جاوید ہاشمی بھائی سے ہمارا بڑاخوبصورت اور محبت بھرا تعلق ہے اور یہ تعلق زمانہ طالب علمی سے ہے ۔ ایمرسن کالج کے زمانے میں جب ایوبی آمریت کے خلاف ملک بھر کے طلبہ نے فوجی علم بغاوت بلند کیا اسی زمانے میں ہاشمی صاحب کی سیاست کا آغاز ہوا ۔ جودت کامران کی شہادت کا واقعہ مجھے یاد ہے ۔
جودت لاسال ہائی سکول کے طالبعلم تھے ۔ انہوں نے پولیس کی فائرنگ سے چوک کچہری کے قریب شہادت پائی۔ ہاشمی صاحب اس دور کے شعلہ بیان مقرر اور طالبعلم لیڈر تھے۔ مجھے بھی طلبا کی گرفتاریوں میں پاشمی بھائی اور فخر بلوچ سمیت اس دور کے نامور طلبا کے ساتھ جیل جانا پڑا ۔ فخر بلوچ بھی ڈسٹرک جیل ملتان میں ہمارے ساتھی تھے ۔ اس وقت سارے طلبا کو زنانہ جیل بیرک میں رکھا گیا جس میں کوئی زنانہ ملزم نہیں تھیں۔ عدالتوں کو بغیر انتظامیہ کی اجازت کے رہائی دینے کی ممانعت تھی۔ میرے والد قسور گردیزی نے پولیس کے داروغہ سے طلبا کی رہائی کے سلسلہ میں ملاقات کی تو لاٹ صاحبان نے معتبر سیاسی شخصیت ہونے کے ناتے 32 طلباء کی لسٹ ان کے سامنے رکھی کہ آپ کن کن کو بے قصور سمجھتے ہیں۔ میرے والد نے 30 بچوں کے ناموں پر نشان لگائے اور کہا کہ یہ سب بے قصور ہیں اور دو بچوں کا فیصلہ ایس پی صاحب کی صوابدید پر چھوڑ دیا جن میں میرے بڑے بھائی مظفر عباس اور میرا نام شامل تھا ۔
ہاشمی بھائی یوں تو جماعت اسلامی کے پیروکار تھے لیکن اکثر اپنے خیالات اور خطاب میں قسور گردیزی کی سیاست کا اچھے الفاظ میں ذکر کرتے ہیں۔ وہ پنجاب یونیورسٹی کی طلبا یونین کے دائیں بازو کے پینل سے منتخب ہوئے تو میں مجلس شوریٰ کا ممبر بائیں بازو کے یعنی جہانگیر بدر کی کابینہ سے منتخب ہوا حالانکہ ہمارا پورا پینل شکست کھا گیاتھا ۔
فیس بک کمینٹ

