سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ نے چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کو ایک کھلا خط لکھ کر 6 سوالوں کے جواب مانگے ہیں۔ یہ خط سوموار کو نیا عدالتی سال شروع ہونے کے موقع پر جوڈیشل کانفرنس کے انعقاد کے حوالے سے لکھا گیا ہے جس میں عدالت عظمی کے انتظامی امور کے بارے میں اختلافی امور کی نشاندہی کی گئی ہے۔
اس سے پہلے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس سردار اعجاز اسحاق اور جسٹس بابر ستار نے بھی ہائی کورٹ کے فل کورٹ اجلاس سے پہلے چیف جسٹس محمد سرفراز ڈوگر کو اختلافی امور کی نشاندہی کرنے کے لیے خطوط لکھے تھے۔ ان خطوط کا تعلق عدالتی انتظامی امور سے ہے جس میں متعلقہ عدلیہ کے سب ججوں کو اپنے خیالات کے اظہار اور تجاویز دینے کا موقع ملتا ہے۔ تاہم ان امور پر کھلے خط لکھ کر رائے سازی کی کوشش ایک نئی روایت ہے۔ اس طریقہ سے ملک کی اعلیٰ عدلیہ کے اندر دراڑیں پڑنے کی قیاس آرائیوں کو راسخ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
ان خطوط میں باالترتیب سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹس کے چیف جسٹسوں پر ’انتظامی دباؤ کے سامنے گھٹنے ٹیکنے‘ کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ دیکھا جاسکتا ہے کہ اگر اعلیٰ عدلیہ کے تمام جج ایک دوسرے کے بارے میں ایسے ہی خطوط لکھ کر ان پر پبلک ڈیبیٹ کی صورت حال پیدا کرنے پر آمادہ ہوجائیں تو عدالتیں شاید کوئی دوسرا کام نہ کرسکیں۔ پھر سب جج بس اپنے نقطہ نظر کو درست اور دوسرے کے طریقہ کار کو غلط بتانے میں ہی اپنی تمام قانونی قابلیت صرف کرنے لگیں۔ اس لیے ملکی عدلیہ میں شروع ہونے والی یہ روایت ملکی عدالتی نظام میں اصلاح کا سبب بننے کی بجائے، اسے کمزور کرنے اور اس کے وقار کو داؤ پر لگانے کا موجب بنے گی۔ ایسے مباحثہ کو عدالتوں اور عدلیہ کے انتظامی اجلاسوں سے باہر لانے والے ہر جج کو اس پہلو پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔
یہ تینوں خطوط بظاہر عدلیہ کی خود مختاری کا تحفظ کرنے اور آئین و قانون کی بالادستی کے نام پر لکھے گئے ہیں۔ تاہم ان تحریروں میں سپریم کورٹ اور اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹسوں کی نیک نیتی پر سوال اٹھایا گیا ہے۔ ہائی کورٹ یا سپریم کورٹ ایک اعلیٰ عدالتی فورم ہے۔ اس میں جج کی حیثیت سے شامل تمام جج اعلیٰ تعلیم یافتہ اور قانون پر مکمل دسترس کے حامل ہوتے ہیں۔ وہ معاشرے کے سب سے باشعور شہری سمجھے جاسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ اہم ترین عدالتی اداروں کے رکن ہونے کے طور پر ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی بات کو مناسب انداز میں مناسب فورم پر پیش کرکے معاملات حل کرنے کی کوشش کریں گے۔ کسی بھی چیف جسٹس یا کسی جج سے ان کے کسی ساتھی کا قانونی یا انتظامی اختلاف معمول کی بات ہونی چاہیے۔ جب بھی سب ججوں پر مشتمل جوڈیشل کانفرنس ہوگی یا فل کورٹ اجلاس منعقد ہوگا تو ان فورمز کے رکن کے طور پر ہر جج کو سوال اٹھانے اور تجویز دینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ تاہم تمام ججوں میں اختلاف برداشت کرنے اور مخالف رائے کا احترام کرنے کا حوصلہ بھی ہونا چاہئے۔
اگر اس بنیادی اصول کو نظر انداز کرکے کوئی جج صرف اپنی رائے پر اصرار کرے گا اور اپنے اٹھائے ہوئے سوالوں کو اتنا اہم سمجھے گا کہ وہ اس میں ملک کی رائے عامہ کو بھی حصہ دار بنانے پر آمادہ ہوجائے تو اس سے نہ صرف عدالتوں کے ججوں کے درمیان بدگمانیاں پیدا ہوں گی بلکہ ملکی عدالتی نظام کے متعلق عوام میں بھی سوالات اٹھائے جائیں گے۔ پوچھا جائے گا کہ جب جج ہی ایک دوسرے کا احترام نہیں کرتے اور جب بعض جج حضرات خود کو عدلیہ کی آازادی و خود مختاری کا چیمپئن مان کر دوسرے ججوں کی نیک نیتی اور دیانت داری پر سوال اٹھارہے ہیں تو ایسے نظام عدل سے کسی عام سائل کو کیسے انصاف ملے گا۔ یوں بھی انتظامی معاملات یا آئینی اصولی نکات پر قانونی مباحث کو آپس میں طے کرنے کی بجائے جب کچھ جج خود ہی یہ تصور کرلیں گے کہ وہی درست مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ اور ان کے نقطہ نظر سے اختلاف کرنے والے ان کے ساتھی جج حکمرانوں کی خواہشات پوری کررہے ہیں تو اس مؤقف کو کون سے اصول انصاف کی بنیاد پر جائز مانا جائے گا؟
ملکی اعلیٰ عدلیہ میں سامنے آنے والے اختلافات درحقیقت سیاسی وابستگی اور نظریات کی بنیاد پر ابھرے ہیں۔ مختلف جج ملک میں جاری سیاسی کشمکش کے بارے میں مختلف نقطہ نظر رکھتے ہیں۔ بعض جج حضرات کی تحریک انصاف کی طرف رغبت و جھکاؤ اب کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ لیکن انہیں ا س کے ساتھ ہی یہ اندازہ بھی ہونا چاہئے کہ جج کی حیثیت میں انہیں قومی خزانے سے تنخواہ اور مراعات فراہم کی جاتی ہیں۔ وہ اپنی عدالتی پوزیشن کو کسی خاص سیاسی نقطہ نظر یا کسی خاص سیاسی لیڈر کا مؤقف سامنے لانے کے لیے استعمال نہیں کرسکتے۔ جو جج بھی ایسا اقدام کرتا ہے ، وہ درحقیقت ملکی آئین کے ساتھ اپنے حلف کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوتا ہے۔ عدالتی نظام کی اصلاح ایک طویل ، گنجلک اور مشکل عمل ہے جس میں سیاسی قیادت و اداروں کے علاوہ مختلف عوامی فورمز اور ججوں کو اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے۔ خاص طور سے پاکستان کا عدالتی نظام دہائیوں سے زوال پذیر ہے ۔ عدالتوں نے متعدد ایسے فیصلے دیے ہیں جن سے ملک میں آئین کی بالادستی اور جمہوری روایت کو ضعف پہنچا ہے ۔ اس کے باوجود ملکی نظام اور عدالتی انتظام اسی لیے کام کررہا ہے کہ قوم ان فیصلوں کو قبول کرکے آگے بڑھی۔ تاہم پارلیمنٹ میں اس کی اصلاح کے لیے کوششیں جاری رہیں۔
اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے درمیان اختلاف کی بنیادی وجہ 26 ویں آئینی ترمیم بھی ہے جس نے عدالتی انتظامات اور چیف جسٹس کی تقرری کے لیے طریقہ کار کو تبدیل کیا ہے۔ اب اس ترمیم کے خلاف رٹ پٹیشنز سپریم کورٹ میں زیر غور ہیں۔ احتجاج کرنے والے ججوں کا ماننا ہے کہ چیف جسٹس جان بوجھ کر ان درخواستوں پر عدالتی کارروائی میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ ان ججوں کا خیال ہے کہ اس ترمیم سے ملک کی اعلیٰ عدلیہ کو کنٹرول کرنے کی کوشش کی گئی ہے ، اس لیے اسے ختم ہونا چاہئے۔ اسی لیے ان ججوں کا مؤقف ہے کہ باقی معاملات روک کر چھبیسویں ترمیم کے خلاف درخواستوں پر غور کیا جائے۔ اس ترمیم نے بعض ججوں کے ساتھ ’حق تلفی‘ بھی کی ہے۔ ان میں خاص طور سے سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس منصور علی شاہ شامل ہیں۔ وہ سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی ریٹائرمنٹ کے بعد چیف جسٹس بننے والے تھے لیکن نئی آئینی ترمیم نے تقرری کا اختیار ایک کمیٹی کے سپرد کردیا اور وہ یہ عہدہ حاصل کرنے میں ناکام رہے۔ تاہم محض ذاتی ناکامی کی وجہ سے کسی آئینی ترمیم کے حوالے سے پارلیمنٹ کے حتمی اختیار کو چیلنج کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔
جسٹس منصور علی شاہ اور ان کے ہم خیال ججوں کے نزدیک سپریم کورٹ یہ ترمیم مسترد کرسکتی ہے جبکہ موجودہ چیف جسٹس ضابطہ کے مطابق اس کے خلاف اپیلوں پر سماعت کے حامی ہیں۔ لیکن ترمیم میں جو احکامات صادر کیے گئے ہیں، ان پر عمل درآمد بھی شروع ہوچکا ہے۔ اصولی طور سے اگر اس بات کو مان بھی لیا جائے کہ نئی آئینی ترمیم نے اعلیٰ عدلیہ کے انتظامی اختیارات محدود کیے ہیں تو بھی ا س حقیقت کو فراموش نہیں کیا جاسکتا کہ یہ فیصلہ پارلیمنٹ میں دو تہائی کی اکثریت سے ہؤا ہے۔ سپریم کورٹ کے ججوں کو بعض قانونی موشگافیوں کی بنیاد پر یا دوسروں کی نیت کے بارے میں شبہات کی وجہ سے پارلیمنٹ کے حق قانون سازی پر سوال نہیں اٹھانا چاہئے۔ یہ بھی واضح ہونا چاہئے کہ چھبیسویں آئینی ترمیم ملکی سیاسی پارٹیوں میں وسیع تر اتفاق رائے کے بعد ہی منظور کی جاسکی تھی۔ اگر کسی مرحلے پر سیاسی رائے اس ترمیم میں شامل معاملات پر تبدیل ہوجاتی ہے تو کوئی نئی حکومت کسی نئی ترمیم کے ذریعے ، ان کی اصلاح کرسکتی ہے۔ عدالتوں کو پارلیمنٹ کے قانون مسترد کرنے کا انتہائی اقدام مخصوص اور ناگزیر حالات میں ہی کرنا چاہئے۔ اس وقت ترمیم مخالف ججوں کی رائے اعلیٰ عدلیہ میں اقلیتی رائے کی حیثیت رکھتی ہے۔ لہذا ہر جج کو دوسرے ججوں کی رائے کا احترام پیش نظر رکھنا چاہئے۔
ملک کی اعلیٰ عدلیہ کو آزاد اور خود مختار ہونا چاہئے لیکن یہ مقصد ججوں کی دیانت داری اور سخت محنت سے ہی حاصل ہوسکتا ہے۔ اگر جج اختلافی امور پر ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے کا اہتمام کریں گے تو ایسا ادارہ کبھی بھی عوام کو انصاف فراہم کرنے کا مقصد حاصل نہیں کرسکے گا۔ خط لکھ کر خاص سیاسی منظر نامہ میں جگہ بنانے کی کوشش کرنے والے ججوں کو معلوم ہونا چاہئے کہ چند ججوں کی بغاوت سے نظام انصاف درست نہیں ہوگا۔ ملکی آئین ججوں کو قانونی فیصلے لکھتے ہوئے اپنی رائے دینے کا اختیار دیتا ہے۔ اس حق کو برادر ججوں کو بے وقعت کرنے کے مقصد سے استعمال کرنا مناسب نہیں ہے۔
( بشکریہ : کاروان ۔۔ ناروے )
فیس بک کمینٹ

