پنجاب حکومت تعلیم وصحت جیسی بنیادی ذمہ داریوں سے جس طرح جان چھڑا رہی ہے ،اس سے ان دونوں شعبوں میں در آنے والا پرائیویٹ سیکٹر سفاک تر ہوتا چلا جارہاہے،حکومتی سطح پر کوئی ایسی ریگولیٹری اتھارٹی وجود نہیں رکھتی جو پرائیویٹ سیکٹر کے لالچ اورخود سری کولگام دے کر عوام الناس کو ریلیف دے سکے،دوسری طرف پرائیویٹ سیکٹر تعلیم کے شعبہ کو ایک خالص کاروبار کی طرح چلارہاہے،مطمع نظر صرف اور صرف منافع ہے ،من مرضی کی فیسیں مقرر کی جاتی ہیں،المیہ یہ کہ جب جی چاہے اور جتنا چاہے ان فیسوں میں اضافہ کردیا جاتا ہے،کوئی پوچھنے والا نہیں مہنگی ٹیوشن فیس کے ساتھ ساتھ مختلف فنڈز کی آڑ میں طلباء سے ہزاروں روپے اضافی بٹور لیے جاتے ہیں،اگرچہ والدین اس کے خلاف آوا ز اٹھاتے ہیں لیکن ان تعلیمی اداروں اور نہ ہی حکومتی سطح پر ان کی کوئی شنوائی ہوتی ہے،نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ والدین اپنے بچوں کے مستقبل کی خاطر اس اضافی مالی بوجھ کو برداشت کرتے ہیں ،اس کے سوا ان کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوتا،اگرچہ سارے نہیں تو اکثریتی نجی تعلیمی اداروں کی خود سری والدین کے لیے عذاب بن چکی ہے،یہ بچوں کے مستقبل سے کھیلنے سے بھی گریز نہیں کرتے،اس کی ایک چھوٹی سی مثال شہر اولیاءملتان میں سامنے آئی ،جہاں ایک نجی تعلیمی ادارے (آئیڈیل کالج)نے اپنے سیکنڈ ائیر کے بچوں کی امتحانی فیس تعلیمی بورڈ ملتان کو بروقت جمع نہیں کرائی،بورڈ نے اس پر ان کا پورٹل بند کردیا ،انٹر کے امیدواروں کی رولنمبر سلپس بورڈ کا پورٹل بند ہونے سے ڈاؤن لوڈ نہیں ہوسکیں،اگلے دن انٹر کے امتحان شروع ہونے تھے ،رولنمبر سلپس نہ ہونے سے مذکورہ نجی کالج کے 300کے قریب بچےاور ان کے والدین شدید پریشانی کے عالم میں مبتلا تھے ،جب کہ کالج مالکان بورڈ حکام کو سفارشیں کراتے پھر رہے تھے کہ رولنمبر سلپس جاری کردیں ہم اقساط میں بقایا رقم جوکہ 40لاکھ روپے بنتی تھی ادا کردیں گے،لیکن کمشنر ملتان ڈویژن عامر کریم خاں جو کہ تعلیمی بورڈ ملتان کے چیئرپرسن بھی ہیں نے اس پر کوئی لچک دکھانے سے انکار کردیااور کہا کہ جب تک پوری رقم بورڈ کو ادا نہیں کی جائے گی اس وقت تک نجی کالج کو رولنمبر سلپس جاری نہیں کی جاسکتیں،تاہم بورڈ حکام نےبچوں کی سہولت کے لیے آخری رات ایمرجنسی ڈیسک قائم کردیا جہاں بچوں نے جرمانہ کے ساتھ امتحانی فیس جمع کراکر انفرادی طور پر اپنی رولنمبر سلپس وصول کیں،اچھی بات یہ تھی کہ سیکرٹری بورڈ خرم شہزاد قریشی،کنٹرولر بورڈ سعید احمد بھٹی اور ڈپٹی سیکرٹری ملک رؤف کھوکھر اورڈپٹی سیکرٹری فنانس ڈاکٹرحافظ فدا حسین رات گئے تک بورڈ دفاتر میں موجود رہے اور ایمرجنسی ڈیسک پر بچوں کو ریلیف دینے کے کام کی نگرانی کرتے رہے،بتایا گیا ہے کہ 6سے7بچوں کے سوا باقی تمام بچوں نے اپنی فیس وجرمانہ کی رقم ادا کرکے رولنمبرسلپس حاصل کرلیں،سنا ہے اسی طرح کا ایک اور طوفان انٹر پارٹ فرسٹ کے20مئی سے شروع ہونے والے امتحان پر بھی منڈلا رہا ہے،جس میں آئیڈل کالج ہی کے 380سے زائد طالب علم ادارہ ڈیفالٹ ہونے کے سبب رولنمبر سلپس سے محروم ہوسکتے ہیں،مذکورہ نجی کالج کی انتہائی غیر ذمہ دارنہ انتظامیہ نے بروقت ان 380بچوں کی رجسٹریشن اور ریٹرن بورڈ کو نہیں بھجوائی جس کے باعث بورڈ نے ان کا پورٹل بند کردیاہے،بتایا گیاہے کہ اس نجی کالج نے رجسٹریشن وریٹرن کی فیس تاحال جمع نہیں کرائی اور جرمانے ساتھ بقایاجات مجموعی طور پر تین کروڑ روپے سے زائد کے ہوچکے ہیں،سوچنے کی بات یہ ہے کہ جوادارہ انٹر پارٹ سیکنڈ کی 40لاکھ روپے کی رقم ادا نہیں کرسکا وہ تین کروڑ سے زائد رقم کس طرح ادا کرے گا،والدین تو یہ دیکھ کر کہ ادارہ بورڈ سے الحاق شدہ ہے بچوں کو داخل کرادیتے ہیں لیکن اب کالج مالکان اور نہ ہی بورڈ انتظامیہ کو کوئی فکر ہے ،کالج مالک مفرور بتایا جاتا ہے،بورڈ والےبقایا جات کے بغیر رولنمبرسلپس جاری نہیں کریں گے ،والدین اور ان کے بچوں کا مستقبل کیا ہوگا کسی کے پاس اس کا جواب نہیں ہے،اگر کوئی بچہ سابقہ پریکٹس کے ساتھ اپنی انفرادی فیس جمع کرا کررولنمبر سلپس وصول کرنا بھی چاہے تو اس کو فیس اور جرمانے کے ساتھ 80ہزار روپے جمع کرانے ہوں گے،اب بتائیے کہ والدین انٹر کے امتحان میں اپنے ایک بچے کی شرکت کے لیے اتنی رقم کہاں سے ادا کریں گے،چیئر پرسن بورڈ کو چاہیے کہ وہ بچوں کے مستقبل سے کھیلنے والے اس ادارے کو فوری طور پر بلیک لسٹ کرائیں،اس کے ساتھ ساتھ ایسے قوانین بھی بنائیں جائیں جس میں ہارڈ شپ رولز کے تحت بچوں کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا جاسکے ،ابھی وقت ہے امتحان20مئی سے شروع ہونے ہیں ،خدارا ان بچوں کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا جائے،وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر اس معاملے کا نوٹس لیں تاکہ ان بچوں کے مستقبل کو تاریک ہونے سے بچایا جاسکے
فیس بک کمینٹ

