اپنے محبوب اور ہر دلعزیز (راولپنڈی کے راجہ بازار کی حد تک) وزیر داخلہ شیخ رشید کا حسنِ تکلم ہی ہے کہ میڈیا اپنی ریٹنگ کے چکر میں ان کا شیدا ہے۔ وہ تو خارجہ امور پر بھی بھابڑہ بازار کے لہجے میں زبان دانی کا مظاہرہ کر گزرتے تھے شکر ہے ان کی جان اس ذمہ داری سے جلدی چھوٹ گئی۔ ان کی وزارت کئی بار بدلی مگر ان کا لب و لہجہ نہیں بدلا۔ بات درست ہو نہ ہو ان کا عوامی انداز اسے دلچسپ ضرور بنا دیتا ہے۔ ابھی کل ہی ان کا گھڑا گھڑایا بیان میڈیا کی زینت بنا کہ ”اپوزیشن دم توڑ چکی ہے۔“ مساجد میں ہونے والے فوتگی کے اعلانات کی طرح کا یہ بیان وزارت کی بقا کے لئے ضروری ہوگا لیکن حقیقت کے کتنا قریب ہے؟ اس کا اندازہ اسی روز سوات میں ہونے والے اپوزیشن کے پر ہجوم اور بڑے جلسے سے لگایا جا سکتا ہے ہو سکتا ہے اس پر بھی اپنی روایتی جملے بازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے یہ پھلجڑی چھوڑ دیں کہ یہ جلسہ کسی سیاسی کامیابی کا آئینہ دار نہیں بلکہ لوگ تو متحدہ اپوزیشن کی قل خوانی میں شرکت کے لئے گئے تھے۔ ہمارے سیاسی افق پر سیاستدانوں کی طرف سے اس طرح کی پھلجڑیاں چھوڑنے کا رواج عام ہے۔ اسی سوات کے جلسے سے خطاب کرتے ہوئے پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن کا کہنا تھا کہ عمران خان چلے ہوئے کارتوس ہیں اور چلا ہوا کارتوس دوبارہ بندوق میں نہیں ڈالا جا سکتا۔ عمران ملکی سیاست کا غیر ضروری حصہ ہیں۔ آزاد قوم پر اس طرح کی حکومتیں مسلط نہیں کی جاتیں۔ اس ناجائز حکومت کا خاتمہ کر کے دم لیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کے صدر میاں شہباز شریف نے کہا کہ قوم اب گھبرائے اور عمران کو بھگائے۔
اس جلسہ میں شرکت کے لئے دن میں سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی، پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور لیگی رہنما امیر مقام جس طرح بڑی بڑی ریلیوں میں جلسہ گاہ پہنچے اس سے پورے صوبہ کے پی کے میں پی ڈی ایم کی زندگی کا ثبوت ملا اور ایک ماحول پیدا ہوا۔ جلسہ شروع ہونے سے قبل طوفان بادوباراں سے جلسہ کے بیشتر انتظامات درہم برہم ہو گئے۔ اس کے باوجود جلسہ کا ہونا عوامی دلچسپی کا مظہر ہے۔ جلسہ گاہ میں طالبان کا پرچم لہرانے کو بہت سے معانی پہنائے جا سکتے ہیں تاہم حساس اداروں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے طالبانی پرچم لہرانے والے کو گرفتار کر لیا۔ جلسے کے منتظمین نے خود ہی اس کی نشاندہی کر کے اپنی بریت کی راہ ہموار کرلی۔ جلسہ کے بعد حسب معمول وزراء کی فوج ظفر موج لنگر لنگوٹ کس کر میدان میں آ گئی اور جلسے کو ناکام ثابت کرنے کا فرض منصبی ادا کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سوات میں پی ڈی ایم کا شو ناکام ہے۔ یہ جلسہ نہیں اپوزیشن رہنماؤں کی پکنک تھی۔
وفاقی وزیر اطلاعات فواد چودھری طنزیہ اور مزاحیہ جملے بازی میں خاصا ملکہ رکھتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن والے فارغ ہیں ان کے پاس باتوں کے سوا قوم کے لئے کچھ بھی نہیں ہے۔ انہوں نے (ن) لیگی صدر شہباز شریف کو مخاطب کر کے کہا کہ قوم کی جیب کاٹ کر تو میاں نوازشریف لندن بھاگے ہیں۔ انہوں نے بجلی بنائی کم اور عوام پر مہنگی بجلی گرائی زیادہ تھی حیران ہوں کہ جیل میں کمر درد کی شکایت کرنے والے شہباز شریف سوات میں جلسہ کرنے کے لئے بالکل صحت مند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوات میں پی ڈی ایم کا جلسہ اس اتحاد کو تخلیق کرنے والے بلاول بھٹو اور اے این پی کے بغیر اپنی منزل اور بانی دونوں ہی کھو چکا ہے۔ اسی طرح معاون خصوصی ڈاکٹر شہباز گل کا کہنا تھا کہ این آر او کی امید ٹوٹنے کے بعد چھوٹے میاں نے چپ کا روزہ توڑ دیا ہے اور یہ کہ چھوٹے میاں پی ڈی ایم کے پھٹے غبارے میں ہوا بھرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وزیر اعلیٰ کے پی کے محمود خان نے کہا کہ سیاسی بیروزگاروں کا ٹولہ اپنی کرپشن چھپانے کے لئے اس طرح کی شوبازیوں میں مصروف ہے، انہوں نے جلسہ کو مکمل طور پر ناکام قرار دیتے ہوئے کہا کہ جلسے میں لوگوں کی عدم دلچسپی اور عدم شرکت حکومت اور اس کی پالیسیوں پر اعتماد کی مظہر ہے۔
صوبے کے باشعور عوام نے اپوزیشن کو پہلے بھی مسترد کر دیا تھا اب بھی مسترد کر دیا ہے اور آئندہ انتخابات میں بھی مسترد کر دیں گے۔ قارئین یہ تو تھا متحدہ اپوزیشن کے جلسہ سوات پر دعوؤں اور تبصروں کا پہلا راؤنڈ۔ اب وزراء کی پھبتیوں، پھلجھڑیوں اور تبصروں پر اپوزیشن رہنماؤں کا ”جواب آں غزل“ ہوگا پھر حکومتی حلقوں کی طرف سے جواب در جواب کا ایک اور راؤنڈ ہوگا۔ اس طرح یہ جلسہ کئی دن تک میڈیا پر موضوع بحث رہے گا۔ اگر حکومتی وزراء بیان بازی کی دہاڑی نہ لگاتے تو یہ جلسہ ایک دن کی خبر تھا۔ الیکٹرانک میڈیا تو ویسے بھی اپوزیشن کے جلسوں کو لفٹ نہیں کراتا۔ بس سوشل میڈیا پر ہی دو طرفہ دھما چوکڑی نظر آتی ہے۔ البتہ پرنٹ میڈیا پر اپوزیشن کا زور شور بہتر انداز میں اجاگر ہوتا ہے۔ اگر حکمران صفوں میں ابال نہ آتا تو پرنٹ میڈیا پر بھی ایک دن تصویر و خبر لگتی اور بس لیکن اب کیا ہوگا؟ وہی ہوگا جو اب تک ہوتا چلا آ رہا ہے۔ ٹی وی ٹاک شو والوں کو رونق لگانے کے لئے موضوع مل جائے گا۔ تینوں بڑی پارٹیوں کے نمائندے ایک دوسرے پر گلے پھاڑ پھاڑ کر حملے کریں گے۔
سرکاری اور مخالف پارٹیوں کے زنانہ و مردانہ بھونپو اپنی اپنی سانس کی پوری قوت سے دھاڑیں گے۔ الزامات اور جوابی الزامات کا جمعہ بازار لگے گا۔ اور یہ جلسہ جو حکومتی دانشوروں کے نزدیک ناکام جلسہ تھا جس میں عوام نے شرکت بھی نہیں کی اخباروں میں، ٹی وی سکرینوں میں، سوشل میڈیا میں کئی روز تک زندہ رہے گا تآنکہ اپوزیشن ایک نئے جلسے کا اعلان کر دے گی اور یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا، سو وطن عزیز کے باسیو!! فی الحال جلسہ جلسہ کھیلتی اپنی اپنی قیادت کی بیان بازیوں سے لطف اٹھائیں۔ فیٹف کی گرے لسٹ میں رہنے کے مضمرات و اثرات پر توجہ دے کر بدمزہ ہونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ جو بھی ہوگا دیکھا جائیگا۔ پہلے بھی تو ہمارا شیوہ یہی رہا ہے۔ کون سی نئی بات ہے سقوط بغداد اور سقوطِ ڈھاکہ بھی تو ہماری ہی تاریخ کے باب ہیں۔ اگرچہ سیاہ ہی ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

