اہم خبریں

غزہ سے اسرائیل پر راکٹ حملہ : جوابی کارروائی میں نو افراد ہلاک

بیت المقدس : اسرائیلی پولیس سے جھڑپوں میں پیر کو تین سو سے زیادہ فلسطینیوں کے زخمی ہونے کے بعد غزہ سے اسرائیلی علاقے میں راکٹ داغے گئے ہیں جبکہ اسرائیل کے جوابی حملے میں بچوں سمیت نو افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔
فلسطینی عسکریت پسند تنظیم حماس کی جانب سے اسرائیل کو دھمکی دی گئی تھی کہ اگر اسرائیلی پولیس کی جانب سے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ نہیں رکا تو وہ راکٹ حملے کر سکتی ہے۔ اسرائیلی حکام کے مطابق پیر کو داغے جانے والے راکٹ گرنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا تاہم اسرائیل نے جوابی کارروائی میں حماس کے تین شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے۔
اسرائیلی فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کونریکس نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم نے غزہ میں عسکری اہداف کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔’ حماس کے ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ عزالدین قسام بریگیڈ کے ایک کمانڈر محمد عبداللہ فائد ان حملوں میں ہلاک ہوئے ہیں جبکہ فلسطینی وزارتِ صحت کا کہنا ہے اسرائیلی حملوں میں نو افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔
ادھر پیر کو مسجد اقصیٰ کے احاطے میں تازہ جھڑپوں میں 300 سے زیادہ فلسطینیوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ جھڑپوں کے دوران اسرائیلی پولیس نے مظاہرین پر سٹن گرینیڈ داغے جبکہ فلسطینیوں کی جانب سے پولیس اہلکاروں پر پتھراؤ کیا گیا۔
سالانہ ’یروشلم ڈے فلیگ مارچ‘ کے موقع پر پیر کو مزید پرتشدد جھڑپوں کے خدشات ظاہر کیے گئے تھے تاہم اسرائیلی حکام نے یہ مارچ منسوخ کر دیا ہے۔
یہ تقریب سنہ 1967 میں عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل کے مشرقی یروشلم پر قبضے کی یاد میں منائی جاتی ہے۔ اس دن عموماً پرچم لہراتے اور ملی نغمے گاتے سینکڑوں اسرائیلی نوجوان بیت المقدس کے قدیمی مسلم اکثریتی کا رخ کرتے ہیں جبکہ بہت سے فلسطینی اسے دانستہ اشتعال انگیزی قرار دیتے ہیں۔ فلسطینی ہلالِ احمر کا کہنا ہے کہ تازہ جھڑپوں میں جو 305 فلسطینی زخمی ہوئے، ان میں سے 228 کو ہسپتال منتقل کرنا پڑا اور ان میں سے سات کی حالت نازک ہے۔ اسرائیلی پولیس کا کہنا ہے کہ اس کے 21 اہلکار بھی زخمیوں میں شامل ہیں۔

( بشکریہ : بی بی سی اردو )

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker