عمران خان کا مجسمہ تراشنے میں جو ملبہ چاروں طرف گرا ہے اس میں متبادل سیاسی قوتوں کی توقیر دفن ہو گئی ہے۔
دریا کے کنارے کھڑے ہیں۔ یہ معلوم کرنا مشکل ہے کہ دریا پار کر لیا ہے یا ابھی پانی میں پاؤں دھرا ہے اور یہ تو ہم جانتے ہیں کہ اس کے بعد ایک اور دریا کا سامنا ہو گا۔ ہم یونانی دیومالا کے دیوتا سسی فس کی آزمائش میں ہیں جسے سزا ملی تھی کہ بھاری پتھر اٹھا کر پہاڑ کی چوٹی پر پہنچے تو پتھر لڑھک کر پھر نیچے آگرے۔ واضح رہے کہ قائداعظم نے پاکستان کو کبھی تجربہ گاہ نہیں کہا۔ 12 اپریل 1948 ءکو اسلامیہ کالج پشاور کی جس تقریر کا حوالہ دیا جاتا ہے اس کا متن حرف بحرف محفوظ ہے۔ بابائے قوم نے تجربہ گاہ کا لفظ ادا نہیں کیا۔ یہ اعزاز تو لیاقت علی خان کا ہے جنہوں نے ٹھیک گیارہ ماہ بعد 12 مارچ 1949 کو قرارداد مقاصد منظور ہونے کے بعد پاکستان کو ایک ایسی تجربہ گاہ قرار دیا تھا جہاں دنیا پر یہ ثابت کیا جا سکے کہ اسلام ایک ترقی پسند قوت ہے اور انسانیت کو درپیش مصائب کا حل پیش کر سکتا ہے۔ لیاقت علی خان نے بھی ’تجربہ گاہ‘ کا لفظ استعمال کرتے ہوئے یہ اشارہ نہیں دیا تھا کہ یہاں کے شہریوں کو خرگوش سمجھ کر ان پر نشتر آزمائی ہو گی۔
انگریز حکمران برطانوی ہندوستان سے رخصت ہوئے تو بٹوارے میں پاکستان کو متحدہ ہندوستان کے 17.5 فیصد وسائل اور 23.4 فیصد رقبہ ملا۔ برطانوی ہند کی کل آبادی میں سے 17.3 فیصد باشندے پاکستانی قرار پائے جبکہ ہندوستانی فوج کا 36 فیصد پاکستان کے حصے میں آیا۔ مسلم لیگ کسی منظم سیاسی جماعت سے زیاد ہ ایک تحریک کا مزاج رکھتی تھی۔ مسلم لیگ نہ تو اپنا فرقہ ورانہ (Communal) تشخص تبدیل کرنے پر آمادہ تھی اور نہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے قیام کی روادار تھی۔ دسمبر 1947 میں خالق دینا ہال کراچی میں آل انڈیا مسلم لیگ کا آخری رسمی اجلاس اسی سیاسی اور ریاستی عدم توازن کی عکاسی کرتا تھا جسے حمزہ علوی نے 1972 میں The State in Post۔ Colonial Societies: Pakistan and Bangladesh کے عنوان سے اپنے مقالے میں پیش کیا تھا۔ کمزور سیاسی روایت کے مقابل مضبوط ریاستی ڈھانچہ جس کی تشکیل ہی عوام کو رعایا سمجھنے کے بیانیے پر قائم تھی۔ شیر علی خان پٹودی کی گواہی موجود ہے کہ میجر جنرل افتخار خان کو لاہور میں وزیراعظم لیاقت علی خان نے فوج کے آئندہ سربراہ کے طور پر نامزدگی کی اطلاع دی تھی۔ پٹودی نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ایوب خاں نے ان سے درخواست کی تھی کہ وہ نامزد فوجی سربراہ افتخار خان سے ملاقات کے خواہش مند ہیں۔ 13 دسمبر 1949 کو کراچی کے قریب C۔ 53 کے حادثے پر کوئی جامع تحقیق موجود نہیں۔
یہ پاکستان میں ایک بڑے تجربے کا نکتہ آغاز تھا جس کے آئندہ سنگ میل 17 جنوری 1951 کو ایوب خان کی سربراہ افواج کے طور پر تقرری، فروری 53 میں پنجاب کے فسادات، مارچ 1951 میں پنڈی سازش کیس اور اکتوبر 1954 کی کابینہ میں اسکندر مرزا اور ایوب خان کی شرکت جیسے تجربات شامل تھے۔ آخر ایوب خان فروری 1953 میں کس حیثیت میں امریکی قونصل جنرل گبسن کو بتا رہے تھے کہ فوج سیاست دانوں کو ملک تباہ کرنے کی اجازت نہیں دے گی اور حکومت سنبھال لے گی۔ ایوب خان 1954 میں لندن کے ایک ہوٹل میں بیٹھ کر مغربی پاکستان کو ون یونٹ بنانے کا منصوبہ کس اختیار کے تحت تیار کر رہے تھے۔ ون یونٹ نے وفاق پاکستان کے خد و خال ہی بدل ڈالے۔ اکتوبر 1958 میں مارشل لا کے نفاذ پر پاکستان ٹائمز کے صحافی انور علی (ننھا) نے کہا تھا کہ ہماری نسلیں رائیگانی کا تاوان دیں گی۔
مشرقی پاکستان سے تعلق رکھنے والے وزیر تجارت فضل الرحمن نے تو 1954 میں دستور ساز اسمبلی ٹوٹنے ہی پر پاکستان کے دو لخت ہونے کی پیش گوئی کر دی تھی۔ اسکندر مرزا کی کنٹرولڈ جمہوریت اور ایوب خان کی بنیادی جمہوریت کا تجربہ درحقیقت 16 دسمبر 1971 کو اختتام پذیر ہوا لیکن تجربہ گاہ میں بزرجمہر بدستور حالت استغراق میں رہے۔ بریگیڈیئر ضیا الحق کو گل حسن نے کورٹ مارشل سے بچایا تھا۔ گل حسن کے عزائم مارچ 1972 میں فسخ ہوئے تو ان کا مشن جولائی 1977 میں ضیا الحق نے پورا کیا۔ اس تجربے سے افغان جہاد، لسانی اور فرقہ ورانہ تنظیموں کا ظہور، دہشت گردی اور سیاسی عمل کے افلاس نے جنم لیا۔ تجربہ گاہ کی دیوار کے سائے میں بیٹھے زمیں زادوں نے 14 مئی 2006 کو میثاق جمہوریت اور اپریل 2010 میں اٹھارہویں آئینی ترمیم کی گستاخی کی تو اس کے جواب میں وہ تجربہ شروع ہوا جو 9 مئی 2023 تک پہنچا۔
آئی ایس آئی کے سابق سربراہ کو غیر معمولی حالات میں سزا سنائی گئی ہے۔ لیکن پندرہ برس پر محیط ساڑھ ستی کا تجربہ ختم ہوا ہے۔ تجربہ گاہ میں تحقیق اور تدقیق کا عمل جاری ہے۔ ملک میں ناخواندہ آبادی کی اکثریت اور نام نہاد تعلیم یافتہ طبقے کے ذہنی دیوالیہ پن سے قوم کے سیاسی شعور میں گہرا ہل چلا دیا گیا ہے۔ اس زمین پہ روئیدگی کی نمود ناممکن نہیں تو مشکل تر ضرور ہو گئی ہے۔ عمران خان کا مجسمہ تراشنے میں جو ملبہ چاروں طرف گرا ہے اس میں متبادل سیاسی قوتوں کی توقیر دفن ہو گئی ہے۔ ہم ایک مشکل مرحلے میں ہیں۔ سیاست کے فیصلے عدالتوں میں نہیں ہوا کرتے۔ 16 دسمبر 1971 کی شام یحییٰ خان قوم کو ایک نیا آئین دینا چاہتے تھے۔ اقتدار اور اختیار کے ارتکاز میں ایسی ہی بے بصری جنم لیا کرتی ہے۔ جاننا چاہیے کہ معیشت کا احوال وزیر خزانہ کے اعلانات سے اخذ نہیں کیا جاتا۔ ہم نے تو محمد شعیب سے شوکت عزیز اور پھر شوکت ترین تک ایسے وزرائے خزانہ دیکھ رکھے ہیں جو ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف جیسے اداروں سے درآمد کیے جاتے تھے اور موقع ملنے پر اس ملک کی معیشت پر کلہاڑا چلانے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے تھے۔ ہماری مشکلات زیر زمین خندقوں کا ایک پھیلا ہوا جال ہیں۔ اس اندھیری سرنگ میں قید پرندوں کی رہائی کا راستہ یہی ہے کہ پیڑ کی بربادی پر توجہ دی جائے۔ تجربہ گاہ کے مراق سے نجات پا کے حرف آئین اور شفاف جمہوری عمل سے رجوع کیا جائے۔
(بشکریہ:ہم سب)
فیس بک کمینٹ

