لاہور : یوٹیوبرعمران ریاض خان کو مذہبی منافرت پھیلانے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا ہے۔پولیس نےعمران ریاض کو ان کے گھر سے گرفتار کیا۔
واضح رہے کہ ایف آئی اے نے ججز کے خلاف سوشل میڈیا مہم پر صحافی اور اینکر پرسن عمران ریاض اور اسد طور کو نوٹسز جاری کرتے ہوئے کل طلب کیا ہے۔
اسد طور کو سائبر کرائم اسلام آباد جبکہ عمران ریاض کو سائبر کرائم لاہور میں 11 بجے پیش ہونے کا حکم دیا گیا ہے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل بھی عمران ریاض خان متعدد بار گرفتار ہوچکے ہیں جبکہ وہ ایک لمبے عرصے کے لیے لاپتہ بھی رہے ہیں جس کے دوران ان کی صحت کافی خراب ہوگئی تھی تاہم اب وہ کچھ بہتر تھے اور صحافت میں ایک مرتبہ پھر سرگرم نظر آرہے تھے ۔
صحافی صدیق جان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر عمران ریاض خان کی گرفتاری کی تصدیق کی ہے ۔
قبل ازیں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) سائبر کرائم کی جانب سے چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف چلائی جانے والی مہم پر صحافی اسد طور اور عمران ریاض کو نوٹسز جاری کیے گئے ہیں۔ دونوں صحافیوں کوآج 23 فروری کو طلب کیا گیا ہے۔
جاری کردہ نوٹسز کے مطابق صحافی اسد طور اور عمران ریاض کو چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کیخلاف چلائی جانے والی سوشل میڈیا مہم سے متعلق بیان کیلئے طلب کیا گیا ہے۔
صحافی عمران ریاض کو ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر گلبرگ لاہور جبکہ اسد طور کو ایف آئی اے سائبر کرائم رپورٹنگ سنٹر اسلام آباد میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔

