ملتان ۔۔۔ ممتاز محقق، ادیب اور نقاد ڈاکٹر انوار احمد نے کہا ہے کہ ارتقاء آرگنائزیشن پاکستان بچوں کی شخصیت سازی میں مثبت کردار ادا کر رہی ہے۔ ڈیجیٹل گیجٹس کے دور میں کہانی سنانے اور سننے کی روایت کو زندہ رکھنا قابلِ تحسین عمل ہے۔ ارتقاء کا یہ قدم بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو ابھارنے اور انہیں اعتماد دینے میں سنگِ میل ثابت ہوگا۔ یہ بات انہوں نے ارتقاء آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام، ٹیکس ٹاکس انٹرنیشنل اور دائرہ علم و ادب کے اشتراک سے منعقدہ "بچوں کا کہانی گھر” سے بطورِ صدرِ تقریب خطاب کرتے ہوئے کہی۔ یہ کہانی گھر ملتان ٹی ہاؤس میں منعقد ہوا، جس میں مختلف اسکولوں کے 72 سے زیادہ طلبہ و طالبات نے کہانیاں سنا کر داد وصول کی ۔
تقریب میں بچوں نے بڑی دلچسپی اور اعتماد کے ساتھ سبق آموز اور تخلیقی کہانیاں سنائیں، جنہیں حاضرین نے بھرپور داد دی۔
مہمانانِ خصوصی میں خیام اکبر، خواجہ مظہر الحق ، سجاد جہانیہ ، اظہر سلیم مجوکہ، رضی الدین رضی، شاکر حسین شاکر، ڈاکٹر سیرت فاطمہ، شیر افگن خان جوہر، راجہ کوثر سعیدی اور دیگر شخصیات شامل تھیں۔
مہمانوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ کہانیاں بچوں کی تربیت، شعور اور اخلاقی اقدار کے فروغ میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔ ارتقاء آرگنائزیشن پاکستان نے کہانی سنانے کی قدیم روایت کو نئی نسل تک پہنچا کر قابلِ فخر کام انجام دیا ہے۔
ڈائریکٹر ارتقاء خواجہ مظہر صدیقی نے اختتامی خطاب میں کہا کہ ملتان میں ایک بڑے کہانی گھر کا انعقاد میرا دیرینہ خواب تھا جو آج شرمندۂ تعبیر ہوا۔ اب تک ارتقاء 327 کہانی گھر منعقد کر چکی ہے، جن کے ذریعے بچوں کو اظہارِ خیال کے مواقع فراہم کیے گئے۔ تقریب کے اختتام پر تمام شریک طلبہ کو سرٹیفکیٹس پیش کیے گئے۔
فیس بک کمینٹ

