پاکستان کے علاوہ دنیا بھر میں پاکستانیوں نے یوم قرار دادا پاکستان جوش و خروش سے منایا۔ صدر مملکت آصف زرداری نے ایوان صدر اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی پالیسی کو مختصر اور جامع انداز میں بیان کیا ۔ اگرچہ صدر زرادری کو تقریر پڑھنے میں اور سننے والوں کو سمجھنے میں دشواری کا سامنا تھا۔ اس ضعف اور لکنت کی وجہ سے بجا طور سے یہ سوال اٹھایا جائے گا کہ کیا معذوری کے اس عالم میں کسی شخص کو ایسے عہدے پر فائز رہناچاہئے جو دنیا بھر میں ملک کی پہچان ہے؟
تاہم اس کے باوجود صدر زرداری نے جو باتیں کی ہیں، ان میں پاکستانی حکومت کے عزائم، قومی اور بین الاقوامی معاملات میں حکمت عملی اور مشکلات کے باوجود آگے بڑھنے کے حوصلے کا پیغام دیا گیا ہے۔ یہ ایک ایسا پیغام ہے جس کے کسی پہلو سے انکار ممکن نہیں ہے۔ پاکستان خوش حال ہونا چاہتا ہے۔ اپنے نوجوانوں کو باوقار ار باعزت زندگی دینا چاہتا ہے، دہشت گردی کا خاتمہ قومی ترجیحات میں سر فہرست ہے ۔ اس کے علاوہ کشمیر اور فلسطین کے لیے پاکستان کی پالیسی غیر متزلزل ہے۔
یہ باتیں روز روشن کی طرح عیاں ہیں۔ حکومتی عہدیدار مختلف طریقوں سے ان عزائم کا اظہار کرتے رہتے ہیں بلکہ جوں جوں ملک میں تشدد اور شدت پسندی کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے ، اسی رفتار سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر اور پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے بیانات میں بھی قومی جوش و خروش کا اظہار دیکھنے میں آتا رہا ہے۔ پاک فوج کی طرف سے جو وعدے قوم سے کیے جاتے رہے ہیں، ان میں دہشت گردی ختم کرنے کے علاوہ معاشی ترقی کا خواب پورا کرنے کا عزم سر فہرست ہے۔ بلکہ جنرل عاصم منیر نے تو یہ اعلان بھی کررکھا ہے کہ جلد یا بدیر مقبوضہ کشمیر بہر صورت پاکستان کا حصہ بن کر رہے گا۔
سیاسی وابستگی اور فوج سے اختلافات کی بنا پر بہت سے لوگ آرمی چیف کی باتوں سے اختلاف بھی کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود جن قومی ترجیحات کا ذکر صدر آصف زرداری کی تقریر میں سنا گیا اور جس کی گونج دیگر بیانات میں بھی سنائی دیتی ہے، ان سے بنیادی اختلاف موجود نہیں ہے۔ یعنی کوئی سیاسی پارٹی ملک میں تشدد کی سیاست یا دہشت گردی کو جائز قرار نہیں دیتی، کوئی ملکی آئین کو مسترد نہیں کرتا۔ اسی طرح کشمیر اور فلسطین ، حتی کہ بھارت کے بارے میں پاکستان کی موجودہ پالیسی سے کوئی خاص اختلاف دیکھنے میں نہیں آتا۔ افغانستان کے حوالے سے پالیسی اختلاف ضرور دیکھنے میں آرہا ہے لیکن یہ اختلاف بھی معاملات کی یک طرفہ تفہیم کا شاخسانہ محسوس ہوتا ہے۔ تحریک انصاف افغانستان کو اسلامی برادرملک کہتے ہوئے اس سے تعلقات خراب کرنا نہیں چاہتی ۔ خیبر پختون خوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے گزشتہ دنوں اسی حوالے سے پیش کش کی کہ مجھے یہ کام سونپا جائے تو میں اسے بات چیت کے ذریعے حل کرا دوں گا۔ البتہ دوسری طرف حکومت یا اس کے کسی نمائیندے نے کبھی افغانستان کے بارے میں کوئی نازیبا بات نہیں کی۔ افغانستان سے پاکستان کے خلاف ہونے والی دہشت گردی کے باوجود حکومت مسلسل کابل حکومت کے ساتھ سفارتی طریقے سے معاملات طے کرنے کی ضرورت پر زور دیتی ہے۔ علی امین گنڈا پور ملک کے ایک صوبے کے وزیر اعلیٰ ہیں اور اس حیثیت میں تمام قومی فیصلہ ساز اداروں کا حصہ ہیں۔ وہ اگر افغانستان کے بارے میں قومی پالیسی کو ’غلط‘ قرار دیتے ہیں تو اسے ان کی سیاسی مجبوری اور تحریک انصاف کے ساتھ وابستگی کانتیجہ سمجھنا چاہئے۔ اصولی طور سے علی امین گنڈا پور اور شہباز شریف کی حکومت ایک ہی بات کرتے ہیں کہ ’آئیے مل بیٹھ کر مسائل حل کریں‘۔ اس بڑے فریم کے اندر رہ کر اگر کوئی پارٹی کسی طرح کا کوئی اختلاف کرتی ہے تو یہ زیادہ اہم نہیں ہوسکتا۔
صدر مملکت کے ارشادات پر غور کیا جائے، وزیر اعظم یا آرمی چیف کی باتوں کو سنا جائے یا سرکار کی طرف سے فراہم کردہ معلومات پر سر دھنا جائے تو یہی تسلی ہوتی ہے کہ ملک ترقی کی راہ پر تیزی سے آگے بڑھنے لگا ہے، دیوالیہ ہوتی معیشت کو سنبھال لیا گیا ہے، مہنگائی پر قابو پالیا گیا ہے، سرمایہ کار پاکستان میں مواقع کی تلاش میں سرگرداں ہیں اور آنے والے دن خوشیوں اور کامیابیوں کا پیغام لانے والے ہیں۔ اس میں مشکل صرف اتنی ہے کہ یہ پیغام عام پاکستانیوں کے روزمرہ سے مطابقت نہیں رکھتا۔ عام گھروں کے اخراجات کم نہ ہوں تو وہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق افراط زر کوسنگل ڈیجٹ پر لانے کی قدر و قیمت سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔ نوجوانوں کو روزگار تو کیا خود اپنے طور پر کام کرنے کا موقع نہ دیاجائے اور انٹر نیٹ پر پابندیوں سے ان کے روزگار اور امکانات کو محدود کیا جائے تو نوجوانوں کی پریشانی بھی کم نہیں ہوگی۔ جب سماجی طور سے پھیلی ہوئی بے چینی کا کوئی علاج نہیں ہوگا۔ فرقہ واریت عام کرنے کی اجازت ہوگی۔ جب اسلحہ برداروں کا مقابلہ کرنے کے لیے انہی ملاؤں سے فتوے دینے کی اپیلیں کی جائیں گے جن کے فتوؤں بلکہ عملی ’خدمات‘ کی وجہ سے یہ شدت پسند گروہ ملک میں مضبوط و مستحکم ہوئے تھے تو دل اطمینان کی نعمت سے محروم رہے گا اور شہریوں کو مستقبل کی تصویر ویسی روشن و شفاف دکھائی نہیں دے گی جیسی جناب شہباز شریف یا محترم آصف زرداری قوم کو دکھا نا چاہتےہیں۔ حقیقت اور تصور میں یہ فرق اتنا ہی واضح اور وسیع ہے جتنا عام پاکستانی اور ملکی اشرافیہ کے طرز زندگی میں موجود ہے۔
ایسے میں یوم پاکستان کی تقریبات کے حوالے سے ایوان صدر میں ملک کی متعدد ممتاز شخصیات کو ان کی لازوال قومی خدمات کے سلسلہ میں سول اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ صدر مملکت آصف زرداری نے خود یہ اعزازات ان شخصیات کو عطا کیے۔ ان میں سے نمایاں سابق وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کو بعد از وفات دیاجانے والا نشانِ پاکستان کا اعزاز تھا جسے ان کی صاحبزادی صنم بھٹو نے وصول کیا۔ البتہ اعزازات لینے والوں میں ایک ایسا شخص بھی شامل تھا جسے پاکستان میں تو شاید بہت لوگ نہیں جانتے لیکن ناروے میں رہنے والے پاکستانیوں کا بچہ بچہ اس کے ماضی اور ناروے کے خلاف اس کے جرائم سے آگاہ ہے۔ اس شخص کا نام عمر فاروق ظہور ہے اور اسے پاکستان کا دوسرا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ہلال امتیاز عطا کیا گیا ہے۔
یہ شخص ناروے میں دھوکہ دہی کے ایک سنگین مقدمہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے اب دوبئی میں مقیم ہے لیکن پاکستانی اسٹبلشمنٹ سے تعلقات کی وجہ سے وہ اس شخص کو دھوکے باز اور ایک مہذب ملک کے مفرور کی بجائے قومی اعزاز کا حقدار سمجھا گیا ہے۔ یہ وہی شخص ہے جس نے توشہ خانہ کیس کے دوران یہ دعویٰ کیا تھا کہ اس نے سابق وزیر اعظم عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی قریبی دوست فرح خان کے توسط سے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے تحفے میں ملنے والی گھڑی خریدی تھی۔ عام طور سے قیاس کیا جاتا ہے کہ یہی دعویٰ کرنے اور عمران خان کے خلاف توشہ خانہ کیس مضبوط کرنے کے لیے ’خدمت ‘ انجام دینے کے عوض عمر فاروق ظہور کو ہلال امتیاز دیا گیا ہے۔
ناروے کے پاکستانی اس وقوعہ پر انگشت بدنداں ہیں اور اپنے اپنے طور پر حیرانی و پریشانی کا اظہار کررہے ہیں۔ یہ سوال بھی اٹھایا جارہا ہے کہ کیا وجہ ہے کہ اوسلو میں پاکستانی سفارت خانہ نے حکومت پاکستان کو اس بارے میں سارے حقائق فراہم نہیں کیے اور کیا وجہ ہے کہ ایک ملزم اور سنگین جرائم میں ملوث ایک شخص کو قومی اعزاز سے سرفراز کرکے قوم کی عزت و آبرو کو داؤ پر لگایا گیا ہے۔ اسی حوالے سے شدید دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ناروے میں مقیم ادیب، شاعر، کالم نگار اور دانشور ڈاکٹر سید ندیم حسین نے اپنی فیس بک پوسٹ میں ان تاثرات کا اظہار کیا ہے:
’اگر مجھے زندگی میں کوئی سوِل ایوارڈ ملا ہوتا تو آج ملنے والے ایوارڈز کے بعد میں اپنا ایوارڈ یقیناً واپس کر دیتا ۔ وہ دِن لد گئے جب یہ ایوارڈ بڑے بڑے فن کاروں، ادیبوں، شاعروں، کھلاڑیوں اور معاشرے کے ایسے افراد کو دیئے جاتے تھے، جنہوں نے حقیقی طور پہ معاشرے کی خدمت کی ہوتی تھی۔ اُن کے ناموں کے ساتھ لسٹ میں موجود ہونا قابل فخر ہوتا۔ لیکن میں کسی ایسی لسٹ میں شامل ہونا پسند نہ کرتا جس میں ایسے نام ہیں جن سے وابستگی قابلَ فخر نہیں۔ خُدا جانے یہ فیصلے کون کرتا ہے۔ کیا کسی کو شرمندگی بھی ہوتی ہے کہ نہیں ؟‘
ڈاکٹر سید ندیم حسین کا یہ سوال ناروے میں مقیم کم و بیش سب پاکستانیوں کے دلوں کی آواز ہے۔ گزشتہ سال یوم آزادی کے موقع پر جب عمر ظہور کو یہ سول اعزاز دینے کا اعلان کیا گیا تھا تو انہی صفحات میں یہ سارے حقائق گوش گزار کراتے ہوئے درخواست کی گئی تھی کہ حکومت ایسے فیصلوں سے ملک و قوم کا نام خراب نہ کرے اور صرف وقتی سیاسی ضرورت کے لیے کسی ایسے شخص کو پاکستان کے نام پر اعزاز نہ دیا جائے جو اپنے مجرمانہ ریکارڈ کی وجہ سے ناروے نہیں آسکتا حالانکہ اس کا سارا خاندان یہاں آباد ہے اور وہ خود ناروے میں پیدا ہؤا اور یہیں تعلیم و تربیت پاکر کاروبار کا آغاز کیا۔ پھر ایک معمر خاتون کے اکاؤنٹ سے فراڈکے ذریعے کئی ملین کرون چوری کرکے یہاں سے غائب ہوگیا۔ اگست 2024 میں جب عمر ظہور کو پاکستانی حکومت نے ہلال امتیاز دینے کا اعلان کیا تو ناروے کے سب سے بڑے اخبار وے گے نے اس بارے میں خبر کی سرخی لگائی کہ :’ناروے سے مفرور۔ پاکستان میں اعزاز کا مستحق‘۔ اگر پاکستانی سفارت خانہ اس خبر کو بھی پڑھ نہیں سکا یا حکومت پاکستان نے ناروے میں اپنے ہی سفارت خانے کی بات سننے سے انکار کیا تو اسے قومی زوال کے سوا کوئی دوسرا نام نہیں دیا جاسکتا۔
آج صدر مملکت آصف زرداری نے بنفس نفیس شیروانی میں ملبوس، ناروے سے مفرور عمر فاروق ظہور کو ہلال پاکستان کا اعزاز عطا کیا تو یہ تصویر پاکستان کے لیے عزت و وقار کا نہیں بلکہ قومی انحطاط و زوال کا نمونہ بن کر سامنے آئی ہے۔ دنیا میں چوری کرکے واپس آنے والوں کو اعزاز دینے والا ملک کیسے اپنے لیے عزت و وقار کا خواب دیکھ سکتا ہے۔ کوئی اس سوال کا جوب دے سکے تو شاید صدر زرادری کے درخشاں الفاظ سمجھنے میں آسانی ہو۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ناروے )
فیس بک کمینٹ

