خالد مسعود خانکالملکھاری

راہ پیا جانے، یا واہ پیا جانے۔۔خالدمسعودخان

ہمارے مقدر میں بھی کیا کیا دیکھنا باقی رہ گیا تھا۔ تبدیلی کے نام پر آنے والی حکومت بھی ہر وہ کام کر رہی ہے جس کا ملبہ وہ گزشتہ حکمرانوں پر ڈال کر اقتدار میں آئی ہے۔ کوئی ایک الزام؟ الزامات کی ایک طویل فہرست ہے۔ بھارت سے دوستی کی پینگیں بڑھانے کی بات۔ کشمیر پر آنکھیں بند کرنے کا دعویٰ۔ قرضے لینے کا الزام۔ آئی ایم ایف کی ڈکٹیشن اور معاشی غلامی کی بات۔ کشکول پھیلانے کا الزام۔ پارلیمنٹ سے بالابالا گھر میں بیٹھ کر فیصلے پر تنقید۔ اب سب کچھ وہی ہو رہا ہے‘ جس کا الزام عمران خان ٹیلی ویڑن پر بیٹھ کر اس وقت کے حکمرانوں پر لگایا کرتے تھے۔ اقتدار میں آنے کے بعد انہیں پتا چلا کہ یہ حرکتیں مسلم لیگی حکمران یا پیپلز پارٹی کے حکمران نہیں کرتے تھے بلکہ یہ کام پاکستان کے حکمران کیا کرتے ہیں۔ اب عمران خان پاکستان کے حکمران ہیں، سو وہ بھی وہی کچھ کر رہے ہیں جو اس ملک کے حکمران کرتے رہے ہیں۔ عمران خان کوئی مریخ سے آئے ہیں؟



تیسری دنیا کے تقریباً سبھی حکمرانوں کا عمومی رویہ یہی ہے جو پاکستان کے حکمرانوں کا ہے۔ وہ جب اقتدار میں آتے ہیں تو مملکت خداداد کو اپنی ذاتی جاگیر اور چراگاہ سمجھ کر ایوانِ اقتدار میں براجمان ہوتے ہیں اور سب کچھ عین وہی کرتے ہیں جو گزشتہ حکمران کیا کرتے تھے اور جسے وہ مقدور بھر مطعون کیا کرتے سانس نہیں لیا کرتے تھے۔ حکمرانوں کی تسلی ہی نہیں ہوتی اور وہ اپنے اقتدار کو نا مکمل اور ادھورا سمجھتے ہیں ‘اگر اس میں مطلق العنانی شامل نہ ہو۔ ہماری جمہوریت دراصل بغیر وردی ٹائپ کی جمہوریت ہے۔ ہم وردی والے حکمرانوں کے خلاف بھی ہیں لیکن لا شعوری طور پر اپنے لیے ویسا ہی اقتدار چاہتے ہیں جیسا کہ آمروں کو نصیب ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے لے کر اپنے عمران خان صاحب تک‘ کسی بھی جمہوری حکمران کو دیکھ لیں۔ سب کا رویہ جنرل ضیاءالحق اور پرویز مشرف جیسا ہی لگتا ہے۔ پرویز مشرف نے جس طرح میر ظفر اللہ جمالی کے سر پر دستِ شفقت رکھ کر وزارتِ عظمیٰ سے نوازا تھا‘ بالکل اسی طرح عمران خان اپنے عثمان بزدار کو وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بٹھا دیتے ہیں۔ جیسے پرویز مشرف اپنے چاہنے والوں کو حکومتی ریوڑیاں تقسیم کرتے تھے اور طارق عزیز وغیرہ کو کھل کھیلنے کا موقعہ دیا کرتے تھے‘ عمران خان اسی طرح زلفی بخاری، نوشیرواں برکی اور انیل مسرت وغیرہ کو اپنی مرضی اور صوابدید سے جہاں چاہتے ہیں اور جیسے چاہتے ہیں فٹ کر دیتے ہیں۔ نہ پہلے کوئی پوچھنے والا تھا اور نہ ہی اب کسی کا ڈر خوف ہے۔ سیاں کوتوال ہو تو بھلا کس بات کا ڈر خوف رہ جاتا ہے؟ سو عمران خان کی صوابدیدی تعیناتیوں کی فہرست بہت طویل ہے۔
ہمارے حکمران اس وقت تک اپنے آپ کو پورے حکمران تسلیم نہیں کرتے جب تک وہ قواعدو ضوابط اور قاعدے قوانین کو اپنے دست و بازو سے توڑ کر نہ رکھ دیں۔ یہی حال اس وقت کرتارپور راہداری والے معاملے میں ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں معاہدے حکومتوں کے درمیان ہوتے ہیں اور اس میں کوئی بھی تبدیلی یا کمی بیشی باہمی رضا مندی سے ہوتی ہے اور کسی باقاعدہ فورم کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ادھر یہ حال ہے کہ نواز شریف اینڈ کمپنی کو من مانی کرنے کے طعنے دینے اور فیصلے پارلیمنٹ کے بجائے گھر بیٹھ کر یا کچن کیبنٹ میں کرنے کے الزام لگانے والے عمران خان پارلیمنٹ اور کیبنٹ وغیرہ کی منظوری کے خود سرے سے ہی منکر ہیں اور بیٹھے بٹھائے جو دل کرتا ہے اعلان فرما دیتے ہیں۔ اور نواز شریف اور زرداری خاندان کو خاندانی حکومتوں کے طعنے مارنے والے عمران خان تو ماشاءاللہ یک و تنہا ہی وہ سب کچھ کر رہے ہیں جو پورا نواز شریف خاندان اور زرداری خاندان مل کر کرتا تھا؛ تاہم خاتون اول کی پس پردہ پیشین گوئیوں کے بارے میں یہ عاجز فی الحال خاموش ہے کہ یہ وہ موضوع ہے جس پر الگ سے کئی کالم لکھے جا سکتے ہیں۔



کرتارپور راہداری کا معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان حکومتی سطح کا معاہدہ ہے۔ ویسے تو اس معاہدے میں کئی چیزیں ایسی ہیں جو ملکی سکیورٹی کے حوالے سے‘ اور خاص طور پر جب فریق ثانی بھارت ہو‘ قابلِ توجہ ہیں‘ مگر فی الوقت خالصہ کارڈ کے نام پر کئی معاملات پر جو مفاہمت کی گئی ہے اس سے قطع نظر، ایک بات سمجھ نہیں آرہی کہ کرتارپور صاحب‘ بابا گورونانک کے حوالے سے سکھوں کے لیے یقینی طور پر بہت مقدس اور محترم مقام ہے‘ لیکن اس راہداری کے ذریعے کرتارپور آنے کے لیے سکھوں کے علاوہ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کے لیے اجازت کی کیا ت±ک بنتی ہے؟ کرتارپور صاحب کی زیارت کے لیے سکھوں کے علاوہ دیگر مذاہب (علاوہ مسلمان) کے ماننے والوں کو انہی شرائط پر جو سکھوں کے لیے لاگو کی گئی ہیں کرتارپور راہداری کے ذریعے پاکستان آنے کی اجازت دینا بالکل ویسے ہی لگتا ہے، جیسے کسی غیر مسلم کو عمرے کا ویزہ جاری کر دیا جائے۔ مقام سکھوں کے لیے مقدس و متبرک ہے اور آنے کی اجازت سکھوں کے ساتھ ساتھ دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو بھی۔یہ گھنڈی اس عاجز کی سمجھ سے بالاتر ہے، کسی اور کو سمجھ آگئی ہو تو الگ بات ہے۔



اس معاہدے کی کل اٹھارہ شقیں ہیں۔ ترجمے میں معمولی اونچ نیچ کی معذرت۔ شق نمبر چار ہے کہ ”زائرین کارآمد پاسپورٹ پر سفر کر سکیں گے۔ ان زائرین میں بھارتی پاسپورٹ رکھنے والے اور وہ لوگ جو بھارتی نژاد ہیں اور ان کے پاس اوور سیز بھارتی کارڈ اور پاسپورٹ ہے‘ شامل ہیں“۔اسی طرح اس معاہدے کی شق نمبر سولہ ہے کہ” اس معاہدے میں کوئی ترمیم، اضافہ یا اصلاح فریقین کی باہمی تحریری رضا مندی سے ہوگی“۔ عمران خان صاحب نے یکطرفہ طور پر دونوں شقوں کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے فریقین کی تحریری رضامندی کے بغیر طے شدہ معاہدے میں ترمیم کر دی اور شق نمبر چار میں پاسپورٹ پر سفر کرنے کی پابندی کو ختم کرتے ہوئے ایک سال کے لیے بھارت سے آنے والے سکھوں کو صرف بھارتی شناختی کارڈ پر پاکستان داخلے کی اجازت دے دی ہے۔ یاد رہے کہ بھارتی شناختی کارڈ اس طرح مشین ریڈ ایبل نہیں ہے جیسا کہ پاکستان کا نادرا کارڈ ہے اور نہ ہی اس میں کارڈ ہولڈر کی مکمل تفصیلات موجود ہوتی ہیں۔
سکھ کارڈ اپنی جگہ لیکن بھارت سے سکھ مذہب کے علاوہ دیگر مذاہب کے آنے والے زائرین کے بارے میں یقین سے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ ان میں سے کون اصلی زائر ہے اور کون بھارتی ایجنٹ۔ کون کرتارپور صاحب کی زیارت کرنے آیا ہے اور کون حساس معلومات شیئر کرنے کے لیے اس گوردوارے کے احاطے میں داخل ہوا ہے۔ اگر کلبھوشن یادیو کو بھارتی حکومت مبارک پٹیل کا جعلی پاسپورٹ جاری کر سکتی ہے تو زائرین کے روپ میں آنے والے کسی بھارتی ایجنٹ کو بھارتی شناختی کارڈ جاری کرنا مودی سرکار کے لیے کون سا مشکل کام ہے؟
میں ذاتی طور پر سکھوں کو ملنے والی اس سہولت کے ذریعے حاصل ہونے والی کمیونٹی کی حمایت کو ایک سفارتی پوائنٹ سکورنگ سمجھتا ہوں اور موجودہ حالات میں یہ وہ سفارتی، علاقائی اور سیاسی داﺅ ہے جو مودی سرکار کے لیے ہضم کرنا مشکل تھا، لیکن یاد رہے کہ ہم معاہدے کرنے میں کوئی نہ کوئی ایسی غفلت اور بے وقوفی کر جاتے ہیں جو بعد ازاں ہمارے لیے سراسر نقصان اور گھاٹے کا باعث بنتی ہے۔ سندھ طاس کا معاہدہ اس کی روشن مثال ہے۔



کل رات شاہ جی کہنے لگے کہ سکھوں کو دی جانے والی اس سہولت سے عمران خان کی مقبولیت کا گراف بھارتی پنجاب میں کافی بلند ہوا ہے اور امرتسر میں تو پاکستان کے جھنڈے اور عمران خان کی تصاویر لہرائی گئی ہیں اور بینر بھی لگائے گئے ہیں جو بعد ازاں شیوسینا کے غنڈوں نے اتار دیئے۔ ملک صاحب شاہ جی کی بات سن کر مسکرائے اور کہنے لگے: عجیب معاملہ ہے، جہاں سے عمران خان نے الیکشن لڑنا ہے وہاں ان کی مقبولیت کم ہو رہی ہے اور جہاں سے وہ کبھی بھی الیکشن نہیں لڑ سکتے وہاں ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ قدرت کا نظام بھی عجیب ہے، حالانکہ ایک پنجابی کہاوت ہے کہ ”راہ پیا جانے، یا واہ پیا جانے“۔ (یا ساتھ سفر کرنے والا آپ کو جانتا ہے یا جس کے ساتھ لین دین یا معاملات ہوں وہ آپ کو جانتا ہے)۔
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker