جاوید یادکالملکھاری

جنگ ستمبر میں مسیحی بھائیوں کا کردار۔۔جاوید یاد

معمول کی زندگی گزارتے ہوئے ہم اپنی گفتگو میں بہت سے الفاظ استعمال کرتے ہیں، مگر ہم ا ن کی گہرائی میں نہیں جاتے، کیونکہ ہمیں عملی طور پر اُن کے معانی سے واسطہ نہیں پڑا ہوتا۔اس لئے ہم اُن کی افادیت، اُن کے نقصانات، اُن کی ہولناکیوں اور تباہ کاریوں سے واقف نہیں ہوتے۔ دفاع بھی ایک ایسا ہی لفظ ہے جس کے معانی کُھل کر 1965 ءکی جنگ میں ہمارے سامنے آئے اور ہم اس وقت سے اب تک یومِ جنگ نہیں بلکہ یومِ دفاع منا تے ہیں۔ یہ وہ یومِ دفاع ہے جس کے معانی ہمیں دشمن نے سمجھائے، جب ہمارے فوجی شیر جوانوں نے رات کی تاریکی میں ہونے والے بزدلانہ وار کا نہ صرف دفاع کیا بلکہ جوابی حملہ کرکے دشمن کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا اور ثابت کر دیا کہ حملہ برّی ہو یا بحری ہو یا پھر فضائی ہم ہر گام پر اپنا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔



آج یومِ دفاع 6 ستمبر ہے ، او ر ہمیں وہ شیر جوان اور ماؤں کے نڈر سپوت یاد آنے لگے ہیں۔ان کی بہادری کے کارنامے، اپنے وطنِ عزیز میں جانیں نچھاور کرنے اور اپنی دھرتی ماں سے وفاؤں کے قصے اور کہانیاں بننے والے امر انسان جو ہمارے خوابوں، خیالوں، اٹھتے بیٹھتے، چلتے پھرتے ہمارے ساتھ ساتھ ہیں، جو ہماری تاریخ کا حصہ بنے ہیں اور جو نہ صرف ہمیں بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کو بتا گئے ہیں کہ اگر اس زندگی اور آنے والی زندگی کو امر بنانا چاہتے ہو تو اپنی دھرتی اور وطن سے محبت کرنا سیکھو۔اپنی زندگیاں اُس کے لئے وقف کر دو۔تاریخ میں لکھے جاؤ گے۔ تمہارا نام لوگ عزت و احترام سے لیں گے۔ تم سے عقیدت کا اظہار کریں گے۔ پھولوں میں مسکراؤگے۔، گیتوں میں گنگنائے جاؤ گے، زندہ تحریریں بن جاؤگے، سورج کی کرنیں تمہیں سلام کریں گی، چاند اور ستارے تم سے ٹھنڈک لیں گے، آبشاروں کی گنگناہٹ، لہروں کی سرسراہٹ اور چہچہاہٹ میں تم بولو گے، صبح تم سے ہوگی اور شام تم سے۔ محبت تمہارے نام سے منسوب کی جائے گی اور جذبے تمہاری انگلی پکڑ کر چلیں گے۔ اور یہ سب کچھ اِس لئے ہوگا کہ تم نے اپنا تن من دھن وطن پر قربان کر دیا۔ تم نے وہ مان رکھا جس کی ذمہ داری تمہاری ماؤں، بہنوں نے تمہیں سونپی تھی۔ خیانت کا نام تمہارے نام کے ساتھ نہیں لگا۔



موت تو برحق ہے۔ لیکن تم نے موت کو زندگی جانا ہے۔ تم نے یہ راز جان لیا ہے کہ زندگی تو شروع ہی موت کے بعد ہوتی ہے۔بقول شاعر
آسمانوں سے دوستی ہے مِری
موت کے بعد زندگی ہے مِری
زندگی تو یہی ہے کہ اپنے وطن کے دفاع کے لئے اپنے جسموں سے بم باندھ کر دشمنوں کے ٹینکوں کے سامنے لیٹا جائے، سنگلوں سے سجی بندوقیں لے کردشمن کی صفوں میں گھسا جائے اور اپنے جہازوں میں بیٹھ کر دشمن کے ہوائی اڈوں کو تباہ و برباد کر دیا جائے۔ اور ساتھ ہی ساتھ اپنا دفاع بھی کیا جائے اور دِلوں میں یہی جذبہ اور جوش ہو کہ مر گئے تو شہید اور بچ گئے تو غازی۔اور زبان پر ایک ہی بات ہو، ” “ہم زندہ قوم ہیں، پائندہ قوم ہیں۔”
یومِ دفاع کے حوالہ سے جب ہم بات کرتے ہیں تو دیکھتے ہیں کہ وطنِ عزیز میں بسنے والے ہر بشر نے، چاہے ہو بچہ ہے یا بڑا، بوڑھا ہے یا جوان، مرد ہے یا خاتون، سبھی نے اپنا اپنا حصہ ڈالا اور ایسا کرتے ہوئے خوف نام کی کوئی شَے ان کے پاس سے نہیں گزری۔ مجھے یاد ہے میں اُس وقت سکول میں پڑھتا تھا، لوگ چھتّوں پر دشمن کے جہازوں کی جنگ دیکھتے تھے۔ اور سائرن کی آواز سُن کرمورچوں میں چھپنے کی بجائے آنکھیں آسمان کی طرف اٹھ جاتی تھیں۔ مصوروں نے پینٹنگ، گلوکاروں نے اپنی آواز، موسیقاروں نے دھن بنا کر اپنے فوجی جوانوں کوجسمانی اور ذہنی طور پر دشمن کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا اور دشمن کے لئے لوہے کی دیوار بن گئے۔



تاریخ گواہ ہے کہ وطنِ عزیز کی حفاظت میں جس طرح مسلمان فوجیوں نے سر دھڑ کی بازی لگائی، اُسی طرح مسیحی فوجی بھی پیچھے نہیں رہے۔ اور کسی محاذ پر بھی چاہے وہ برّی تھا، بحری تھا یا پھر فضائی، ہر محاذ پر دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ یہاں میں چند مثالیں پیش کرنا چاہوں گا:
٭ سکوڈرن لیڈر Peter Christy (شہید۔ ستارہِ جرات)
انہوں نے 1965 ءاور 1971 ءکی جنگیں لڑیں۔ 1965 ءمیں B57 میں بطور Navigator جنگ لڑی اور بھارت کے اندر جا کر نقصانات پہنچایا۔ 1971 ءمیں جام نگر ائیربیس پر Bombing Mission پر گئے اور واپس نہ لوٹے اور وطنِ عزیز کے لئے جامِ شہادت نوش کیا۔ پاکستان ائر فورس کی طرف سے انہیں ستارہِ جرات سے نوازا گیا۔
٭ ائروائس مارشل Eric Gordon Hall (شہید۔ ستارہِ جرات)
1965 ءکی جنگ میں احساس تھا کہ پاکستان کے پاس ہیوی بمبار طیارے نہیں ہیں۔ تو انہوں نے C-13 کارگو طیارے کوچند تبدیلیوں کے ساتھ اِس قابل بنایا کہ 20 ہزار پونڈ وزن کے بم لے جا سکے۔ 11 ستمبر 1965ءکو پہلے مشن پر Kathua Bridge پر حملہ کر کے اُسے تباہ کیا اور اس کے بعد اسی طرح کے 13 مشن مکمل کئے اور بھارت کو ناقابلِ تلافی نقصان پنچایا۔BR نہر اٹاری کے مقام پر بھاری توپ خانے کو بمباری کر کے تباہ و برباد کر دیا۔
٭ گروپ کیپٹن سِسل چوہدری (ستارہِ جرات)
1965 ءکی جنگ میں بھارت کے اندر گھس کر Halwara اور پٹھان کوٹ اور ہندوستان پر کئی کامیاب حملے کئے۔ جرات، ہمت اور غیر معمولی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی بِنا پر انہیں ستارہِ جرات عطا کیا گیا۔ 1971 ءمیں بھارت کے اندر گُھس کر تباہی مچا کر واپس آ رہے تھے کہ ظفر وال شکر گڑھ سیکٹر میں دشمن کی گولیاں اُن کے طیارے کو لگیں۔ جرات اور مہارت کی وجہ سے سرگودھا ائیر بیس پر آ گئے۔ 11 ستمبر کو کمر میں فریکچر ہونے کے باوجود بھارت کا طیارہ مار گرا کر اپنا بدلہ لے لیا۔



اس کے علاوہ بہت سی مثالیں ہیں ۔ جن میں میجر جنرل Julian Peter (ہلالِ امتیاز)، ائیر کموڈور نذیر لظیف (ستارہِ جرات)، میجر جنرل Noel Khokhar (ہلالِ امتیاز) اور اَن گِنت گمنام ہیروز جنہوں نے چھوٹے رینک پر تھے شہادتیں حاصل کرکے اپنے وطنِ عزیز کی حفاظت اور دفاع کیا۔ مسیحی لوگ ہمیشہ سے پُر امن اور پُر عزم لوگ ہیں۔ جو کسی بات کا صلہ نہیں چاہتے کیونکہ وہ جو کچھ بھی کرتے ہیں یہ جان کر کرتے ہیں کہ وہ اپنے خدا کے لئے کرتے ہین۔ لیکن وہ یہ ضرور چاہتے ہیں کہ انہیں اپنی مرضی سے جینے کا حق دیا جائے۔ انہیں برابر کا شہری مانا جائے اور ان کو حقوق کو اپنے جان کر پورا کیا جائے۔ وہ ہمیشہ سے اپنے وطن کے وفادار تھے، وفادارہیں — اور وفادار رہیں گے

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker