خالد مسعود خانکالملکھاری

چاچا روشن کی بس، پٹھان ڈرائیور اور ہمارے حکمران۔۔خالد مسعودخان

عمران خان صاحب سے اور کوئی امید تھی یا نہیں لیکن ایک بات کی صرف امید ہی نہیں بلکہ امید واثق تھی کہ کم از کم وہ غلط چیزوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ”ان‘‘ کے آگے سرنگوں نہیں ہوں گے۔ تاجروں اور ٹیکس چوروں سے بلیک میل نہیں ہوں گے۔ نااہل اور بدعنوان عناصر سے صلح نہیں کریں گے۔ کرپشن میں ملوث سیاستدانوں کو دست و بازو نہیں بنائیں گے۔ بیوروکریسی کے ہتھکنڈوں کے آگے سرنڈر نہیں کریں گے۔ دو نمبر اور خائن لوگوں کو اپنے اردگرد جمع نہیں ہونے دیں گے۔ دوستوں کو مفت کا مال کھانے پینے کی اجازت نہیں دیں گے‘ اور اپنی صفوں میں موجود کرپٹ لوگوں کو کسی صورت برداشت نہیں کریں گے۔ ایمانداری کی بات ہے کہ مجھے اپنے تمام اندازے غلط ہونے اور اپنی امیدوں پر پانی پھر جانے کا ازحد افسوس ہے۔ اپنے خان صاحب ”ان‘‘ کے آگے جس طرح سرنگوں ہیں اس کی مثال کم از کم ہمارے ہوش سنبھالنے کے بعد تو ہمیں یاد نہیں۔ ایک خاص طبقے سے ریٹائرڈ افراد جس طرح ہر خالی ہونے والی اسامی پر فٹ کئے جا رہے ہیں اس سے قبل اس کی مثال بھی ملنا ممکن نہیں۔
تاجروں اور ٹیکس چوروں سے جس طرح بلیک میل موجودہ حکومت ہوئی‘ اس سے پہلے اس کی مثال ملنا بھی مشکل ہے۔ ابھی دو چار دن پہلے کی بات ہے کہ پنجاب میں فلور ملز پر چھاپے مارے گئے اور ذخیرہ کی گئی گندم برآمد کی گئی۔ اگلے ہی روز فلور ملز نے ہڑتال کا اعلان کر دیا اور حکومت نے اس ہڑتال کا نام سنتے ہی گھٹنے ٹیک دیے اور فلور ملز پر چھاپے مارنے سے توبہ کرتے ہوئے فلور ملز مالکان کو یقین دہانی کروا دی کہ آئندہ اس قسم کی حرکت نہیں کی جائے گی۔ اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں۔ اس سے پہلے کسٹمرز سے ٹیکس وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع نہ کروانے والے ریسٹورنٹس کو حساب کتاب کے آڈٹ کرنے کا نوٹس دیا تو انہوں نے ہڑتال کا اعلان کر دیا تھا۔ حکومت نے عوام سے ٹیکس وصول کرکے سرکاری خزانے میں جمع نہ کروانے والے مجرموں کو قانون کی گرفت میں لینے اور نشان عبرت بنانے کے بجائے ان کے آڈٹ کا حکم واپس لے لیا اور انہیں اس بات کی اصولی اجازت مرحمت فرما دی کہ وہ آئندہ بھی گورنمنٹ کا عائد کردہ ٹیکس کھانا کھانے والوں سے تو وصول کر لیں مگر بے شک سرکاری خزانے میں جمع نہ کروائیں۔ یہی کام سرکار نے تب کیا جب ٹرانسپورٹ کیلئے ایکسل لوڈ پالیسی لاگو کی گئی۔ گڈز ٹرانسپورٹ نے ہڑتال کی دھمکی تو حکومت کی ہوا سرک گئی۔ دوسری مرتبہ یہ ہوا کہ تیز رفتاری اور ٹریفک قوانین کی مختلف خلاف ورزیوں پر جرمانے کی رقم سینکڑوں سے بڑھا کر ہزاروں روپے میں کی گئی تو ٹرانسپورٹ کے شعبے نے ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ جلدبازی اور پھرتیوں کی انتہا دیکھیں‘ یہ قانون اپنے لاگو ہونے کی تاریخ سے ایک دن قبل ہی واپس لے لیا گیا۔ سرکاری رٹ اور حکومت کی طاقت کو اس حکومت نے جتنا بے آبرو اور ذلیل و رسوا کیا ہے اس سے پہلے کم از کم ہمیں تو بالکل یاد نہیں۔
عمران خان صاحب نے کہاکہ نااہل اور بدعنوان عناصر سے صلح نہیں کریں گے۔ اس سلسلے میں انہوں نے اپنا یہ وعدہ صرف اور صرف میاں نواز شریف اینڈ کمپنی اور زرداری کارپوریشن کے سلسلے میں پورا کیا‘ اور باقی تمام لوگوں کو مکمل چھوٹ دے دی۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی وغیرہ کو چھوڑ کر آنے والوں کو سرخ اور سبز پٹکا گلے میں ڈال کر ڈرائی کلین کیا گیا اور دھو دھلا کر تحریک انصاف میں نہ صرف شامل کیا بلکہ اسمبلیوں کے ٹکٹ بھی عطا کئے گئے اور پھر انہی بدعنوان، کرپٹ اور بے ایمان سیاستدانوں کے کندھے پر سوار ہو کر خان صاحب وزارت عظمیٰ کی کرسی پر فروکش ہوئے اور ایسے تمام لوگوں کی طرف سے آنکھیں موند لیں۔ جہانگیر ترین اگر اسمبلی میں ہوتا تو ظاہر ہے کسی زوردار وزارت پر متمکن ہوتا اور خسرو بختیار اور ہاشم جواں بخت کی طرح کابینہ کامعزز رکن ہوتا۔ افسوس صرف اس بات کا ہے کہ جہانگیر ترین بے چارہ نااہل ہوکر اسمبلی کا رکن نہ بن سکااور عمران خان کی کرپشن کے خلاف مہم میں کام آ گیا۔ حقیقت یہی ہے کہ وہ واقعتاً عمران خان کے ہی کام آیا کہ اس کی فراغت سے عمران خان صاحب نے اپنی کرپشن کے خلاف زبانی کلامی مہم کی ڈوبتی ہوئی کشتی کو سہارا دیا اور جہانگیر ترین اس ساری مہم کا واحد مقتول ٹھہرا۔
عمران خان کے چاروں طرف اب مشکوک طرزعمل کے لوگوں کا جمگھٹا ہے۔ کابینہ کو تو چھوڑیں کہ وہ بہرحال کسی نہ کسی حد تک منتخب لوگوں پر مشتمل ہے‘ سب سے مزیدار صورتحال وزیراعظم کے معاونین خصوصی اور مشیران کے معاملے میں پیش آ رہی ہے۔ ابھی چند روز قبل ہی وزیر اعظم نے صحت کے معاون خصوصی کی غلط بخشیوں پر اور بھارت سے دوائیوں کی درآمد والے اربوں روپے کے سیکنڈل کے معاون خصوصی ڈاکٹر ظفر مرزا کو کڑی سزا دیتے ہوئے ان کے مالی معاملات کے اختیارات کو ختم کردیا‘ باقی سب کچھ جوں کا توں ہے اور موصوف وزیر کے مساوی اختیارات اور سہولتوں سے بہرہ مند ہورہے ہیں۔ یہی حال آئی پی پی لوٹ مار سیکنڈل میں دو عدد Beneficiaries کا ہے۔ کامرس اینڈ انویسٹمنٹ کے اپنے مشیر رزاق داود اور پٹرولیم کے شعبے میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ندیم بابر نہ صرف ابھی تک اپنے اپنے عہدوں پر برقرار ہیں بلکہ میرے پیارے وزیر اعظم نے کابینہ کے اجلاس میں ہر دو حضرات کے بارے میں تعریفی کلمات بھی ادا کئے۔ اب پچاس لاکھ گھروں، ایک کروڑ نوکریوں اور جنوبی پنجاب کو صوبہ بنانے پر کیا بات کروں؟ اس پر خان صاحب نے غیر اعلانیہ یوٹرن لیا ہوا ہے لیکن اس یوٹرن کا اعلان نہیں کر رہے۔ اس پر مجھے ایک پرانا واقعہ یاد آ رہا ہے۔ یہ غالباً 1979 کا واقعہ ہے۔ یونیورسٹی کا پکنک ٹور ہیڈ سدھنائی جا رہا تھا۔ تین چار بسوں پر طلبا و طالبات سوار تھے۔ ہم جس بس میں تھے اس کا ڈرائیور چاچا روشن تھا۔ ہماری بس گو کہ سب سے آخر میں نہیں چلی تھی مگر چاچا روشن کی شہرہ آفاق سست رفتاری کے باعث ہم سب سے پیچھے رہ گئے۔ پل باگڑ سے تھوڑا پہلے بس بند ہو گئی۔ چاچا روشن نے چیک کرنے کے بعد اعلان کیا کہ بس ائیر لاک ہو گئی ہے۔ معلوم ہوا کہ بس کے ڈیزل والے فیول فلٹر میں ہوا آ گئی ہے اور بس ایئر لاک ہو کر بند ہو گئی ہے۔ پہلے ایک دو لڑکے بس سے اتر کر باہر کھڑے ہوئے۔ پھر مزید دو چار اترے۔ پھر دیکھا دیکھی سب نیچے اترکر کھڑے ہو گئے۔ اگر ساری سواریاں لڑکے ہوتے تو ہماری کوئی خیرخبر نہ پوچھتا مگر پندرہ بیس لڑکیاں دیکھ کر ہردوسرے تیسرے گزرنے والے کی ہمدردی کی رگ پھڑک اٹھتی اور وہ رک کرحال ضرور پوچھتا۔ ایک ٹرک رکا‘ اس کا نوجوان خوبرو پٹھان ڈرائیور نیچے اترآیا اور معاملہ دریافت کیا۔ چاچا نے بتایا کہ بس ایئر لاک ہو گئی ہے۔ پٹھان ڈرائیور نے چاچا روشن سے چابی لی‘ سلف مارا اور پھر اعلان کیا کہ گاڑی ایئر لاک نہیں ہوئی بلکہ اس کا ہوا پھنس گیا ہے۔ پھر اس نے ٹول بکس کھول کر اوزار نکالے اور بس کے نیچے گھس کر فیول فلٹر اور دوسری چیزیں کھول کر نیچے زمین پر رکھ دیں۔ سب کچھ کھولنے کے بعد وہ بس کے نیچے سے نکلا صافی سے ہاتھ صاف کئے اور کہنے لگا: ام نے پلٹر کھول دیا ہے‘ اب ام کو یہ بند کرنا نہیں آتا‘ آگے سے کسی مستری کو بلاؤ‘ وہ اسے ٹیک کر دے گا۔ یہ کہہ کر وہ اپنے ٹرک پر چڑھا اور یہ جا وہ جا۔ تب موبائل فون تو ہوتے نہیں تھے کہ کسی کو فون کرتے۔ کنڈیکٹر اللہ دتہ کو پیچھے سے آنے والی بس پر چڑھا کر پل باگڑ بھیجا‘ نیا فیول فلٹر اور مستری منگوا کر بس سٹارٹ کروائی اور ہیڈ سدھنائی پہنچے۔ بعد میں ہم برسوں اس واقعے کا لطف اٹھاتے رہے۔ آج سوچتا ہوں تو خیال آتا ہے کہ وہ پٹھان ڈرائیور ہمارے حکمرانوں سے بہرحال بہت ہی بہتر تھاکہ اس نے وقت ضائع کیے بغیر فوری طور پر اپنی کم علمی کا اعتراف کرتے ہوئے اعلان کیاکہ اسے فلٹر صرف کھولنا آتا ہے جوڑنا نہیں آتا اور پھرسب کچھ چھوڑ چھاڑ کراپنے ٹرک پر بیٹھا اور شتابی سے رخصت ہو گیا۔ ہمارے حکمران سب کچھ کھول بیٹھے ہیں اور اب ان سے واپس کچھ بھی جوڑا نہیں جا رہا لیکن وہ اپنی نااہلی اور کم علمی کا نہ اعتراف کررہے ہیں اور نہ ہی اعلان کررہے ہیں اور نہ ہی رخصت ہونے کے موڈ میں ہیں۔ اللہ جانے وہ اس ”بس‘‘ کا کیا حال کرتے ہیں۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker