تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کا تجزیہ : ماضی بھلا کر بھارت کے ساتھ امن قائم کرنے کا خواب

وزیر اعظم عمران خان کےبعد اب آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھارت کےساتھ تمام تنازعات حل کرنے اور علاقے میں امن کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تاہم ملک کی سیاسی و عسکری قیادت نے امن کی اہمیت اور علاقائی ترقی کا حوالہ دیتے ہوئے ، یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس مقصد کےلئے بھارت کو سازگار ماحول پیدا کرنا ہوگا اور کشمیر کے پر امن تصفیہ کی طرف پیش رفت کرنا ہوگی۔ جنوبی ایشیا میں ایٹمی ہتھیاروں سے لیس دو ہمسایہ ملکوں کے درمیان کسی بھی سطح پر امن کا حوالہ ایک خوش آئیند بات ہے لیکن کسی ایک فریق پر اس کے لئے پیش قدمی کی ذمہ داری عائد کرنے سے کوئی بامعنی نتیجہ نکلنے کی امید نہیں کی جاسکتی۔ عمران خان اور جنرل باجوہ کی گفتگو کا یہ پہلو تو نہایت مثبت ہے کہ پاکستانی قیادت اب مرنے مارنے اور ہزار سال جنگ کرنے کی بجائے امن قائم کرنا چاہتی ہے۔ اور ہتھیاروں کی دوڑ جیتنے کی بجائے مواصلات و تجارت کے فروغ اور ماحولیات و بھوک جیسے مسائل سے نمٹنے کو اہمیت دینے کا اعلان کررہی ہے۔ تاہم ایسا اعلان کرتے ہوئے پہلے ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہوگی۔ ملکی حالات کو دشمنی کے نعروں کی گونج سے نجات دلانا ہوگا۔ یہ طے کرنا بھی ضروری ہوگا کہ کشمیر پر بھارت کے ساتھ معاملات کرتے ہوئے کون سے امور اہم ہوں گے اور کن امور پر کچھ لین دین کیا جاسکتا ہے۔ یہ مقصد صرف تقریریں کرنے اور امن کی خواہش کو ’مقصد یا ویژن‘ بتانے سے حاصل نہیں کیا جاسکتا۔
پاکستان اور بھارت دونوں اس وقت سیاسی بحران کا سامنا کررہے ہیں۔ بھارت میں نریندر مودی کی سربراہی میں حکمران پارٹی بی جے پی نے ہندو انتہا پسندی کو فروغ دیا ہے، اقلیتوں کے لئے زندگی کو دشوار بنایا ہے اور سیاسی انارکی کا ماحول پیدا کیا ہے۔ بھارتی جنتا پارٹی اور نریندر مودی اس وقت بھارت کا سیکولر تشخص تبدیل کرنے کے قومی ایجنڈے پر گامزن ہیں۔ ان کا اگلا ٹارگٹ بنگال میں اقتدار حاصل کرنا ہے تاکہ بھارت میں سیکولر سیاست کے آخری قلعہ کو بھی فتح کیا جاسکے۔ 27 مارچ سے شروع ہونے والے یہ انتخابات بھارت کی سیاسی تاریخ میں فیصلہ کن ہوسکتے ہیں۔
عالمی جائیزوں اور رپورٹوں میں بھارتی جمہوریت ، شہری آزادیوں، میڈیا و عدالتوں کی خود مختاری اور سماجی قوت برداشت کے حوالے سے منفی اشاریے سامنے آرہے ہیں۔ ان رپورٹوں کو وزارت خارجہ کے تردیدی بیان سے مسترد کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یا بھارت کے حجم اور بیرونی دنیا کے لئے اس کی تجارتی و معاشی اہمیت کو غیرضروری طور پر اپنی طاقت سمجھ کر نئی دہلی حکومت متکبرانہ اور غیر مفاہمانہ طرز عمل اختیار کرتی ہے۔ چین اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی دوری میں بھارت ، امریکہ کا ’حلیف‘ بن کر انسانی حقوق کے حوالے سے اپنی بدکرداری اور ظالمانہ پالیسیوں کو چھپانے کی کوشش کرتا ہے۔ نریندر مودی حکومت کا خیال ہے کہ ان خارجی وجوہ کی بنا پر وہ اندرونی طور پر بھارت کا انسانی اور جمہوری مزاج تبدیل کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔
اس وقت بھارت کے ساتھ بقائے باہمی اور امن کی بات کرنے والے عمران خان کچھ عرصہ پہلے تک نریندر مودی کو فاشسٹ اور ہندو انتہاپسندی فروغ دینے والا لیڈر قرار دیتے تھے۔ پاکستانی قیادت کے تازہ بیان، ان کے ماضی قریب کے رویے کے برعکس ہیں لیکن اس کے باوجود انہیں درست سمت میں اٹھایا جانے والا قدم کہا جائے گا۔ البتہ پاکستان کا سیاسی ماحول بھی اس نئے پاکستانی رویہ کی کامیابی کی ضمانت فراہم نہیں کرتا۔ پاکستان اگر کشمیر کے سوال پر بھارت کے ساتھ بات چیت کے ذریعے معاملات طے کرنا چاہتا ہے اور اسے نئی امریکی حکومت یا دوسرے جمہوری ممالک سے توقع ہے کہ وہ کسی طور بھارت کو مذاکرات پر آمادہ کرلیں گے تو بھی یہ موقع آنے سے پہلے ملک میں اس سوال پر سیاسی و عوامی اتفاق رائے پیدا کرنا حکومت اور اس کی پشت پناہ فوج کا ہی کام ہے۔
عمران خان کی حکومت کو جنرل قمر جاوید باجوہ کی سیاسی ’ہائبرڈ وار ‘ یا منصوبہ کہا جاتا ہے۔ عسکری قیادت دو بڑی موروثی پارٹیوں سے نجات حاصل کرنے کے لئے ایک تیسری سیاسی قوت کھڑی کرنے اور اس کی حکومت قائم کروانے میں تو کامیاب ہوگئی ۔ اس حکومت کے خلاف اٹھنے والے سیاسی طوفان کو کسی حد ٹالنے کا اہتمام بھی کیا گیا ہے لیکن حکومت کی انتظامی، سیاسی اور معاشی ناکامیوں کی وجہ سے ایک طرف عوام میں ناراضی اور مایوسی پائی جاتی ہے تو دوسری طرف سیاسی مخالف قوتیں، اس عوامی پریشانی کو حکومت کے خلاف میدان ہموار کرنے کے لئے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کررہی ہیں۔ ملک میں سیاسی مفاہمت اور مل جل کر مسائل پر غور کرنے کا ماحول مفقود ہے اور پارلیمنٹ عملی طور سے غیر مؤثر اور غیر فعال ہے۔ حالیہ سینیٹ انتخابات اور اس تناظر میں سامنے آنے والے الزامات میں اس سیاسی بداعتمادی کی واضح جھلک دیکھی جاسکتی ہے جس کا اس وقت ملک کو سامنا ہے۔
ایسے ماحول میں حکومت اور فوج جب بھارت کے ساتھ مفاہمت اور جنگ کی بجائے مل جل کر ترقی و خوشحالی کا سفر کرنے کی بات کرے گی تو اس پر ’ کشمیر فروشی‘ کا لیبل چسپاں ہوتے دیر نہیں لگے گی۔ موجودہ حکومت ملک پر اپنی گرفت قائم رکھنے کے لئے میڈیا کنٹرول کرنے اور خبروں کی آزادانہ ترسیل میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ اداروں کے حوالے سے متوازن رویہ بھی دکھائی نہیں دیتا۔ سب اداروں کو اپنی آئینی حدود میں کام کرنے کا موقع دینے کا ماحول موجود نہیں ہے۔ ایک طرف فوج اور احتساب بیورو جیسے اداروں کو اپنی ’قوت‘ قرار دیا جاتا ہے تو دوسری طرف عدلیہ اور الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ساتھ تصادم کا ماحول پیدا کیا گیا ہے۔ میڈیا کو پہلے مالکان پر دباؤ کے ذریعے کنٹرول کیا گیا ، اس کے بعد سوشل میڈیا کے منہ زور آؤٹ لیٹس کا سہارا لے کر سراسیمگی اور نفرت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ اپوزیشن بھی حکمرانوں کے ان ہتھکنڈوں کا ترکی بہ ترکی جواب دینے کا اہتمام کررہی ہے۔
کشمیر میں امن کے حوالے سے بات کرتے ہوئے سب سے اہم پہلو کشمیری عوام کی رائے ہے۔ پاکستان کا سرکاری مؤقف اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ ریفرنڈم کے ذریعے کروانا ہے۔ بھارت نہ صرف اس مؤقف کو مسترد کرتا ہے بلکہ 5 اگست 2019 کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرتے ہوئے، اسے وفاقی انتظامی یونٹوں میں تقسیم کرنے کے قانون سے ، نئی دہلی نے سرکاری طور پر کشمیر کو بھارت کا ’حصہ‘ قرار دینے کا اعلان کیا ہے۔ پاکستان نے ضرور اس اقدام پر احتجاج کیا ہے لیکن پاکستان میں یہ رائے بھی موجود ہے کہ پاکستانی حکومت اس بھارتی اقدام کے اثرات سمجھنے اور کشمیری عوام کے حقوق کا تحفظ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ دوسری طرف حکمران تحریک انصاف آزاد کشمیر میں حکومت قائم کرنے کی تو شدید خواہش رکھتی ہے تاکہ گلگت بلتستان کی طرح یہاں بھی اس کا سیاسی تسلط قائم ہوسکے لیکن پاکستان کے زیر انتظام کشمیری علاقے کو کبھی کشمیری عوام کی خود مختاری کی مثال بنانے کی کوئی کوشش دیکھنے میں نہیں آئی۔ ان حالات میں پاکستانی حکام کشمیر کے سوال پر سرکاری مؤقف کی ترجمانی تو کرسکتے ہیں لیکن انہیں کشمیریوں کی ’آواز‘ کہنا درست نہیں ہوسکتا۔ آج کی تقریر میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے اعتراف کیا ہے کہ موجودہ عہد میں قومی سلامتی صرف عسکری قوت سے حاصل نہیں کی جاسکتی۔ نہ ہی کوئی ملک تن تنہا اپنی حفاظت کا مقصد حاصل کرسکتا ہے۔ سلامتی کے نقطہ نظر سے عوام کی فلاح و بہبود، علاقائی ترقی اور اقوام کے درمیان وسیع تر اشتراک و تعاون اہم ہے۔ انہوں نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ بھارت کے ساتھ تصادم کی صورت حال کے باوجود پاکستان نے اسلحہ کی دوڑ میں شامل ہونے سے گریز کیا ہے اور اپنے دفاعی اخراجات کم کئے ہیں۔ یہ ایک علیحدہ بحث ہے کہ صرف دفاعی اخراجات کم کرنے سے پاکستان اور بھارت جیسے کثیر آبادی کے حامل ممالک کیوں کر تیزی سے خوشحالی اور غربت کے خاتمہ کا مقصد پورا کرسکیں گے۔ لیکن اگر ایسا ہوسکے تو اسے درست سمت میں اہم قدم ضرور کہا جائے گا۔ تاہم یہ مقصد حاصل کرنے کے لئے پاکستان کے پاس افغان امن مذاکرات کے علاوہ زاد راہ میں کچھ بھی نہیں ہے۔ یہ مذاکرات بھی تعطل کا شکار ہیں اور صدر جو بائیڈن نے معاہدے کے مطابق یکم مئی تک افغانستان سے امریکی فوجیں واپس بلانے کی ڈیڈ لائن پر عمل کو مشکل ہدف قرار دیا ہے۔
پاکستان ابھی تک فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کو اس بات پر قائل نہیں کرسکا کہ اس نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فتح حاصل کی ہے بلکہ انتہاپسندی پر بھی قابو پالیا ہے۔ دہشت گردی کے سب سہولت کاروں سے نجات حاصل کرلی گئی ہے اور اب ملک میں ٹیرر فنانسنگ کا کوئی طریقہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ایف اے ٹی ایف نے گزشتہ ماہ ہی پاکستان کو مزید چار ماہ کے لئے گرے لسٹ میں رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ دہشت گردوں کی مالی امداد کے انسداد کے لئے کام کرنے والے اس گروپ کا یہ فیصلہ پاکستان کی عالمی شہرت کے لئے بدستور کلنک کی حیثیت رکھتا ہے۔ عالمی اداروں سے ایسے تنازعہ کا شکار ہوتے ہوئے پاکستان علاقائی تزویراتی تصویر میں خود کو بھارت کے مدمقابل رکھنے کی خواہش تو کرسکتا ہے لیکن اس کی حیثیت کو چیلنج نہیں کرسکتا۔
ماضی کو بھلا کر خوشگوار مستقبل تعمیر کرنے کی دعوت ایک بھلا اور دل خوش کن پیغام ہے لیکن بھارت سے اعتماد سازی کا مطالبہ کرنے سے پہلے پاکستان کو خود ہوم گراؤنڈ پر بہت سے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جن سے اس کی کہی ہوئی بات کو قبولیت و اعتبار حاصل ہو۔ کشمیری عوام کی خواہشات جاننا اور ان کے مطابق پاکستانی پالیسی استوار کرنا اس حوالے سے پہلا ٹھوس اور مثبت قدم ہوسکتا ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker