کائنات کا پہلا جھگڑا علم پر ہوا ”جو میں جانتا ہوں تم نہیں جانتے“ فرشتے سر جھکا کر خاموش ہو گئے ۔ آدم خلق ہوئے پھر جھگڑا علم پر میں آگ سے یہ مٹی سے بنا ہے ابلیس خدا کے علم سے ٹکرار ہا تھا۔ اپنے خالق کوسمجھا رہا تھا گویا شاگرد استاد کو کچھ بتا رہا تھا۔ علم حیات تھا شیطان اُس علم کو نہ سمجھا اور آخر وقت تک اپنے علم پر اڑا رہا۔ علم ضد کا نہیں، افہام و تفہیم کا نام ہے۔ سنو اور سمجھو، مشاہدہ کرو۔ دنیا بھر میں جھگڑے فساد کی بنیاد علم سے دوری ہے۔ کبھی شیعہ کو مار دو کبھی سنی کو، کیا علم یہی سکھاتا ہے؟ ۔ یادرکھئے علم حیات ہے۔ جیو اور جینے دو یہ علم ہے اگر یہ نہیں تو سب جہل ہے۔ ایٹم بم بنانا علم نہیں ہے، ریگستانوں کو لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل کرنا علم ہے-
علم ہر انسان چاہے وہ ا میر ہو یا غریب ،مرد ہو یا عورت اس کی بنیادی ضرورت میں سے ایک ہے یہ انسان کا حق ہے جو کوئی اسے نہیں چھین سکتا اگر دیکھا جائے تو انسان اور حیوان میں فرق علم ہی کی بدولت ہیں ۔
علم حاصل کرنا ہر مذہب میں جائز ہے اسلام میں علم حاصل کرنا فرض کیا گے ہے آج کے اس پر آشوب اور تیز ترین دور میں علم کی ضرورت بہت اہمیت کا حامل ہے چاہے زمانہ کتنا ہی ترقی کرلے۔ حالانکہ آج کا دور کمپیوٹر کا دور ہے ایٹمی ترقی کا دور ہے سائنس اور صنعتی ترقی کا دور ہے مگر اسکولوں میں بنیادی عصری تعلیم ،ٹیکنیکل تعلیم، انجینئرنگ ،وکالت، ڈاکٹری اور مختلف جدید علوم حاصل کرنا آج کے دور کا لازمی تقاضہ ہے جدید علوم تو ضروری ہیں ہی اسکے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کی بھی اپنی جگہ اہمیت ہے اس کے ساتھ ساتھ انسان کو انسانیت سے دوستی کے لئے اخلاقی تعلیم بھی بے حد ضروری ہے اسی علم کی وجہ سے زندگی میں خدا پرستی، عبادت، محبت خلوص، ایثار، خدمت خلق، وفاداری اور ہمدردی کے جذبات بیدار ہوتے ہیں اخلاقی علم کی وجہ سے صالح او رنیک معاشرہ کی تشکیل ہوتی ہے تعلیم کی اولین مقصد ہمیشہ انسان کی ذہنی، جسمانی او روحانی نشونما کرنا ہے تعلیم حصول کے لئے قابل اساتذہ بھی بے حد ضروری ہیں جوبچوں کو اعلٰی تعلیم کے حصوص میں مدد فراہم کرتے ہیں استاد وہ نہیں جو محض چار کتابیں پڑھا کر اور کچھ کلاسسز لے کر اپنے فرائض سے مبرا ہوجائے بلکہ استاد وہ ہے جو طلب و طالبات کی خفیہ صلاحیتوں کو بیدار کوتا ہے اور انہیں شعور و ادراک ،علم و آگہی نیز فکر و نظر کی دولت سے اپنے شاگردوں کو مالا مال کرتا ہے جن اساتذہ نے اپنی اس ذمہ داری کو بہتر طریقے سے پورا کیا، ان کی شاگرد آخری سانس تک ان کے احسان مند رہتے ہیں ۔
اس تناظر میں اگر آج کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوگا کہ پیشہ تدریس کو آلودہ کردیا گیا ہے محکمہ تعلیمات اور اسکول انتظامیہ اور معاشرہ بھی ان چار کتابوں پر قانع ہوگے کل تک حصول علم کا مقصد تعمیر انسانی تھا آج نمبرات اور مارک شیٹ پر ہے آج کی تعلیم صرف اس لیئے حاصل کی جاتی ہے تاکہ اچھی نوکری مل سکے یہ بات کتنی حد تک سچ ہے اسکا اندازہ آج کل کی تعلیمی ماحول سے لگایا جاسکتا ہے جیسے بچوں کا صرف امتحان میں پاس ہونے کی حد تک اسباق کا رٹنا ہے بدقسمتی اس بات کی بھی ہے کچھ ایسے عناصر بھی تعلیم کے دشمن ہوئے ہیں جو اپنی خواہشات کی تکمیل کےلئے ہمارے تعلیمی نظم کے درمیان ایسی کشمکش کا آغاز کررکھا ہے جس نے رسوائی کے علاقہ شاید ہی کچھ عنایت کیاہومگر پھر بھی جس طرح بیرونی دنیا کے لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھتے ہیں اس طرح مسلمان بھی کبھی جدید تعلیم سے دور نہیں رہے بلکہ جدید زمانے کے جتنے بھی علوم ہیں زیادہ ترکے بانی مسلمان ہی ہیں اسلامی تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے تعلیم و تربیت میں معراج پاکر دین و دنیا میں سربلندی اور ترقی حاصل کی لیکن جب بھی مسلمان علم اور تعلیم سے دور ہوئے وہ غلام بنالیئے گئے یا پھر جب بھی انہوں نے تعلیم کے مواقعوں سے خود کو محروم کیا وہ بحیثیت قوم اپنی شناخت کھو بیٹھے-علم ترقی کے لئے سب سے طاقتور ذریعہ ہے جسے دنیا میں بھی تبدیلی لانے کے لئے استعمال کیا جاسکتا ہے، تاریخ گواہ ہے دنیا میں ترقی اور عروج صرف ان ممالک اور اقوام کے حصہ میں آیا جن کے افراد تعلیم سے آراستہ ہوئے، کسی ملک کی ترقی اور اس کے باشندوں کے ذہنی ارتقاء کا اندازہ وہاں کی تعلیمی حالت سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے ۔
فیس بک کمینٹ

