خالد مسعود خانکالملکھاری

نیا کٹا پھر کھل گیا ہے۔۔خالدمسعودخان

حالانکہ عمران خان نے وزیر اعظم ہاؤس کی ساری بھینسیں بیچ کر اس جھنجٹ سے اپنی جان چھڑوا لی تھی مگر حیرت ہے کہ اس کے باوجود ہر روز کوئی نہ کوئی نیا کٹا کھل جاتا ہے۔ بقول شاہ جی یہ کٹا ہر روز اس لیے کھل جاتا ہے کہ حکومت ہر روز راہ چلتے کٹے کو پکڑ کر لے آتی ہے اور مزے کی بات یہ ہے کہ کسی کو کٹا باندھنا آتا نہیں ہے۔ آرمی چیف کی مدتِ ملازمت میں توسیع کا نوٹیفکیشن اس کی روشن مثال ہے۔
جب میں نے اپنے ایک واٹس ایپ گروپ میں وزیر اعظم کی جانب سے آرمی چیف کی مدت ملازمت میں توسیع کا اڑھائی سطری نوٹیفکیشن دیکھا تو ایمانداری کی بات ہے اسے حسب معمول سوشل میڈیائی شرارت سمجھا۔ اب سوشل میڈیا پر وقتاً فوقتاً اس قسم کے‘ بلکہ اس سے کہیں زیادہ معقول بنائے گئے نوٹیفکیشن دیکھنے کی اتنی عادت پڑ گئی ہے کہ وزیر اعظم کے اصلی لیکن افراتفری میں بنائے گے نقلی نما نوٹیفکیشن کو بھی کسی ناتجربہ کار کی اولین شرارت سمجھ کر نظر انداز کر دیا۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ نوٹیفکیشن سو فیصد اصلی تھا۔ اصلی اور نقلی پر ڈانواں ڈول سا اعتبار اب تو بالکل ہی ختم ہو گیا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ میرے جیسے آئینی موشگافیوں اور قوانین سے لا علم شخص کو بھی یہ نوٹیفکیشن پڑھ کر اس کے نقلی ہونے کا گمان ہوا‘ لیکن سرکار کئی ماہ تک اسی اڑھائی سطری خط پر تکیہ کرکے بیٹھی رہی تاوقتیکہ گرما گرم افواہوں کا بازار گرم ہوا اور دھرنے کو اس سے جوڑنے کی بے پرکی بھی اڑائی گئی۔ پھر ایک سمری تیار کرکے صدرمملکت کے پاس بھیجی گئی۔ اس سمری سے زیادہ محنت تو ایک معروف فنکارہ کو “Good Will Ambassador for Girls rights” بنانے والی سمری پر کی گئی تھی۔
سمری در سمری کی کہانی کیا بیان کی جائے؟ سب کو ساری کہانی کا علم ہے کہ اب کوئی بات نہ تو چھپی رہتی ہے اور نہ ہی پردے میں رہتی ہے۔ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے طفیل دو منٹ کی کہانی دو گھنٹوں میں بیان ہوتی ہے اور ایسے مرچ مسالوں کے ساتھ کہ اصل بات کہیں پس پردہ چلی جاتی ہے؛ تاہم اس سارے واقعے میں اٹارنی جنرل اور بیوروکریٹس کی قابلیت کے جو پرخچے اڑے‘ اس نے کئی سوالات کھڑے کر دیئے ہیں۔ ابھی تو یہ بیوروکریٹوں کی وہ لاٹ ہے جس نے بڑے شاندار کیریئر والے بیوروکریٹس کے زیر سایہ کام کیا‘ اور کافی کچھ سیکھا ہے‘ جو آگے آ رہے ہیں وہ تو ایسے لائق فائق ہیں کہ بندہ دیکھ کر حیران رہ جاتا ہے۔ ایک زمانہ تھا ڈپٹی کمشنر وغیرہ سے مل کر احساس ہوتا تھا کہ کسی پڑھے لکھے اور دیگر لوگوں سے کسی حد تک نمایاں شخص سے بات کر رہے ہیں۔ اب یہ حالت ہے کہ بیوروکریٹس کی نئی لاٹ سے مل کر افسوس ہوتا ہے۔ نالائق‘ پڑھنے لکھنے سے عاری‘ انگریزی سے نابلد اور کمتر درجے کے آئی کیو کے مالک۔ سی ایس ایس کے امتحان میں پاس ہونے والوں کی شرح اور حاصل کردہ نمبر دیکھیں تو شرم آتی ہے کہ اب ملک و قوم کی انتظامی باگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھ میں ہوگی۔ پہلے یہ ہوتا تھا کہ بورڈ اور یونیورسٹی میں ٹاپ کرنے والے ہونہار اور ذہین لڑکے لڑکیاں سی ایس ایس کے امتحان میں بیٹھتے تھے اور ایک سخت مقابلے کے بعد اس سروس کے لیے منتخب ہوتے تھے۔ پھر ہونہار اور ذہین طلبہ تحصیل علم سے فارغ ہونے کے بعد یا اس کے دوران ہی غیرملکی یونیورسٹیوں میں داخلے لے کر پاکستان سے باہر جانا شروع ہو گئے۔ اس خلا کو پورا کرنے کے لیے اوسط درجے کے رٹا باز یا ”گیٹ تھرو گائیڈز‘‘ کے طفیل شارٹ کٹ کے ذریعے نمبر حاصل کرنے والے طلبا و طالبات اس شعبہ میں آگے آ گئے۔ اس کے بعد جو کچھ ہو رہا ہے آپ کے سامنے ہے۔ ڈریں اس وقت سے جب موجودہ لاٹ کے سول سرونٹس بھی ریٹائر ہو کر گھر چلے جائیں گے تو پیچھے جو ”چھان بورا‘‘ بچے گا وہ کیا گل کھلائے گا۔
ابھی تھوڑا عرصہ پہلے سینیٹ نے ایک ریزولیوشن پاس کیا ہے کہ سی ایس ایس کا امتحان اردو میں بھی دیا جا سکے گا۔ اندازہ کریں جب یہ والے افسران میدان میں آئیں گے تب کس قسم کے نوٹیفکیشن جاری ہوں گے اور عدالتیں کتنی بار نوٹیفکیشنز کو اعتراضات لگا کر واپس بھیجا کریں گی اور ان نوٹیفکیشنز میں درستی در درستی کا عمل کتنا عرصہ جاری رہا کرے گا۔ سینیٹ نے یہ ریزولیوشن پاس کرتے وقت چین اور جاپان کی مثال دی۔ حیرت ہوتی ہے جب اتنے بڑے فورم میں بیٹھے ہوئے لوگ محض سنی سنائی باتوں کو اس یقین سے بیان کرتے ہیں جیسے انہوں نے یہ سب کچھ خود دیکھا ہو۔ چین اور جاپان میں ساری تعلیم ان کی اپنی قومی زبان میں دی جاتی ہے۔ ساری درسی کتب‘ ساری سے مراد اعلیٰ ترین اداروں اور کلاسز کی حد تک۔ پی ایچ ڈی تک چینی اور جاپانی زبان میں کی جاتی ہے۔ ڈاکٹری‘ انجینئرنگ اور زراعت کی ساری تعلیم ان کی اپنی زبان میں دی جاتی ہے۔ عدالتوں میں مقدمات اور ان کے فیصلے سب کے سب ان کی قومی زبان میں دیئے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کا آئین تک ان کی قومی زبان میں ہے۔ اور ادھر کیا عالم ہے؟
میٹرک کے بعد جونہی طالب علم ایف ایس سی میں داخلہ لیتا ہے فزکس‘ کیمسٹری‘ ریاضی اور بیالوجی کی کتابیں انگریزی میں آ جاتی ہیں۔ اعلیٰ عدالتوں میں مقدموں کی ساری کارروائی انگریزی میں ہوتی ہے اور مقدموں کے فیصلے انگریزی میں لکھے جاتے ہیں۔ حتیٰ کہ دفتری کارروائی اردو میں کرنے کا فیصلہ بھی انگریزی میں دیا جاتا ہے۔ ڈاکٹری اور انجینئرنگ کی اعلیٰ تعلیم انگریزی میں دی جاتی ہے کہ ان مضامین کی ساری کتابیں صرف انگریزی میں دستیاب ہیں۔ سیاسی پارٹیوں کے جاہل ورکر عدالتی فیصلے سن کر خوشی سے بے حال ہو جاتے ہیں کہ وہ انگریزی میں لکھے ہوئے فیصلوں کو پڑھنے اور سمجھنے سے قاصر ہیں‘ حالانکہ وہ فیصلے ان کے خلاف ہوتے ہیں۔ مملکت خداداد‘ پاکستان کا آئین انگریزی میں ہے۔ میں نے ایک بار آئین کی اردو متن والی کتاب ایک دوست سے لی تاکہ پڑھ کر علم میں اضافہ کیا جا سکے۔ اس اردو متن والی کتاب میں نوٹ تھا کہ کسی سلسلے میں کبھی کوئی وضاحت‘ تشریح‘ تفہیم یا تفسیر کی ضرورت پڑی تو اس اردو متن کے بجائے انگریزی متن و الے آئین کی وضاحت اور تشریح حتمی ہو گی۔ لئو کر لو گل۔
اللہ اس برے دن سے بچائے جب بغیر تیاری کے اردو میں امتحان دینے والے افسران کو انگریزی میں نوٹیفکیشن لکھنے کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔ ویسے بھی اردو میں ترجمہ ہونے والی دفتری اصطلاحات اس قدر مشکل ہیں کہ انگریزی اس کے مقابلے میں آسان لگتی ہے۔ ایک بار سید عامر محمود جعفری نے انور مسعود صاحب سے پوچھا کہ وہ Ensure Learning کا کوئی آسان یک لفظی ترجمہ کرکے دیں تاکہ آسانی رہے۔ انور مسعود صاحب نے آسان ترجمہ کرتے ہوئے بتایا کہ آپ اسے ”آموزش‘‘ کہہ لیں۔ عامر محمود نے ترجمے کا ارادہ ترک کر دیا۔
بات کہیں کی کہیں چلی گئیں۔ یہ جو چھ ماہ میں آئین میں ترمیم کے فیصلے پر حکومت فتح کے شادیانے بجا رہی ہے یہ ایک نیا کٹا ہے جو کھل گیا ہے اور اس کٹے کو چھ ماہ میں باندھنا کم از کم اس عاجز کو تو مشکل نظر آ رہا ہے کہ اس کو باندھنے کے لئے اسمبلی کی دو تہائی اکثریت درکار ہے اور فی الوقت حکومت کو نہ تو از خود یہ اکثریت دستیاب ہے اور نہ ہی ان کی حرکتیں ایسی ہیں کہ انہیں یہ اکثریت ادھر ادھر سے مل جائے۔ اس کا حال بھی الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی والا ہوتا نظر آ رہا ہے۔ اللہ خیر کرے۔ یہ کٹا تو بندھتا نظر نہیں آ رہا؛ البتہ اسی دوران دو چار اور کٹے کھل گئے تو حیرانی کی کوئی بات نہیں کہ میں آپ کو پہلے ہی بتا چکا ہوں یہ حکومت راہ چلتے کسی بھی کٹے کو گھسیٹ کر اپنے صحن میں لے آتی ہے اور کٹا باندھنا کسی کو بھی نہیں آتا۔ رب خیر ای کرے۔ یہ نیا کٹا آخری کٹا ہرگز نہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیاـ)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker