٹی تصور کئے جاتے تھے۔ قائداعظمؒ، قیام پاکستان کی تاریخ، علامہ محمد اقبالؒ کی تعلیمات اور پاکستانیت کے موضوع پر نہایت محنت مشقت اور جان مار کر تحقیق کے بعد جتنی معیاری کتابیں، مضامین اور اخبارات میں کالم ڈاکٹر صفدر محمود نے لکھے ہیں وہ ایک فردِ واحد کا نہیں ایک ادارے کا کام محسوس ہوتا ہے جو انہوں نے تن تنہا خود کیا ۔قائداعظمؒ یا تاریخ پاکستان کے حوالے سے جب بھی کسی شخص یا ادارے نے حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کی اس کا مدلل جواب تاریخی شواہد کے ساتھ ڈاکٹر صفدر محمود ہی نے دیا۔ اس اعتبار سے وہ تحریک پاکستان اور نظریہ پاکستان کے سب سے بڑے وکیل تھے ۔آج پاکستان ایک محب وطن پاکستانی سے محروم ہو گیا۔
آج 13 ستمبر 2021ء کو لاہور میں وفات پاگئے، ڈیفینس، لاہور میں دفن کیے گئے، امریکا میں چند ماہ زیر علاج رہے، کچھ دن قبل واپس وطن آگئے تھے، مرض کے باعث یادداشت بھی چلی گئی تھی , اللہ تعالی سے دعا ہے کہ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلی’ مقام عطا فرماۓ . آمین
تصانیف …..
* سچ تو یہ ہے ،
* مسلم لیگ کا دور حکومت (1954ء تا 1974ء)
* پاکستان کیوں ٹوٹا،
* پاکستان:تاریخ و سیاست،
* درد آگہی (مضامین)
* سدابہار (مضامین)
* اقبال ، جناح اور پاکستان
* تقسیم ہند : افسانہ اور حقیقت
* علامہ اقبال، تصوف اور اولیاء کرام
* بصیرت
* امانت
* حیات قائد اعظم
* آئین پاکستان
فیس بک کمینٹ

