ڈاکٹر علی شاذفکالملکھاری

بچوں کے کینسر (حصہ سوم)۔۔ڈاکٹرعلی شاذف

کینسر کو شکست دینے والے بچوں کے لیے ضروری ہے کہ علاج کے بعد بھی باقاعدگی سے ان کا طبی معائنہ ہوتا رہے. بچ جانے والے بچوں یا ان کے والدین کو علاج کا خلاصہ دینا چاہیے اور ان کی دیکھ بھال کی منصوبہ بندی کی جانی چاہیے.
کسی بھی طرح کے سرطان سے بچ جانے والے بچوں کو علاج کے لمبے عرصے بعد بھی کچھ اثرات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے. یہ دیر سے ظاہر ہونے والے اثرات کہلاتے ہیں. ان اثرات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ علاج کے دوران دی جانے والی ادویات یا کیموتھراپی اور شعاعیں یا ریڈیوتھراپی علاج کے بعد بھی انتہائی خطرناک بیماریوں کا باعث بن سکتے ہیں. یہ دیر سے آنے والے اثرات بچے کے سرطان، بچے کی عمر اور سرطان کے علاج کے مطابق مختلف نوعیت کے ہوتے ہیں.
کینسر کی وجوہات کیا ہیں:
زیادہ تر سرطانوں کی بظاہر کوئی وجہ نہیں ہوتی. تقریباً پانچ فیصد بچوں میں اس کی وجہ ایسی جینیاتی تبدیلی ہوتی ہے جو والدین سے بچوں میں منتقل ہو سکتی ہے.
بڑوں کی طرح بچوں میں بھی ان کے ماحول سے ایسی جیناتی تبدیلیاں منتقل ہو سکتی ہیں جن کے نتیجے میں خلیے خودبخود بڑھنے لگتے ہیں اور آخر سرطان بن جاتے ہیں. سرطان کے یہ خلیے جراثیم کے برعکس کہیں باہر سے نہیں آتے اور کینسر بننے سے پہلے جسم کے عام خلیے ہوتے ہیں. بڑوں میں ہونے والی جینیاتی تبدیلیاں ان کی عمر اور طویل عرصے تک کینسر کی وجہ بننے والی اشیا جیسے سگریٹ نوشی کا سامنا کرنے کا نتیجہ ہوتی ہیں. تاہم بچوں میں کسی مخصوص ماحول سے ہونے والی بیماری کا پتہ چلانا بےحد مشکل ہے. اس کی وجہ یہ ہے کہ بچوں میں یہ بیماری بڑوں کی نسبت بہت کم ہے اور یہ پتہ چلانا کہ آخر یہ تبدیلی کہاں سے آئی ہے بہت مشکل کام ہے.
تحقیق
بچوں کے سرطان کی تحقیق اس کی وجوہات، حیاتیات اور مختلف اشکال جاننے کے لیے بہت ضروری ہے. تحقیق کی مدد سے ہم پتہ چلاتے ہیں کہ وہ کون سے طریقے ہیں جن سے ہم بچوں کا کامیاب علاج کر سکتے ہیں.
علی شاذف
ماخذ: این سی آئی

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker