حضرت غالب نے فرمایا تھا
پاتے نہیں جب راہ تو چڑھ جاتے ہیں نالے
رکتی ہے مری طبع تو ہوتی ہے رواں اور
یہ شعر مجھے گزشتہ برس کے سیلاب کے حوالے سے یاد آ گیا جب رودکوہیوں نے ہمارے ڈیرہ غازی خان اور راجن پور میں تباہی برپا کر دی تھی ۔ رود کوہیوں کی ہزاروں سال پرانی راہوں میں سڑکوں ریلوے لائنوں نہروں اور عمارتوں کی رکاوٹیں کھڑی کر دی گئی تھیں ، انہوں نے راہ نہ پایا تو وہ چڑھ گئیں اور کنارے توڑ کر جو کچھ بھی راہ میں آیا تہس نہس کر ڈالا ۔ صورت حال اب بھی جوں کی توں ہے ، پری مون سون شروع ہیں اور ماہرین بتاتے ہیں کہ مون سون اس برس بھی ظالم ہوں گی ، ہم تو اس کا ایک نمونہ اسی جون میں دیکھ چکے ہیں جب رودکوہی وڈور کا پانی چوٹی زیریں کے مشرق میں مانکا نہر کے گزشتہ سیلاب کے ٹوٹے ہوئے کنارے سے قبرستان شاہ جہاز میں داخل ہو گیا۔
بہرحال میرا موضوع سیلاب نہیں شاہ جہاز ہے ، اور شاہ جہاز کو بھی یہاں ایک مثال کے طور پر استعمال کر رہا ہوں ، چوٹی زیریں کے مشرق میں ایک قدیم قبرستان ہے جہاں برگد کے ایک بڑے پیڑ تلے ایک قدیم قبر ہے جسے شاہ جہاز یا جہاز شاہ کا مزار کہا جاتا تھا ، اب جہاز سے کیا مراد ہے یہ کسی کو علم نہیں ، ان کی کوئی تاریخ نہیں ملتی ۔۔۔ البتہ ہم نے جب سے ہوش سنبھالا ہے یہاں جہازوں کا ڈیرہ ضرور دیکھا ہے ساوی پینے والے بلند پرواز جہاز ( اگرچہ نشئیوں کے لیے جہاز کی اصطلاح کا آغاز بہت بعد میں ہوا ) ۔ چند سال قبل کسی بقراط نے سوچا کہ یہ شاہ جہاز کیا نام ہے چلو اسے شاہ _حجاز کر دیتے ہیں حالانکہ شاہ _ حجاز کی اصطلاح یا لقب کہہ لیں ہماری نعتیہ شاعری میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
ڈیرہ غازی خان شہر میں ایک مزار ہے جسے ہم بچپن سے مکلائیت شاہ کے مزار کے نام سے جانتے ہیں ، اس مزار کے اطراف جو قبرستان ہے اسے بھی قبرستان مکلائیت شاہ کہا جاتا تھا۔ تاریخی کتب میں ایک مجذوب درویش کا ذکر ملتا ہے جنہیں مکلائیتی فقیر کہا جاتا تھا اور مکلائیت شاہ بھی ، ہندو مسلم سب ان کا احترام کرتے تھے بلکہ بھگت کبیر کی طرح ہندو انہیں ہندو کہتے تھے اور مسلمان دعویٰ کرتے تھے کہ وہ مسلمان ہیں۔ چند عشرے قبل کسی نابغے نے اس نام کو ملا قائد شاہ کر دیا ، اب یہ نام ہی ایک بڑے تضاد کو ظاہر کر رہا ہے ایک صوفی فقیر ملا کیسے ہو سکتا ہے ، صوفی نے ہمیشہ ملا کے خلاف آواز بلند کی اور ملا ہمیشہ صوفی کا جانی دشمن رہا بلکہ جانیں لیتا بھی رہا ، اور پھر قائد ایک ٹائیٹل یا لقب ہے نام نہیں ، ہمیں تو تاریخ میں کسی شخصیت کا نام قائد نہیں ملا۔
یہ ناموں کو تہذیب و تمدن اور اسلام کے رنگ میں ڈھالنے کی کوئی عجب بیماری پاکستانیوں کو لاحق ہے ۔ چیچنیا کے لیڈر زیلم خان نے تو باقاعدہ احتجاج کیا تھا کہ پاکستانی میڈیا ان کا نام بگاڑ کر سلیم خان بنا دیتا ہے ۔ اسی طرح آذربائیجان کے موجودہ صدر کے والد جیڈر ایلیوف تھے جنہیں پاکستانی میڈیا نے حیدرعلی بنا دیا تھا ،جنوبی افریقہ کرکٹ بورڈ کے صدر ہوا کرتے تھے ایلے بیشر ، اسے پاکستانی میڈیا میں علی باقر لکھا اور پکارا جاتا تھا۔
قائد اعظم کے والد جینا بھائی پونجا کو پونجا جناح بنا دیا گیا ۔
ایسا ہی ایک واقعہ ہمارے خاندان میں بھی ہوا ، ہمارے دادا کا نام تھا سید خان ، یہ بلوچی نام ہے ،ںسید سے مراد ہے sayyed , بلوچی میں اسے ی کے اوپر سے تشدید اڑا کر س ے د پڑھتے ہیں ۔ جب بھٹو صاحب کے دور میں شناختی کارڈ بننا شروع ہوئے تو ہمارے کسی افلاطون نے فارم پر کرتے ہوئے سید خان کی بجائے محمد سعید خان لکھوا دیا ، وہ تو بعد میں جب انتقال اراضی ، فرد ملکیت اور گوشواروں کی ضرورت پڑی تو پھر بہت دقتوں کے بعد نام درست کرایا گیا ۔ ایسے ہی ایک صاحب نے اپنے والد جونگل خان کا نام جہانگیر خان کر دیا تھا ۔ ویسے بھی ہمارے بزرگوں کے نام سادہ بلوچکے ہوتے تھے کونسا وقار الملک محسن الملک یا صلاح الدین احمد قسم کے ہوا کرتے تھے ۔ ہمارے دادا سید خان کے والد جلال خان تھے ان کے والد بڈھا خان ، ان کے پھر جلال خان اور جلال خان کے پھر بڈھا خان اور بڈھا خان کے والد تھے شاہ عالم خان۔ جلال اور شاہ عالم تو ٹھیک ہیں بڈھا خان کا اگر لارڈ بدھا یا مہاتما بدھ کر دیا جائے تو کیسا رہے !!
فیس بک کمینٹ

