راول پنڈی : پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کے وکیل و پارٹی کے سینئر نائب صدر شیر افضل مروت نے کہا ہے کہ توشہ خانہ کیس میں نااہلی کے پیش نظر سابق وزیراعظم نے اس دفعہ ازخود پارٹی کے چیئرمین کا انتخاب نہ لڑنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم تحریک انصاف کے ترجمان نے ان کے اس بیان کی تردید کی ہے۔
اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیر افضل خان مروت نے کہا کہ ’آج ہم نے عمران خان کو آگاہ کیا تھا کہ ان کے اوپر نااہلی کی تلوار لٹک گئی ہے اور الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کا محرک بھی یہی تھا کہ عمران خان کو پی ٹی آئی کی چیئرمین شپ سے ہٹایا جائے‘۔
انہوں نے کہا کہ ’قانونی قدغن کی وجہ سے چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان اس دفعہ چیئرمین پی ٹی آئی کے امیدوار نہیں ہوں گے‘۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ’قانونی قدغن، توشہ خانہ کیس کے فیصلے میں نااہلی کی وجہ سے عمران خان اس دفعہ آئینی اور قانونی طور پر پارٹی کے چیئرمین کا الیکشن نہیں لڑ سکتے ہیں‘۔
ان کا کہنا تھا کہ ’خان صاحب نے خود یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ اس دفعہ چیئرمین پی ٹی آئی کے عہدے کے لیے انتخاب نہیں لڑیں گے اور اتفاق رائے سے فیصلہ ہوا ہے کہ عدالت کی جانب سے جونہی نااہلی کا یہ فیصلہ ختم ہوگا تو انہیں دوبارہ پی ٹی آئی کا چیئرمین بنادیا جائے گا‘۔
شیر افضل مروت کا کہنا تھا کہ ’جو بھی انتخابات ہوں گے، عمران خان چیئرمین پی ٹی آئی ہیں، یہ وقتی صعوبتیں ہیں، جب بھی یہ نااہلی ختم ہوگی عمران خان دوبارہ پی ٹی آئی کے چیئرمین ہوں گے‘۔
دوسری جانب پی ٹی آئی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا گیا کہ ترجمان نے پی ٹی آئی کے انٹرا پارٹی انتخابات کے انعقاد اور چیئرمین عمران خان کے نئی مدت کے لیے انتخاب میں حصہ لینے کے معاملے پر میڈیا میں کی جانے والی قیاس آرائیوں کی سختی سے تر دید کی ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کے الیکشن کمیشن کے حکم پر کروائے جانے والے انٹراپارٹی انتخابات میں بطور چیئرمین حصہ نہ لینے کے حوالے سے سینئر رہنما کے دعویٰ کی تر دید کی جاتی ہے او ر انٹرا پارٹی انتخاب کے انعقاد کے حوالے سے تمام اہم امور پر غور و خوض کا سلسلہ جاری ہے۔عمران خان کے وکیل کا بیان رد کرتے ہوئے کہا گیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان کی انتخابات سے دستبرداری یا کسی اور رہنما کی نامزدگی کا ہرگز کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔
ترجمان پی ٹی آئی نے کہا کہ انٹراپارٹی انتخابات کے انعقاد، تاریخ و طریقہ کار اور امیدواران کے تعین سمیت تمام اہم معاملات پر جونہی قیادت کسی نتیجے پر پہنچے گی، اسے باضابطہ طور پر جاری کیا جائے گا۔
واضح رہے کہ 20 نومبر کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے پی ٹی آئی کو 20 روز میں انٹرا پارٹی انتخابات کرانے کا حکم دے دیا تھا۔
( بشکریہ: ڈان نیوز )
فیس بک کمینٹ

