وطنِ عزیز کی بانی جماعت مسلم لیگ کے بارے میں ایک طویل عرصہ تک یہی تاثر قائم رہا کہ یہ اقتدار کی دہلیز کی باندی ہے۔ تخت کے بغیر اس کا تختہ ہو جاتا ہے۔ محلاتی سازشیں اس کے عروج و زوال کا باعث ہوتی ہیں۔ حکمران خواہ جمہوری راستے سے آئے یا آمریت کے بل بوتے پر مسلم لیگ اس کو میسر ہوتی، جس آمر کو سول سیاست کا شوق چراتا وہ بنی بنائی مسلم لیگ کو گود لے لیتا یا اپنی سہولت کے مطابق نئی مسلم لیگ گھڑ لیتا۔ یہی وجہ ہے کہ ملکی تاریخ میں مسلم لیگ نامی جماعت نے سب سے زیادہ بچے دیئے۔ ان کی تعداد 29 بتائی جاتی ہے۔ کچھ وقت کی سیاسی آندھیوں میں دم توڑ کر تاریخ کا حصہ بن گئیں۔ کچھ بدستور موجود ہیں۔ گزشتہ نصف صدی کی تاریخ میں واحد کونسل مسلم لیگ تھی جس نے بھٹو دور میں اپوزیشن کا کردار ادا کیا مگر تھوڑی دیر کے لئے پھر اس کے قائد میاں ممتاز دولتانہ برطانیہ میں سفارت قبول کر کے حکومت کا حصہ بن گئے۔ وزیر داخلہ شیخ رشید انہی کی سیاسی نشانی ہیں۔ اب یہ قسم میاں نواز شریف کے نام سے منسوب پاکستان مسلم لیگ (ن) نے توڑی ہے اور پہلی بار حقیقی، پکی اور ٹھوس اپوزیشن کا کردار ادا کرنے کی نئی شناخت حاصل کی ہے۔ 2008ء کے انتخابات کے بعد کچھ عرصہ پیپلزپارٹی کے ساتھ شریک اقتدار رہی اور جنرل پرویز مشرف کو اقتدار سے فارغ کرنے کے بعد دوستانہ اپوزیشن یوں کی کہ آدھے سے زیادہ پاکستان، پنجاب پر اس کی حکومت تھی اور وفاق کی پی پی حکومت کے ساتھ ورکنگ ریلیشن شپ جاری رہی۔
بینظیر بھٹو کے دو ادوار 1988ء اور 1993ء میں بھی مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں تھی تاہم بی بی کا اسلوب حکومت سخت گیر اور ”دشمنانہ“ نہیں تھا۔ اور مسلم لیگ کی مقتدرہ سے بھی ان بن نہیں تھی۔ اب پہلی بار ”اوکھا ویلا“ دیکھا ہے مگر ثابت قدمی کی ایسی مثال قائم کی ہے جس پر مسلم لیگ کی اپنی تاریخ فخر کر سکے گی۔ یہ بھی پہلی بار ہوا ہے کہ تین سال تک آزمائش کا وقت گزارنے کے باوجود مسلم لیگ (ن) ٹوٹی ہے نہ اس کا کوئی نمایاں رہنما ٹوٹ کر حکومتی صف میں شامل ہوا ہے نہ ہی تاحال اس سے کوئی نئی مسلم لیگ نکالنے کی کوشش کامیاب ہوئی ہے۔ اصلی قائد اور وڈے میاں صاحب پابندِ سلاسل رہے یا اب جلا وطنی گزار رہے ہیں مسلم لیگ (ن) اپوزیشن میں قائم و سلامت ہے۔ نہ صرف فعال و متحرک ہے بلکہ ضمنی انتخابات کا سکور کارڈ کامیابیوں کی بہتات لئے ہوئے ہے۔ آزاد کشمیر کے عام انتخابات اور سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن میں شکست کے بعد مخالفین کا بیانیہ تو ”گئی کہ گئی“ کا ہونا ہی چاہئے تھا۔ کچھ اپنوں میں بھی تشویش کی لہر دوڑی۔ مسلم لیگ (ن) کی صفوں میں دو بیانیوں کا چرچا ہوا۔ ایک بیانیہ قائد مسلم لیگ کے بھائی اور صدر مسلم لیگ میاں شہباز شریف کا بتایا جاتا ہے جو قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں اور دوسرا بیانیہ قائد مسلم لیگ کی بیٹی مریم نوازشریف کا ہے جو پارلیمینٹ سے باہر ہیں۔ ان کے والد پارلیمینٹ ہی نہیں ملک سے بھی باہر ہیں۔ دونوں کا بیانیہ ایک جیسا لگتا ہے۔ میاں شہباز شریف کے بیٹے حمزہ شہباز پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر ہیں۔
ان دونوں کا بیانیہ بھی ایک جیسا لگتا ہے۔ قدر مشترک ایوان کے اندر ہونا ہے۔ پارلیمان کی زبان یوں بھی ذرا سلجھی ہوئی ہوتی ہے۔ جلسوں، جلوسوں اور مظاہروں، احتجاجوں کی زبان دوسری ہوتی ہے۔ مریم نواز کو ”کراؤڈ پلر“ کہا جاتا ہے۔ وہ کامیاب جلسے جلوس کرتی ہیں اور جلسے جلوسوں کی زبان بولتی ہیں۔ ان کے چچا اور کزن پارلیمان کا حصہ ہیں۔ ان کے لب و لہجے پر ایوان کے اثرات ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ بیانیئے دو ہو گئے ہیں۔ اب چچا اور کزن کا ایوانی انداز تخاطب ہو یا باپ بیٹی کا دیوانی طرزِ گفتار دونوں کا ہدف کپتانی حکومت ہے۔ سیاست میں چالاکی، سمجھداری، بردباری سبھی اعلیٰ صفات ہیں مگر دیوانگی کے بغیر معرکے بھی سر نہیں ہوتے موجودہ معرکہ آرائی تو ہے ہی دیوانگی اور اس کا کوئی پہلو جلا وطن قائد مسلم لیگ (ن) کے بغیر احاطہ تصور میں نہیں آ سکتا۔ جہاں تک انتخابی حکمتِ عملی کا سوال ہے تو اس پر واقعی غور ہونا چاہئے۔ سینٹ کے گزشتہ انتخابات اور گلگت بلتستان اسمبلی سے لے کر آزاد کشمیر اسمبلی تک پیپلزپارٹی نے مسلم لیگ سے بہتر مہارت کا مظاہرہ کیا ہے۔ کم ووٹوں کے ساتھ زیادہ نشستیں نکالنا سیاسی مہارت کا ثبوت ہے۔ سیالکوٹ کے ضمنی الیکشن میں بلے کی کامیابی کو اس لئے قابل غور سمجھا جا رہا ہے کہ اس دور میں پنجاب میں کسی بھی ضمنی الیکشن میں تحریک انصاف کی یہی پہلی کامیابی ہے۔
اس سے حکمران حلقے دو نتائج اخذ کر رہے ہیں۔ ایک یہ کہ مسلم لیگ (ن) کے مضبوط گڑھ میں اس کا ووٹ بنک سکڑ رہا ہے۔ دوسرے یہ کہ عوام میں عمران خان کی پالیسیوں کی پذیرائی بڑھ رہی ہے۔ ووٹ بنک کے سکڑنے کو نوازشریف کے اینٹی اسٹیبلشمنٹ بیانیئے کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ جہاں تک عمرانی حکومت کی پالیسیوں کی پذیرائی میں اضافے کا تعلق ہے تو یہ اس وقت تک مشکل ہے جب تک مہنگائی کا عفریت شہریوں کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہے۔ آئے روز آٹا، گھی، چینی، پیٹرول اور بجلی کی قیمتیں بڑھا کر لوگوں سے دعائیں تو نہیں سمیٹی جا سکتیں۔ البتہ بیانیئے کے حوالے سے تجزیوں، تبصروں کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ پنجاب میں عموماً اور سرحدی علاقوں میں خصوصاً عسکری اداروں اور شخصیات کا امیج محافظِ وطن کا ہے۔ ان کے بارے میں مخالفانہ ریمارکس کو حب الوطنی کے منافی سمجھا جاتا ہے۔ اس سے قبل جن سیاسی جماعتوں یا سیاسی رہنماؤں نے گفتگو کا ایسا انداز اپنایا انہیں پنجاب کے ووٹر کی محبت نہ مل سکی۔
لیگی قیادت کو اپنے ساتھ ہونے والی نا انصافیوں پر احتجاج کا حق ہے لیکن احتجاجی بیانیئے اور باغیانہ انداز گفتار میں موجود فرق کو ملحوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب مختلف قوتیں ایک صفحے پر ہوں اور مخالف بھی تو سیاسی مہارت اور دانشمندی کا امتحان زیادہ کڑا ہو جاتا ہے۔ اس وقت ایسا ہی ہے۔ اللہ کرے کہ میاں نوازشریف کی نفس ناطقہ محترمہ مریم نواز کورونا کو شکست دے کر صحت کے بحران سے نکل آئیں۔ انہیں اپنے والد کی رہنمائی کے ساتھ ساتھ اپنے چچا میاں شہباز شریف کے مشوروں پر بھی کان دھرنے کی ضرورت ہے۔ اس سے ایوانی اور دیوانی سیاست میں جو توازن پیدا ہوگا وہ مشکلات کو کم کرنے اور کامرانیوں کے سفر کو آسان بنانے میں کام آئے گا۔
(بشکریہ: روزنامہ پاکستان)
فیس بک کمینٹ

