خالد مسعود خانکالملکھاری

ایک دوست کی پیپلز پارٹی میں دوبارہ شمولیت کی کہانی۔۔خالد مسعود خان

شوکت گجر کئی دنوں سے دوبارہ پیپلز پارٹی میں شمولیت کے لئے پَر تول رہا تھا اور اسے کسی معقول بہانے کی ضرورت تھی۔ سو‘ وہ معقول بہانہ اسے گزشتہ روز مل گیاا ور وہ جس طرح پیپلز پارٹی چھوڑ کر پی ٹی آئی میں شامل ہوا تھا‘ اسی طرح پی ٹی آئی چھوڑ کر دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گیا ہے‘ یعنی ”پہنچی وہیں پہ خاک جہاں کا خمیر تھا“۔
شوکت گجر پرانا جیالا ہے ؛حالانکہ خاصا معقول آدمی ہے‘ لیکن اللہ تعالیٰ نے انسان کو بڑے تنوع میں تخلیق کیا ہے‘ کیونکہ اس کی اس مخلوق سے کچھ بھی بعید نہیں‘ اس لیے شوکت گجر پیپلز پارٹی کا جیالا تھا۔ پھر جب پیپلز پارٹی کو عبرتناک زوال نصیب ہوا تو وہ پی ٹی آئی میں شامل ہو گیا۔ یاد رہے کہ وہ محض پیپلز پارٹی کے زوال کے باعث پی ٹی آئی میں شامل نہیں ہوا تھا ‘بلکہ اس زوال کے نتیجے میں مسلم لیگ (ن )کو حاصل ہونے والے عروج کے توڑ کی خاطر پی ٹی آئی میں شامل ہوا تھا۔ اسے جب محسوس ہوا کہ اب مسلم لیگ (ن) کی سیاسی پیش قدمی کو روکنا پیپلز پارٹی کے بس کی بات نہیں رہی اور اگر اس پیش قدمی کو کوئی روک سکتا ہے‘ توو ہ فی الوقت صرف پی ٹی آئی ہے تو وہ صرف مسلم لیگ( ن) کا ”مکو ٹھپنے“ کی خاطر پی ٹی آئی میں شامل ہو گیا اور گزشتہ دو اڑھائی سال سے بڑا توپ قسم کا ”انصافیا“ بنا رہنے کے بعد بالآخر اس تہمت سے اپنی جان چھڑوا گیا ہے اور تحریک انصاف میں اپنی شمولیت سے توبہ تائب ہو کر دوبارہ پیپلز پارٹی میں شامل ہو گیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ سرے سے ”انصافیا“ تھا ہی نہیں۔ وہ تو محض مسلم لیگ( ن) سے اپنی مخالفت اور بغض کے باعث وقتی طور پر پیپلز پارٹی کے بجائے پی ٹی آئی کی سیاسی حمایت پر آمادہ ہوا تھا اور ”دشمن کا دشمن‘ ہمارا دوست ہے“ کے فارمولے کے تحت پی ٹی آئی کی حمایت کر رہا تھا‘ وگرنہ وہ نظریاتی طور پر کل بھی جیالا تھا‘ آج بھی جیالا ہے اور کل بھی جیالا ہی رہے گا۔ جب کوئی شخص ایک بار جیالا بن جائے تو پھر اس پر ہدایت کے دیگر سارے دروازے بند ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ کچھ عرصے سے شوکت گجر عمران خان اور پی ٹی آئی کی اس طرح صفائیاں نہیں دے رہا تھا‘ جس طرح وہ چند ماہ قبل تک دیتا آ رہا تھا۔ مسلسل یوٹرن لینے اور مہنگائی و بے روزگاری میں روز افزوں اضافے نے شوکت کے لیے پی ٹی آئی کی غیر مشروط اور اندھی حمایت کا دروازہ آہستہ آہستہ بند کرنا شروع کر دیا تھا اور وہ گزشتہ کچھ عرصے سے دوبارہ بلاول بھٹو کے بارے میں بہت زیادہ پرامید سا لگ رہا تھا۔ ہاں! وہ زرداری کے بارے میں ابھی تک اپنے خیالات میں کوئی مثبت تبدیلی نہیں لا سکا‘ لیکن بلاول بھٹو زرداری کے حوالے سے وہ پیپلز پارٹی کی دوبارہ نئی زندگی بارے نا صرف پرامید ہے‘ بلکہ باقاعدہ دعا گو بھی ہے۔ شوکت گجر کے پی ٹی آئی کو باقاعدہ خیر باد کہنے کے پیچھے ؛حالانکہ لاتعداد واقعات اور وجوہات ہیں‘ لیکن اونٹ کی کمر پر آخری تنکا بہرحال عمران خان کی گزشتہ دنوں والی تقریر ہے‘ جس میں اس نے میاں نواز شریف کی لندن روانگی کے بعد ان کی بیماری کے بارے میں شکوک و شبہات کا اظہار کرتے ہوئے اسے تقریباً تقریباً فراڈ قرار دے دیا ہے۔
شوکت گجر کا کہنا ہے کہ یہ کسی وزیراعظم کے شایان شان تقریر نہیں تھی۔ اندازِ تکلم اور الفاظ کے چناﺅ کی حد تک نہیں‘ بلکہ اس تقریر کا مرکزی خیال بھی کسی سربراہ مملکت کے عہدے سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اور خیال تو رہ گیا ایک طرف‘ بلاتصدیق والے الزامات اور عورتوں والے طعنے۔ گزشتہ روز اس نے پی ٹی آئی اور عمران خان کی حمایت سے باقاعدہ لاتعلقی‘ علیحدگی اور بریت کا اعلان کر دیا ہے۔
شوکت گجر کا کہنا ہے کہ عمران خان کی اس موضوع پر تقریر بنتی ہی نہیں تھی۔ اسے چاہیے تھا کہ وہ ڈاکٹر یاسمین راشد سے جوابدہی کرتا کہ یہ کیا معاملہ ہے؟ آپ لوگ اسے بیمار قرار دے رہے تھے‘ جبکہ معاملہ اس کے برعکس نظر آ رہا ہے۔ ڈاکٹروں کے اس سرکاری پینل سے پوچھ تاچھ کرتا‘ جس نے عدالت میں میڈیکل رپورٹ دی تھی۔ شنید ہے کہ اس پینل میں شوکت خانم ہسپتال کا ایک ڈاکٹر بھی شامل تھا۔ ان سب لوگوں نے اگر غلط رپورٹ دی تھی ‘تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے اور اگر اس غلط میڈیکل رپورٹ میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد‘ سرکاری قائم کردہ میڈیکل بورڈ اور سرکاری لیبارٹریاں‘ تمام کے تمام شامل ہیں تو تقریر میں گرجنے برسنے اور الزامات لگانے کے بجائے اس سارے سسٹم کو کنٹرول کرنے میں ناکامی پر اپنی اور اپنی حکومت کی نااہلی کا اعتراف کیا جاتا۔ جعلی رپورٹوں اور غلط رائے دینے پر تقریر کرنے کے بجائے ان کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جاتی اور ان کو عبرتناک سزا دی جاتی‘ تاکہ آئندہ سے طاقتور لوگوں کو ان کی مرضی کی میڈیکل رپورٹس اور جعلی ٹیسٹ رپورٹس فراہم کرنے والوں کا ”مکو ٹھپا“ جا سکتا۔
لیکن (اگر واقعتاً ایسا ہی ہوا ہے تو) اس جعلسازی کا بندوبست کرنے والوں اور حکومت و عدالت کو گمراہ کن رپورٹس پیش کرنے والوں کے خلاف کسی کارروائی کے بجائے وزیراعظم اپنے عہدے اور مرتبے سے کہیں نیچے جا کر ایک ایسی تقریر فرما رہے ہیں‘ جن میں سے بہت سی باتیں بلاتصدیق کی جا رہی ہیں اور بہت سی باتیں غلط فورم پر کی جا رہی ہیں کہ اس معاملے پر عوامی تقریر کا کوئی جواز نہیں تھا۔اگر واقعتاً نواز شریف اینڈ کمپنی نے جعلی ٹیسٹ رپورٹس بنوائی ہیں۔ اپنی مرضی کی ڈاکٹری رائے شاملِ عدالت کروائی ہے تو اتنے ہائی لیول پر ہونے والی یہ ساری جعلسازی حکومت کی نالائقی اور نااہلی کا ایک اتنا بڑا ثبوت ہے کہ اس کے بعد اس حکومت کی ناکامی میں رتی برابر شبہ باقی نہیں رہتا۔ اپنی نالائقی اور نااہلی پر تقریر نہیں‘ استعفیٰ بنتا ہے۔ طعنے نہیں بنتے‘ ذمہ داروں کے خلاف کارروائی بنتی ہے۔ اپنے مرتبے سے کہیں نیچے کی گفتگو نہیں بنتی‘ اپنی نالائقی کا اعتراف بنتا ہے۔ عجب زمانہ آ گیا ہے کہ اپنی انتظامی ناکامی کے اعتراف کے بجائے اپنی نالائقی کا ملبہ بھی فریق ثانی پر ڈالا جاتا رہا ہے۔ اب تو ملک کرپشن سے اور سفارش والے واہیات کلچر سے آزاد ہو چکا ہے۔ پھر یہ جعلی رپورٹیں اور غلط میڈیکل سرٹیفکیٹس کون جاری کر رہا ہے؟ کیا یہ بھی گزشتہ کرپٹ حکومت کا کام ہے؟
تمام تر ٹیسٹ اور میڈیکل بورڈز کا قیام پنجاب حکومت کے زیر انتظام ہوا ہے۔ اس حکومت کے سربراہ اپنے عثمان بزدار صاحب ہیں نہ کہ شہباز شریف۔ اگر عثمان بزدار کی گزشتہ پندرہ ماہ سے قائم حکومت اپنی رِٹ قائم نہیں کر سکی تو پھر عمران خان کو اپنی سلیکشن پر غور کرنا چاہیے کہ اس نے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے لیے کیا ”شاندار“ شخص چنا ہے۔ گیارہ کروڑ سے زیادہ آبادی والے صوبے کو جو دنیا کے دو سو تیس ممالک میں سے دو سو انیس ممالک سے زیادہ ا?بادی کا حامل ہے‘ کس کے حوالے کیا ہے؟ اب کافی دن ہو گئے ہیں عمران خان نے اپنے اس دریافت کردہ ہیرے کو وسیم اکرم سے تشبیہ نہیں دی۔ میرا گمان ہے کہ اس تشبیہ پر وسیم اکرم نے عمران خان سے ضرور شکایت کی ہوگی اور پوچھا ہو گا کہ آخر اس سے کیا غلطی ہوئی ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ پنجاب کا بار بار اسی سے موازنہ کیا جا رہا ہے کیا عمران خان کے پاس اس موازنے کے لیے کوئی اور شخصیت نہیں ہے اسے ہی خوار و خستہ کیا جا رہا ہے؟ اس عاجز کو گمان ہے کہ وسیم اکرم کے پرزور احتجاج پر ہی اب گزشتہ کچھ عرصے سے جناب عثمان بزدار کو وسیم اکرم جیسی دریافت قرار دینے سے جان بخشی ہوئی ہے۔
شوکت گجر کہنے لگا میں تو آج سے پی ٹی آئی سے تائب ہو کر واپس پیپلز پارٹی میں جا رہا ہوں‘ تاہم میری اس دو سالہ سیاسی رفاقت اور تبدیلی کے خوش کن نعرے سے محبت کا تقاضا ہے کہ میں جاتے جاتے عمران خان کو ایک نصیحت کرتا جاﺅں۔ گو کہ یہ چھوٹا منہ بڑی بات کے مترادف ہے‘ لیکن دو اڑھائی سالہ محبت اور ارمان کی اپنی مجبوریاں ہیں۔ میری عمران خان سے درخواست ہے کہ وہ اس قسم کی گفتگو اور تقریروں کی ذمہ داری کسی چھوٹے موٹے وزیر کے ذمے لگا دیں اور خود وہ کام کریں جو وزیراعظم کے شایان شان ہو۔ عوام کی موجودہ مشکلات کو کم کرنے میں ممدو معاون ہو اور پچاس لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کی سمت جاتا ہو۔ پھر دکھی سا ہو کر کہنے لگا: مجھ احمق کو دیکھیں! حالانکہ مجھے پتا ہے کہ عمران خان نے میری کیا سننی ہے؟ وہ سوائے اپنے کسی کی نہیں سنتا۔ اس کے باوجود میں اسے کچھ سمجھانے کی کوشش کر رہا ہوں۔ بھلا مجھ سے بڑا احمق اور کون ہو سکتا ہے؟
(بشکریہ:روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker