تجزیےعلی نقویلکھاری

علی نقوی کا کالم : آئی اے رحمن کا نہیں انسانیت کا تعزیت نامہ ۔۔

میرے نز دیک ہر انسان اس منصب پر فائز نہیں کہ اس کو اشرف المخلوقات کہا جا سکے لیکن اگر مخلوقات میں کچھ اشرف نفوس ہیں تو وہ ہیں انسان ہی اور ان میں سے کچھ میں نے دیکھے ہیں، ایسے لوگ کہ جن کی زندگیوں کو دیکھ کر زندہ رہنے کا دل کرے، جن کا طرز عمل آپ کو آدمی سے انسان بنا دے، جن کی باتیں انسان کو جینے اور جینے دینے کا حوصلہ دیں، جن کی تحریر آپ کو یہ سکھا دے کہ غصہ شائستہ لہجے سے بھی ظاہر ہو جاتا ہے، جن کی ہر ادا آپ کو انسانی زندگی کی اہمیت کا احساس دلا دے، جو بڑے بڑے کام کر کے آپ کے ساتھ ایسے بیٹھ جائیں کہ جیسے آپ کا بچپن کا یار میں نے ایسے کچھ لوگ ضرور دیکھے ہیں اور یہی لوگ میری زندگی کا کُل سرمایہ ہیں….
مئی کی دس تاریخ کی ایک ایسی دوپہر تھی کہ جس میں سورج اپنی پوری آب و تاب سے چمک رہا تھا لیکن ہم ملتان کے رہنے والے انسانی حقوق کے حامیوں کے لیے وہ ایک سیاہ رات تھی جہاں ایک طرف ہلکی ہلکی سی لو چل رہی تھی وہیں حبس کا وہ عالم تھا کہ دماغ آکسیجن کی کمی سے ماؤف ہو رہا تھا، میری زندگی میں یہ پہلا اور منفرد موقع تھا کہ جب غصہ اور غم دونوں اس شدت سے مجھ پر سوار ہوئے کہ دماغ سمجھ نہیں پا رہا تھا کہ وہ غصے سے پھٹ جائے یا غم سے، کیونکہ ملتان کے مرکزی ڈاک خانے کے گراؤنڈ میں ایک چارپائی رکھی تھی جس پر راشد رحمن کی لاش دھری تھی وہی راشد رحمن کہ جس کو اسکے دفتر میں تب تک گولیاں ماری گئیں کہ جب تک وہ بے سدھ نہ ہو گیا، میں اس وقت آئی اے رحمن اور انکل اطہر رحمن کے ساتھ ہی کھڑا تھا چاروں طرف کی عمارتوں کی چھتوں پر پولیس ہی پولیس تھی کہ ایسے میں ملتان پولیس کے DPO نے آ کر آئی اے رحمن سے کہا کہ “مجھے لگتا ہے کہ آپ لوگوں کو جلدی کرنی چاہیے کیونکہ جنازے کو بھی تھریٹ ہے” اس جملے سے میرے دماغ میں ایک دھماکہ ہوا اور میں نے کہا کہ آپ چلے جائیں تھریٹ ختم ہو جائے گا جس پر DPO صاحب بولے کیا مطلب؟؟ میں نے آگے بڑھ کر کہا کہ کیونکہ ہم سمجھتے ہیں کہ ریاست اور ریاستی ادارے راشد رحمن کے قتل میں ملوث ہیں جس پہ رحمن صاحب نے میرا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا اور اس وقت تک پکڑے رکھا کہ جب تک ہم نے راشد رحمن کو سپرد خاک نہ کر دیا، راشد رحمن آئی اے رحمن اور انکل اطہر رحمن کے بھتیجے تھے لیکن مجھے یہ احساس تک نہیں ہوا کہ تسلی تو گھر والوں کو دی جاتی ہے لیکن یہاں یہ گھر والے تھے کہ جو باہر والوں کو ہوش سے کام لینے کی تلقین کر رہے تھے کچھ دن بعد میں نے غور کیا کہ جب میرے اور میرے دوستوں کے لیے راشد رحمن کی شہادت نا قابلِ برداشت تھی تو رحمن صاحب پر کیا بیتی ہوگی مجھے یاد ہے DPO کے جواب میں رحمن صاحب نے کہا کہ آپ درست کہہ رہے ہیں جنازے کی وجہ سے ٹریفک بھی بلاک ہو رہی ہے اور لوگوں کو معمولات کی انجام دہی میں بھی مشکل درپیش ہے، مجھے کہنے لگے کہ ہم نے اس وقت صرف جنازہ پڑھنا ہے….
میں پہلے بھی لکھ چکا ہوں کہ میرے والد مرحوم اور رحمن فیملی کے تعلقات تقسیم کے زمانے سے تھے، میرے والد نے کچھ عرصہ رحمن صاحب کے گھر قیام بھی کیا، انکل اطہر رحمن آئی اے رحمن کے چھوٹے بھائی ہیں چونکہ انکل اطہر اور میرے والد وکالت سے منسلک تھے اور دونوں ملتان میں رہائش پذیر ہوئے اس لیے ان میں خاصی بے تکلفی تھی اور کمال یہ تھا کہ انکل اطہر اور آئی اے رحمن اور میرے والد کے نظریات ایک دوسرے سے بلکل مختلف ہی نہیں بلکہ مخالف تھے لیکن جو باہمی عزت و احترام کی سطح میں نے اپنی اور رحمن فیملی میں دیکھی شاید ہی کہیں دیکھی ہو، میرے والد فوت ہوئے تو رحمن صاحب ہمارے گھر تشریف لائے اور فرمایا کہ میری اور نقوی صاحب کی ساٹھ سال سے دوستی تھی اتنی تو لوگوں کی کُل عمر نہیں ہوتی….
بچپن سے رحمن صاحب کو اپنے گھر آتے دیکھا انکی اپنے ابا سے بے تکلفی دیکھی ایک زمانے تک رحمن صاحب عید کے دوسرے یا تیسرے روز ملتان آیا کرتے تھے اور ہمارے گھر اچھا خاصا وقت گزارتے بچپن میں ایک بار میں نے رحمن صاحب سے پوچھا کہ آپ نے عید کی نماز کہاں پڑھی تو کہنے لگے کہ “یار عید نماز میں ایک مسئلہ ہے جوتی آگے رکھو تو نماز نہیں ہوتی اور اگر پیچھے رکھو تو جوتی نہیں ہوتی” یہی بے تکلفی کا رشتہ ہمارا احمر بھائی سے بنا، جب ذرا بڑے ہوئے اور HRCP کے ہیڈ آفس لاہور میں میرے بڑے بھائی سید افتخار علی کی نوکری ہوئی تب میں نے HRCP آنا جانا شروع کیا، انہی زمانوں میں HRCP نے دو ٹارسک فورسز ایک حیدر آباد سندھ میں اور دوسری ملتان پنجاب میں بنائیں تو بھائی کی بدولت راشد رحمن سے ملاقات ہوئی یہ اس وقت کی بات ہے جب میں چھٹی یا ساتویں جماعت کا طالب علم تھا، راشد بھائی کے ساتھ پہلا کام 1997 کی الیکشن واچ کا کیا اور ان سے عشق ہو گیا انہی زمانوں میں HRCP کی Annual General Meetings میں شرکت کی اور وہاں پہلی بار عاصمہ جہانگیر، افراسیاب خٹک، عزیز صدیقی، حسین نقی صاحب اور حنا جیلانی کو دیکھا اسُی HRCP کے آڈیٹوریم میں اشفاق احمد، مستنصر حسین تارڑ، شریف المجاہد صاحب، سلیم الرحمان صاحب، رضا ربانی، شیری رحمان، اعتزاز احسن، احمد فراز، ٹینا ثانی، تحسین غنی، ثانیہ سعید، نادیہ جمیل، سویرا ندیم، مدیحہ گوہر، فریال گوہر، منیزہ اور سلیمہ ہاشمی، حامد میر، نصرت جاوید، سہیل وڑائچ، نسیم زھرہ، عبدالرؤف، افتخار احمد، ماروی سرمد، توثیق حیدر، عدیل ہاشمی، جواد بشیر اور نا جانے کس کس کو زندگی میں پہلی بار دیکھا اور سب کو رحمن صاحب کا عاشق پایا تو معلوم ہونا شروع ہوا کہ آئی اے رحمن کس شخصیت کا نام ہے، وجاہت مسعود صاحب چونکہ برادر مکرم اختر علی سید صاحب کے پرانے دوست تھے اس لیے ان سے شناسائی تھی لیکن انکی اہلیہ تنویر جہاں کو بھی پہلی بار HRCP میں دیکھا، میں اس وقت سکول میں تھا کہ جب میں نے ان سب لوگوں کو وہاں آتے دیکھا میرے لیے تو یہ سب لوگ سلیبریٹیز تھے کہ جن کو ہم ملتانی ٹی وی پر دیکھا کرتے تھے لیکن وہاں جب یہ لوگ ملے تو معلوم یہ ہوا کہ یہ سب متاثرین آئی اے رحمن ہیں سب ان سے سبق لینے آتے ہیں یا انکے دوست ہیں مجھے جس دن یہ معلوم ہوا تھا کہ رحمن صاحب ان لوگوں میں سے ہیں کہ جن کو فیض احمد فیض اپنے دوستوں میں شمار کرتے تھے تو میری حیرت کی انتہا نہ رہی کیونکہ میں جن رحمن صاحب کو جانتا تھا وہ تو میری بات بھی بہت غور سے سنتے اور سراہتے تھے، ایک بار ہم نے لاہور میڈیا لائسیم میں انسانی حقوق کے عالمی دن کے موقع پر ایک سیمینار رکھا جس میں شرکت کی دعوت دینے HRCP کے دفتر رحمن صاحب سے ملنے گیا معلوم ہوا کہ رحمن صاحب BBC اردو کو انٹرویو دے رہے ہیں اپنا نام لکھا ابا کا نام لکھا اور اندر پرچی بھیجی تو فوراً انہوں نے اندر بلوا لیا رحمن صاحب انٹرویو دیتے رہے اور میں کیمرے کے پیچھے بیٹھ کر سوچتا رہا کہ میں کس رتبے کے آدمی سے میں ملنے آیا ہوں کہ جس کا BBC اردو سروس اسکے دفتر میں آ کر انٹرویو کرتی ہے فراغت ہوئی تو پہلے ابا کا پوچھا پھر والدہ کی خیریت دریافت کی اور پھر پوچھا کہ کیسے آنا ہوا درخواست کی کہ اگر آپ تشریف لے آئیں تو ہماری بہت حوصلہ افزائی ہوگی فرمایا کہ مجھے لے کر جانا پڑے گا مقررہ دن انکو لینے پہنچا تو میں نے ان سے کہا کہ رحمن صاحب میرے پاس چھوٹی سی گاڑی ہے تو کہنے لگے “ارے ہم بھی تو چھوٹے سے ہی ہیں”

آئی اے رحمٰن ملتان میں سیمنار کی صدارت اور علی نقوی نظامت کر رہے ہیں

میڈیا لائسیم تشریف لائے اور وہاں ہر موجود ہمارے دس بارہ لوگوں سے انسانی حقوق پر، انسانی رویوں پر، ناولز پر، لٹریچر پر، سیاست پر، سیاست دانوں پر خوب دیر تک بات کی چائے پی گپیں سنائیں اسی دن رحمن صاحب نے مجھے بتایا کہ انکی صحافتی زندگی کا آغاز انہوں نے پیج تھری (یعنی فلموں اور شوبز کی خبروں والے صفحے) سے کیا بتانے لگے کہ انکی اعجاز درانی جو بعد میں میڈم نور جہاں کے شوہر ہوئے سے دوستی تھی ایک بار اعجاز درانی نے رحمن صاحب کو کہا کہ آج تمہیں ایک خبر بریک کرنی ہے آؤ میرے ساتھ رحمن صاحب کہتے ہیں کہ اعجاز مجھے لے کر لبرٹی گول چکر کے ساتھ نور جہاں کی کوٹھی پر لے آئے کہا کہ تم رکو میں آتا ہوں اعجاز صاحب اندر چلے گئے اور آدھا یا پون گھنٹہ واپس نہ آئے جب باہر آئے تو کہا کہ میں نے نور جہاں سے نکاح کر لیا ہے یہ خبر چھاپ دو اور کل شام کو ایک مختصر سی پارٹی ہوگی اس میں اخبار ساتھ لے کر آنا….
رحمن صاحب کا ملتان سے کئی حوالوں سے تعلق تھا جب تک صحت نے اجازت دی آپ ملتان متواتر آتے رہے چاہے وہ HRCP کے ایونٹ ہوں یا اور سماجی تنظیموں کے، ترقی پسندوں کے اجلاس ہوں یا ڈیموکریٹک موومنٹ ہوں مجھے یاد ہے کہ جب پنجاب بھر سے لگ بھگ ڈیڑھ سو سے دو سو تنظیموں کے لوگ ملتان جمع ہوئے اور یہاں سے کئی بسوں پر مشتمل قافلہ مختاراں مائی سے ملنے جتوئی گیا جس کی صدارت آئی اے رحمن، عاصمہ جہانگیر اور حنا جیلانی نے کی، شانتی نگر نذر آتش ہوا تو بھی رحمن صاحب ملتان سے ہی خانیوال گئے اور پریس کانفرنس بھی وہیں سے کی، راشد رحمن کو بھٹہ مزدوروں کے حقوق کا اگر سب سے بڑا علمبردار کہیں تو غلط نہ ہوگا مجھے وہ تین روزہ اجلاس بھی یاد ہے جو کہ پاسٹرل انسٹیٹیوٹ میں ہوا جس میں سوشل سیکٹر کے اعلیٰ دماغوں نے آئی اے رحمن کی سربراہی میں وہ تجاویز مرتب کیں کہ جنہوں نے پرویز مشرف جیسے کی حکومت کو بھٹہ مزدوروں کے حق میں قانون سازی پر مجبور کیا، اگر میری یادداشت درست کام کر رہی ہے تو آخری بار رحمن صاحب جس تقریب میں شریک ہوئے وہ جنابِ قسور گردیزی کی برسی تھی جو 2017 کے آخری مہینوں میں ملتان ٹی ہاوس میں ہوئی تھی جس میں آئی اے رحمن، وجاہت مسعود، عبدالحئی بلوچ اور کئی ترقی پسندوں نے شرکت کی مجھے یاد ہے کہ جب اس تقریب سے فارغ ہوئے تو کھانے کے لیے ایک ریسٹورنٹ گئے رحمن صاحب کھانا کھا رہے تھے تو ایک صاحب (کہ جن کو ترقی پسندی اور ترقی پسندوں سے کچھ خاص رغبت نہیں ہے) آکر رحمن صاحب کے ساتھ بیٹھ گئے نہیں معلوم انکو یہ کیوں محسوس ہوا کہ رحمن صاحب کوئی پیپلزپارٹی کے جیالے ہیں انہوں نے پیپلز پارٹی کو بھٹو، بینظیر ،زرداری اور بلاول ہر وہ دشنام طرازی کی کہ اللہ کی پناہ، رحمن صاحب جو آخری عمر میں ویسے ہی اونچا سننا شروع ہوگئے تھے سکون سے کھانا کھاتے رہے کھانا کھا کر رحمن صاحب نے گرین ٹی کا آڈر دیا اور ان صاحب سے کہا کہ کیا آپ مانتے ہیں کہ پاکستان میں حکومت سازی فوج کرتی ہے؟؟ انہوں نے کہا ہاں بالکل تو رحمن صاحب نے کہا کہ پھر ہر مارشل لاء کے بعد کیوں حکومت صرف پیپلز پارٹی کو مل جاتی ہے؟؟؟ یہ کہہ کر رحمن صاحب کسی اور سے کوئی اور بات کرنے لگے اس بات میں کہ جس کو کرنے میں رحمن صاحب کو شاید تیس سیکنڈ بھی نہیں لگے اس نے مجھے پیپلزپارٹی اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کے پورے تعلق کو پوری طرح سمجھا دیا میں نے با آواز بلند رحمن صاحب سے کہا کہ سر آپ نے آج مجھ پر اتنا بڑا احسان کیا ہے کہ میں آپ کو بتا نہیں سکتا، آپ کے ایک جملے نے نا جانے مجھے کتنی ہزار کتابیں پڑھا دیں…
ہم نے سنا تھا کہ ایک عالِم کی موت ایک عالَم کی موت ہے یہ بات رحمن صاحب کی وفات نے پوری طرح سمجھا دی ہے کل رات ایک دوست سے اس وقت ملک میں موجودہ دھرنوں پر بات ہو رہی تھی تو میں نے کہا کہ یہ ریاست جنونیون اور جنونیت کے سامنے اتنی بے بس ہے کہ وہ کہ جو بلوہ کرتے ہیں انکی حفاظت پر معمور ہو جاتی ہے اور ایسے میں اندھیرا اور وحشت اور بھی بڑھ جاتی ہے، ہمارے استاد خالد سعید کے بقول یہ ایک عہد تاریک ہے، ایک ڈارک ایج، کل اختر علی سید صاحب نے اپنے تعزیتی آرٹیکل میں رحمن صاحب کو روشنی کے مینار سے تشبیہ دی میں اپنے استاد اور رحمن صاحب کے پرانے دوست خالد سعید کے بیان کے روشنی میں دیکھوں تو رحمن صاحب ایک لائٹ ہاوس ہیں وہی لائٹ ہاؤس کہ جس کی ایک جھلک بھٹکے ہوئے ماہی گیروں کے لیے کائنات کا سب سے بڑا تحفہ ہوتی ہے، ہمارے جس استاد نے ہمیں بتایا کہ یہ عہد تاریک ہے اسی نے بتایا کہ آئی اے رحمن جیسے لوگ قابلِ تقلید ہیں وہی ہیں کہ جن کے ہاتھ پر سچ کی، انسانی حقوق کی جدوجہد کی، ظلم سے انکار کی، عہدے اور ثروت سے مرعوب نہ ہونے کی بیعت کی جا سکتی ہے….
خدا سے دعا ہے کہ وہ رحمن صاحب جیسے بڑے قد کے روشن لوگ پیدا کرتا رہے تاکہ مجھ ایسے بونے اس عہد تاریک میں ٹھوکر کھا کر منہ کے بل گرنے سے بچ سکیں….
آخر میں آج ہر اسُ شخص کو رحمن صاحب کا پُرسہ رحمن صاحب کی تعزیت پیش کرتا ہوں کہ جس نے کبھی ایک لمحے کو بھی ظلم سے آزادی کا خواب دیکھا ہے، جس نے کبھی ایک بھی لمحے کے لیے کسی سسکتے ہوئے کی آہ محسوس کی ہے، جس کا کوئی بھائی، باپ، شوہر، بیٹا کسی بھٹے میں جل کر مر گیا تھا، جس کی کوئی بیٹی، ماں، بہن کاری کر کے مار دی گئ یا قرآن پاک سے بیاہ دی گئی یا تیزاب سے جھلسا دی گئی، وہ باپ کہ جس کی پانچ سالہ بیٹی کی لاش کوڑے کے ڈھیر سے ملی تھی، وہ جمہوری کارکن کہ جس کی آدھی عمر کسی سیاسی رہنما کہ حمایت کی پاداش میں جیل کی کوٹھری کھا گئی، وہ سڑک پر مارے جانے والا آدمی کہ جس کا کُل قصور یہ تھا کہ وہ اس فرقے سے تعلق نہیں رکھتا کہ جو ریاست کا فرقہ ہے، اور وہ تمام لوگ کہ جو اس عہد تاریک کی تاریک راہوں میں مارے گئے، جاتے جاتے ایک بات اشعر بھائی اور میرے بہت ہی پیارے احمر بھائی کے لیے مجھے نہیں معلوم کہ آپ پر کیا بیت رہی ہے لیکن میں آپکو یہ کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اسُ عظیم باپ کی اولاد ہیں کہ جن کے جانے سے وہ وہ بھی یتیم ہوگیا کہ جس کو شاید یہ معلوم بھی نہیں کہ رحمن صاحب ہی اس کے کفیل تھے….. کیونکہ رحمن صاحب کی وفات ایک شخص کی نہیں ایک زمانے اور زمانے کے شعور کی موت ہے اور میں آئی اے رحمن کا نہیں انسانیت کا تعزیت نامہ لکھ رہا ہوں جس کو مذید لکھنے کی اب مجھ میں ہمت نہیں بچی……

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker