خالد مسعود خانکالملکھاری

نیپال یاترا کا ثمر۔۔خالد مسعودخان

ا?ٓپ یقین کریں اگر مجھے یہ گمان بھی ہوتا کہ یہ معاملہ میرے نیپال جانے سے حل ہو سکتا ہے تو میں مہینوں پہلے نیپال روانہ ہو جاتا۔ مجھے یہ خوشخبری نیپال سے واپسی پر ملی کہ تحریک انصاف بلکہ زیادہ صاف لفظوں میں یوں کہہ لیں کہ ہمارے پیارے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اپنے عزیز ازجان اور الیکشن وغیرہ میں ہر طرح کی معاونت کرنے والے رانا عبدالجبار کو چیئرمین ایم ڈی اے لگوایا تھا‘ ان کی چھٹی ہو گئی ہے۔ ایسی چھٹی ہونے کے بارے میں ایک اردو کا محاورہ ہے ‘ جو یہاں درج نہیں کیا جا سکتا؛ تاہم میری خوشی باقاعدہ دوبالا ہو گئی جب شاہ جی نے دوسرے سانس میں یہ بتایا کہ موصوف اکیلے نہیں گئے بلکہ اس کے ہمراہ ڈی جی ایم ڈی اے بھی فراغت پا گئے ہیں۔ ایسی صورتحال کے بارے میں اگر دوبارہ محاورے کی مدد حاصل کی جائے تو اسے ”چیڑی اور دودو“ سے تشبیہ دی جا سکتی ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ہر دو اشخاص نے مل کر شام ڈھلے موج میلے کا بازار گرم کر رکھا تھا۔ قارئین! خدانخواستہ اس شام ڈھلے موج میلے سے مراد وہ موج میلہ نہیں جس کا خیال فوری طور پر آپ کے ذہن میں آیا ہے بلکہ میں نے ”شام ڈھلے“ کا لفظ اس تناظر میں لکھا ہے کہ ہر دو اشخاص کے اکٹھے ہونے کے بعد ایم ڈی اے کے دفتر میں اصل کام تب شروع ہوتا تھا جب دفتر ٹائم ختم ہو جاتا تھا اور مشکوک قسم کے سائلین از قسم دو نمبر بلڈرز‘ پرائیویٹ کالونیوں کے مالکان اور ہمہ قسم کی غیر قانونی منظوریوں کے منتظر حضرات دن ڈھلے دفتر کا رخ کرتے اور رات ڈھلے من کی مراد پا کر گھروں کو خوش خوش لوٹتے۔ تاہم گھر لوٹتے ہوئے یہ خوشی یک طرفہ نہ ہوتی تھی۔ چیئر مین ایم ڈی اے اور ڈی جی ایم ڈی اے(اب سابق) کی خوشی ان سے بھی دو چند ہوتی تھی کہ ایک طرف کئی لوگ من کی مراد پاتے تھے اور دوسری طرف ان تمام من کی مراد پانے والوں کے مقابلے میں فیوض و برکات سے مستفید ہونے والے محض دو اشخاص تھے۔ ظاہر ہے خوشی بھی حصہ بقدر جثہ کے مطابق ہوتی ہے۔ آپ سمجھدار ہیں اور خوشی کا اندازہ تو لگا ہی سکتے ہیں۔
ایم ڈی اے تو صرف ایک مثال ہے۔ دراصل ایسے سارے محکمے حکمرانوں نے اپنے پیاروں کو خوش کرنے کے لیے وقف کر رکھے ہیں۔ میاں شہباز شریف کے دور میں میرے بہت پیارے دوست بلال بٹ ایڈووکیٹ کو اس محکمے کا وائس چیئر مین لگا دیا تھا۔ میں نے بلال بٹ کے ساتھ بطور خاص ”ایڈووکیٹ“ صرف اس لیے رکھا ہے کہ یار دوست اسے بلال بٹ سابقہ کمشنر ملتان و ڈی جی ایم ڈی اے نہ سمجھ لیں۔ خیر بعد ازاں عدالت نے میرے اس عزیز دوست کی تقرری غیر قانونی قرار دے کر کینسل کر دی۔ تاہم جتنا عرصہ وہ وائس چیئر مین رہے ان کا دفتر مرجع خلائق رہا اور مخلوق خدا اصل ڈائریکٹر جنرل سے زیادہ ان کے دفتر میں جمع رہتی تھی۔ اب یہی حال چیئر مین (سابقہ) کے دفتر کا تھا۔ موصوف نے زندگی بھر کسی جگہ اتنی دلجمعی سے ڈیوٹی سر انجام نہ دی تھی جتنی باقاعدگی سے وہ ایم ڈی اے کے دفتر میں حاضر و موجود رہے۔
خود مختار سرکاری اداروں‘ کارپوریشنوں اور اتھارٹیوں کے چیئر مین دراصل ان اداروں کے نہیں بلکہ ان اداروں کے بورڈز کے چیئر مین ہوتے ہیں اور کارپوریٹ گورننس رولز کے مطابق ان کا اداروں کے انتظامی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ یہ بورڈ ان اداروں کو چلانے کیلئے درکار بجٹ اور دیگر معاملات میں رہنمائی‘ نگرانی اور دیئے گئے اہداف کے حصول تک محدود ہے۔ مختصر الفاظ میں کارپوریٹ گورننس رولز کے تحتThe main role of board of directors is oversight and planning. اور بورڈ کا چیئر مین بنیادی طور پر بورڈ کا عام ممبر ہوتا ہے جو بورڈ کے اجلاس کو چیئر کرتا ہے اور کسی معاملے میں بورڈ کے ارکان کے ووٹ برابر ہونے کی صورت میں کاسٹنگ ووٹ استعمال کرتا ہے۔ اس کا ادارے کے انتظامی معاملات سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کام کے لیے ادارے کا چیف ایگزیکٹو‘ ڈائریکٹر جنرل‘ منیجنگ ڈائریکٹر یا کسی اور نام سے مقرر سربراہ ادارہ رکھا گیا ہوتا ہے۔ ہاں! بعض حالات میں اگر ادارے کا انتظامی سربراہ خود چیئر مین ہوتو اور بات ہے‘ تاہم ڈیویلپمنٹ اتھارٹیز (جیسے ملتان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی)‘ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ کمپنیز‘ واٹر اینڈ سینی ٹیشن اتھارٹیز اور دیگر سرکاری کارپوریشنز اتھارٹیز کے بورڈز کے چیئر مینوں کو کسی قسم کے انتظامی اختیارات حاصل نہیں ہیں‘ مگر سیاسی طور پر تعینات ان چیئر مینوں نے سارے سسٹم کو برباد کر کے رکھ دیا ہے۔ سابق چیئرمین ایم ڈی اے اس کی زندہ مثال ہیں‘جنہیں شاہ محمود قریشی نے اپنی صوابدید اور زور آوری سے ملتان ڈیویلپمنٹ اتھارٹی کا چیئر مین بنوایا تھا اور موصوف ایک عدد کمرہ لے کر وہاں مستقل ٹک گئے تھے اور الیکشن پر کیا گیا خرچہ بمعہ منافع وصول کر لیا ہو گا۔ ابھی یہ کاروبار مزید چلتا‘ مگر اللہ جانے وہ کون سے عوامل تھے جن کے تحت اس کی چیئر مینی کا دھڑن تختہ ہو گیا۔
ایم ڈی اے پر ملتان کی سڑکوں پر سپیڈ بریکر بنانے کا ایک جنون طاری ہوا اور اس کام کے لیے تین انچ سے زیادہ اونچے سٹیل سٹڈز کو ہر چوک پر‘ ہر یوٹرن پر اور ہر موڑ پر نصب کرنا شروع کر دیا۔ یہ کام اتنی تیزی سے ہوا کہ ماضی میں کسی کام کے لیے اتنی پھرتی کی مثال نہیں ملتی۔ یہ سٹیل سٹڈز دنیا بھر میں کہیں بھی بطور سپیڈ بریکر استعمال نہیں ہوتے۔ یہ صرف ڈیوائیڈر کے متبادل کے طور پر استعمال ہوتے ہیں یا بطور رکاوٹ مستعمل ہیں۔ گمان غالب ہے کہ اس سے ضرور کسی کو نوازنا مقصود ہوگا۔ سو دھڑا دھڑ ہر جگہ یہ سٹیل سٹڈز نصب کر دیئے گئے۔ کئی موٹرسائیکل سواروں کو بمعہ فیملیز میں نے اپنی آنکھوں سے توازن خراب ہونے کی بنا پر گرتے دیکھا۔ میں نے اس سلسلے میں کم از کم تین بارتنویر اقبال ڈی جی ایم ڈی اے (معطل شدہ) سے ملنے کی کوشش کی مگر ہر بار ان کا موبائل بند ملا اور دفتر فون کرنے پر پتا چلا کہ وہ فیلڈ میں ہیں۔ دو بار ذاتی طور پر دفتر گیا (غلطی سے میں ہر بار دفتری اوقات میں اس کو ملنے چلا گیا تھا) مگر وہ دفتری اوقات میں دفتر میں نہ ملے۔ بعد میں کسی نے بتایا کہ وہ اور چیئرمین عموماً دفتری اوقات کے بعد ایکشن میں آتے ہیں اور پھر رات گئے تک دفتر بیٹھے رہتے ہیں۔ دل خوش ہوا کہ چلیں کوئی شخص تو کام کر رہا ہے‘ خواہ دفتری اوقات کے بعد ہی سہی‘ مگر بعد میں ایک گھر کے بھیدی نے بھانڈا پھوڑا کہ دفتری اوقات کے بعد جو کچھ ہوتا ہے وہ کام نہیں بلکہ ”دھندا“ ہے اور دھندے کے بارے میں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔
ان سٹیل سٹڈز کے سلسلے میں پہلے ڈپٹی کمشنر کو ملا اور پھر کمشنر ملتان سے۔ ان دونوں اصحاب سے ملنا نہایت سہل نکلا۔ ہر دو اصحاب نہ دفتر سے غیر حاضر تھے اور نہ ہی فیلڈ کا بہانہ کر کے غائب تھے۔ ڈپٹی کمشنر نے ان سٹڈز کے سلسلے میں ایک میٹنگ رکھی جس میں مجھے بھی بلایا گیا لیکن ڈی جی ایم ڈی اے نہ خود آئے اور نہ ہی ان کے ادارے سے کوئی شخص آیا۔ اس لیے میرا یہ شبہ پختہ یقین میں بدل گیا کہ ہزاروں کی تعداد میں لگنے والے ان سٹیل سٹڈز کے پیچھے کوئی نہ کوئی کہانی پوشیدہ ہے۔ بات کہانی کی ہوئی ہے تو کہانیاں بے شمار ہیں۔ ان کہانیوں میں اور کردار بھی شامل ہیں۔ فی الحال تو چودہ کالونیوں کو سہولیات نہ ہونے کے باوجود دو کروڑ روپے فی کالونی کے عوض ریگولر کرنے کی کہانی زبان زد عام ہے۔ دو سو سے زائد غیر قانونی کالونیوں کی فہرست سے بائیس کالونیوں کے اخراج کے عوض مبلغ گیارہ کروڑ روپے کی وصولی کی کہانی بھی شہر میں گردش کر رہی ہے۔ ابھی مزید ستر کالونیوں پر لین دین زیر غور تھا کہ اچانک وزیراعلیٰ کی طرف سے ہر دو اشخاص کی معطلی کا حکم نامہ آ گیا؛حالانکہ جناب وزیراعلیٰ کے ناک کے نیچے ڈیرہ غازی خان میں بھی اسی قسم کے معاملات چل رہے ہیں اور بخیر و خوبی پر امن انداز میں چل رہے ہیں بلکہ شنید ہے کہ ان کی آشیرباد سے چل رہے ہیں‘ تاہم ملتان میں ہونے والی یہ دو معطلیاں شاید اس لیے ہوئیں کہ ہوا زیادہ خراب ہو رہی تھی۔ ویسے بھی میری ملتان سے غیر حاضری کا کوئی تو مثبت پہلو نکلنا ہی تھا ‘اگر اسے میری نیپال یاترا کا ثمر سمجھا جائے تو مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ
Tags

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker