حسن ناصر پاکستانی لیفٹ کی تاریخ کا اہم کردار ہے۔ اس کی شخصیت اور اس کی سیاسی جدوجہد کے ارد گرد بہت سی متھتس بنائی گئی ہیں۔ سب سے زیادہ پراسراریت اس کی شاہی قلعہ لاہور میں پولیس تشدد سے موت کے بارے میں ہے۔ پولیس کا موقف تھا کہ حسن ناصر نے شاہی قلعہ لاہور میں اپنے سیل میں خود کشی کی تھی جس کی بائیں بازو پرزور تردید اور اسے ناممکنات سے تعبیر کرتا ہے۔
حسن ناصر کی پولیس کے ہاتھوں گرفتاری بارے بھی بائیں بازو کے حلقوں میں بہت سی کہانیاں مشہور و مقبول ہیں۔ حسن ناصر کی ہم عصر بائیں بازو کی سیاسی قیادت اب کم وبیش یہ دنیا چھوڑ چکی ہے لیکن جب تک ایسے لوگ جنھوں نے حسن ناصر کے ساتھ سیاسی کام کیا تھا تو ان میں ہر ایک اس المیہ بارے اپنا ایک علیحدہ موقف ہوا کرتا تھا۔ حسن ناصر کی گرفتاری اور بعدازاں موت کو لے کر اپنے نظریاتی اور سیاسی مخالفین کو مطعون کیا جاتا تھا۔
کراچی کی ایک بزرگ شخصیت جن کا چند سال قبل انتقال ہوا تھا کو حسن ناصر کو گرفتار کرانے میں شمار کیا جاتا تھا اور بے چارے ساری عمر اس الزام کی تردید کرتے رہے تھے۔ دراصل انڈر گراونڈ تنظیموں کے حلقوں میں شکوک و شبہات کو بہت زیادہ اہمیت دی جاتی ہے ہروہ کارکن جو کسی ایشو پر قیادت سے اختلاف کرتا اس کو سی آئی ڈی کا کارندہ قرار دینا معمول کی کاروائی ہوا کرتی تھی۔
حسن ناصر کسیے گرفتار ہوئے اس بارے میں ایک کہانی اعز عزیزی نے اپنی کتاب رفیقان صدق و صفا میں بیان کی ہے۔ اعز عزیزی کا تعلق حیدرآباد دکن سے تھا اور قیام پاکستان کے بعد کراچی میں آبسے تھے جہاں انھوں نے مزدور تحریک اور بائیں بازو کی سیاست سے تعلق قائم کیا تھا۔ اعز عزیزی نے بائیں بازو کے ان 32 کارکنوں اور رہنماوں کے خاکے لکھے ہیں جن سے اپنی سیاسی جدوجہد کے دوران انا کے روابط استوار ہوئے تھے۔اعز عزیزی کا ایک تعارف یہ بھی ہے کہ وہ بائیں بازوکے معروف رہنما ڈاکٹر اعزاز نذیر کے بھائی تھے
حیدر آباد دکن سے تعلق ہونے کی بنا پر حسن ناصر کے ساتھ اعز عزیزی کے تعلقات بہت قریبی تھے کیونکہ حسن ناصر کا تعلق بھی حیدرآباد دکن ہی سے تھا۔ اعز عزیزی لکھتے ہیں کہ کامریڈ ناصر کی گرفتاری کی خبر جیسے جنگل میں آگ پھیلتی ہے اس طرح پھیلی، ہر شخص غم واندوہ سے بدحال ہوا جارہا تھا۔شہر( کراچی) کی فضا پر جیسےکوئی آسیب چھا گیا تھا۔ کارکنوں کی بڑی تعداد کو پولیس پکڑ پکڑکر لے جارہی تھی اور وسیع پیمانے پر پوچھ گچھ کا سلسلہ شروع ہوچکا تھا۔ دن بھر تھانوں میں رکھ کر رات کو چھوڑ دیا جاتا تھا۔ جو مرکزی نکتہ سوالات میں پوچھا جاتا تھا وہ ناصر اوراُن کے ساتھیوں کی سرگرمیوں سے متعلق ہوا کرتا تھا۔اُدھر ناصر کی گرفتاری سلسلے میں قیاس آرائیاں بہت زور وشور سے ہوری تھیں۔
گرفتاری میں پہلا قیاس تو کسی کی مخبری و غداری کا سامنے آرہا تھا۔دوسری بات یہ بھی تھی کہ جب ناصر نیوٹاون پولیس اسٹیشن کے سامنے سے گذررہے تھے تو پولیس نے ناکہ لگایا ہوا تھااور کسی مفرور مجرم کی تلاش تھی،ہر گذرنے والی گاڑی اور رکشے کو روک کر مسافروں کی شناخت کی جارہی تھی۔ناصر کے رکشے کو بھی انھوں نے روکاجس پر ناصر برہم ہوئےاور انگریزی جو وہ انگریزوں کے لہجے میں بولا کرتے تھے کہا کہ اس طرح آپ لوگ مسافروں کو تکلیف پہنچارہے ہیں۔ ناصر کی اس گفتگو پر ایک پولیس انسپکٹر نے انھیں غیر ملکی سفارت کار سمجھ کر نام،پتہ اور پیشہ دریافت کیاجس کا ناصر معقول جواب نہ دے سکےجس کی وجہ سےان کے رکشے کو روک کر سامنے تھانے میں کھڑا کردیا۔وہاں خفیہ پولیس کا انسپکٹر شریف الحسن موجود تھا جس نے انھیں پہچان لیا اور فوراً گرفتار کرلیا۔ مذکورہ انسپکٹر کو ترقی دے کر ڈی ایس پی بنادیا گیا۔
تیسری قیاس آرائی یہ تھی کہ ناصر جس رکشے میں تھے اس کے ڈرائیور کو یہ شبہ ہوگیا تھا کہ یہ کوئی مفرور شخص ہے جو پولیس سے چھپتا ہوا جارہا ہے اس نے پولیس سے انعام اکرام اور ستائش کے لالچ میں رکشے کو تھانے میں لے جاکرکھڑا کردیاجہاں انسپکٹر شریف الحسن کی موجودگی کا تذکرہ ملتا ہےادھر اخبار کی خبر میں نیوٹاون پولیس کی کامیابی بھی اس بات کو تقویت دیتی ہے۔ ناصر کی گرفتاری کے سلسلے میں میں یہ بھی ایک سوال ہے کہ کیا ناصر کی گزرگاہ پر پولیس کی کاروائی معمول کا حصہ تھی یا دانستہ طورپر ایک منصوبہ تھا؟
سردار عبدالوکیل خان ان دنوں ایس ایس پی کراچی تھے۔بہت سال بعد انھوں نے رضا کاظم ایڈووکیٹ کے رسالے میں انٹرویو دیتے ہوئےان دنوں گرفتار ایک ایسی شخصیت کی طرف اشارہ کیا تھا جو ان کے مطابق امریکی سفارت خانے سے تعلقات رکھتی تھی۔اس شخصیت کا سی آئی اے سنٹر میں جو رہن سہن تھا وہ ہم سب نے دیکھا۔ اُن کے گھر سے فرنیچر منگالیا گیا تھا۔ روز ان کے بیوی بچے تھانے میں آکر سارا سارا دن بیٹھے رہتے تھےان کا کھانا بھی گھر ہی سے آتا تھا( نام نہ لکھ کر اعز عزیزی شکوک وشبہات کو بڑھاوا دیا ہے)۔ سردار عبدالوکیل ہی نے بطور ایس ایس پی حسن ناصر سے تفتیش کی تھی
رفیقان صدق و صفا از اعز عزیزی صفحات 51-52 سانجھ لاہور
فیس بک کمینٹ

