مہینے تو اور بھی بہت ہیں پر جو کمائی رمضان میں ہوتی ہے پھر پورا سال نہیں ہوتی ۔۔ یکم رمضان کا آغاز ہی بینکوں سے زکوٰ ۃ کی کٹوتی سے ہوتا ہے اور اس کے بعد ” مانگنے ” کا وہ طوفان اٹھتا ہے کہ نہ کوئی مسجد اس سے محفوظ ، نہ کوئی مدرسہ، نہ کوئی ہسپتال اس سے محفوظ، نہ کوئی این جی او اس سے محفوظ … بس ہر طرف مانگنے کا شور ۔۔ لگتا ہے پورا ملک ہی ” منگتا ” بن گیا ہے ….اس کے بعد نمبر آتا ہے اشیاۓ خورد و نوش کا جو کہ رمضان آتے ہی دو گنا بلکہ تین گنا قیمت میں دستیاب ہوتی ہیں ۔۔ لگتا ہے مارکیٹ کا ہر دوکان دار یکم رمضان سے ” لٹیرا ” بن گیا ہے ۔۔ اب باری ہے عید کی تیاری کی … جو کپڑا ، جوتا عام دنوں میں نارمل ریٹس پر مارکیٹ میں دستیاب ہوتا ہے رمضان شروع ہوتے ہی ان کی قیمتیں ڈبل ہوجاتی ہیں …( آخر یہ لوٹ مار رمضان میں ہی کیوں ؟کیا ہم ایک اسلامی ملک میں نادانستہ طور پر توہین رمضان کے مرتکب تو نہیں ہورہے اور اس کے باوجود کہ یکم رمضان سے پہلے ہی شور مچانا شروع کردیتے ہیں کہ ” سلامتی اور رحمتوں ” کا مہینہ شروع ہونے والا ہے جس میں شیطان جکڑ دیا جاتا ہے ۔۔ اگر شیطان جکڑ دیا جاتا ہے تو یہ شیطانی عمل کیسے سرزد ہوتے ہیں ؟ذرا سوچیے ؟
اتوار, جولائی 5, 2026
تازہ خبریں:
- خاموشی کا منطقہ : وجاہت مسعود کا ناقابل اشاعت کالم
- پاکستان میں سرمایہ کاری کیوں نہیں ہوتی؟ سید مجاہد علی کا تجزیہ
- آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں کروڑوں افراد کی شرکت : مرگ بر امریکا کے نعرے
- لاہور: غیرملکی خواتین سے اسحاق ڈار کے نواسے اور ساتھیوں کی مبینہ اجتماعی زیادتی : خاتون کے تہلکہ خیز انکشافات
- پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک روپے 97 پیسے کی کمی
- کینیا کی سپریم کورٹ نے ارشد شریف کےقتل میں ملوث اہلکاروں کے خلاف کارروائی کی درخواست مسترد کر دی
- جہانیاں : معروف عالم ناصر مدنی کو نمازِ جمعہ کے دوران دل کا دورہ : ملتان میں زیرِ علاج
- زار سے ضمیر تک ۔۔روسی ناول کا اردو بیانیہ : محمد عمران کا کتاب کالم
- قصّہ کلکتہ میں گذاری ایک مایوس رات کا : نصرت جاوید کا کالم
- ژوب: کوئٹہ سے پشاور جانے والی بس کھائی میں گر گئی، 40 افراد ہلاک

