2018 انتخاباتخالد مسعود خانکالملکھاری

NOTA اور میرا جمہوری حق:کٹہرا /خالد مسعود خان

بعض اوقات کالم شروع کرنا بڑا مشکل ہو جاتا ہے جیسا کہ آج ہو رہا ہے۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کا آغاز کیسے کروں؟ ایک پرانے واقعے سے، یا ملا نصرالدین کی تمثیل سے؟ میں نے اس کا حل یہ نکالا کہ اس پر ٹاس کر لوں۔ لیکن پھر ایک مشکل۔ پہلے ٹاس کرنے کے لیے جیب میں سکے با افراط موجود ہوتے تھے۔ اب یہ سہولت عنقا ہو گئی ہے۔ کیا زمانہ تھا۔ ہاں اور نہ والا OBJECTIVE پیپر آ جاتا تھا تو جیب میں پڑا سکہ بڑا کام آتا۔ اب تو چھوٹے سے چھوٹا سکہ پانچ روپے کا ہے اور اس کی ناقدری کا یہ عالم ہے کہ گھر کے فرش پر گرا پڑا ہو تو بچے تو بچے نوکر تک نہیں اٹھاتے۔ فقیر کو دیں تو ایسے وصول کرتا ہے جیسے احسان عظیم فرما رہا ہو۔ میں عموماً جیب میں پڑے ہوئے سکوں کو ڈریسنگ روم میں شیشے کے ساتھ ریک میں رکھ دیتا ہوں۔ سو یہ سکہ کام آ گیا اور مشکل آسان ہو گئی۔ ٹاس میں یہ نتیجہ نکلا کہ میں پہلے ملا نصرالدین کا واقعہ لکھوں (ایمانداری کی بات ہے کہ میں نے ٹاس کرنے سے قبل اپنے والے واقعے کو پہلے لکھنے کا ارادہ کیا تھا‘ مگر مناسب سمجھا کہ ٹاس ہی کر لوں‘ اور ٹاس نے کام خراب کر دیا)
ایک دن ملا نصرالدین اپنے گدھے کو گھر کی چھت پر لے گئے (اللہ جانے ملا نصرالدین کے دل میں ایسے انوکھے اور نایاب خیالات آتے کیسے تھے۔ بہرحال یہ ملا نصرالدین کی صلاحیتوں کا کمال تھا اور اسی وجہ سے ان کی شہرت چار دانگ عالم میں تھی) جب نیچے اتارنے لگے تو گدھے نے اترنے سے انکار کر دیا (یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ آخر وہ اسے چھت پر کیوں لے کر گئے اور جب چڑھا دیا تو پھر اسے اتارنے کی کیوں جلدی آن پڑی۔ لیکن فی الحال اس نامعقول بحث پر لعنت بھیجتے ہیں)
ملا نے بہت کوشش کی مگر گدھا نیچے اترنے پر راضی نہیں تھا (اگر وہ ایسا نہ کرتا تو اسے گدھا کون کہتا؟) آخرکار ملا تھک کر نیچے آ گئے اور صحن میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگے کہ گدھا خود کسی طرح نیچے آ جائے (بھلا گدھے کو کیا پڑی تھی کہ نیچے آتا؟ نیچے اس کے لیے کونسا کمخواب کا بستر بچھا ہوا تھا کہ وہ اس پر آرام کرنے کیلئے اتر آتا۔ نیچے بھی اس کے لیے وہی مشقت تھی جو روزانہ اس کا مقدر تھی) کچھ دیر بعد ملا نے محسوس کیا کہ گدھا چھت پر کود پھاند کر رہا ہے۔ ملا کے گھر کی کچی چھت اس ساری اچھل کود کو زیادہ دیر برداشت کرنے کے قابل نہیں تھی۔ اب ملا کو پریشانی نے گھیر لیا کہ نازک چھت نیچے آن گرے گی۔ سو ملا نے ایک بار پھر اوپر جا کر کوشش کی کہ گدھے کو کسی طرح گھسیٹ گھساٹ کر نیچے لے آئیں۔ گدھا اب اور زیادہ ڈھٹائی پر اتر آیا تھا اور نہ صرف یہ کہ اس نے ملا کی گھسیٹ کر نیچے لانے کی کوشش کو ایک بار پھر ناکام بنا دیا بلکہ ملا کی زور زبردستی کیخلاف بطور احتجاج ملا کو ایک عدد خاصی نامعقول قسم کی زوردار دولتی مار دی۔ ملا چھت سے سیدھے صحن میں آن گرے اور اس زور آزمائی کے دوران گدھا بھی چھت سمیت زمین پر آن گرا۔
ملا کافی دیر تک اس واقعے پر غور کرتے رہے (ملا نصرالدین کی یہ خوبی تھی کہ وہ ہمیشہ بعد میں سارے واقعے اور اس کی عواقب پر غور کرتے تھے) کافی غور و خوض کے بعد ملا کو تین باتوں کی سمجھ آئی۔ پہلی یہ کہ کبھی بھی کسی گدھے کو مقامِ بالا پر نہیں لے جانا چاہئے۔ دوسری یہ کہ اگر وہ مقامِ بلند پر پہنچ جائے تو اپنے ساتھ ساتھ اس مقام کی عزت و آبرو بھی خراب کرتا ہے اور تیسرا یہ کہ وہ اوپر لے جانے والے کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
اگرچہ میں تجاہل عارفانہ سے کام لیتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہوں کہ اس ساری تمثیل کا ہمارے سیاسی نظام، منتخب ہونے والے افراد (حالانکہ میں یہاں کچھ اور لکھنا چاہتا تھا مگر صرف گدھوں کی متوقع ناراضگی کے خوف سے ”افراد‘‘ لکھا ہے) وغیرہ سے کوئی لین دین نہیں مگر اب ایسی پردے کی بھی کوئی ضرورت نہیں۔ یہ ساری تمثیل آئندہ الیکشن کو مدنظر رکھتے ہوئے گزشتہ الیکشنوں کے تناظر میں لکھی ہے۔ ہم ووٹ دے کر نا اہل لوگوں کو بلند مقام پر بٹھاتے ہیں، پھر یہ نا اہل لوگ ہم کو دولتیاں مارتے ہیں اور اس منصب کو بھی خراب کر دیتے ہیں۔
اب آ جائیں دوسرے واقعے پر جو خود میری اپنی کہانی ہے اور محض ٹاس کی وجہ سے بعد میں لکھی جا رہی ہے۔ یہ غالباً 1997ء کے الیکشن تھے اور ملتان شہر کا قومی اسمبلی کا حلقہ تھا۔ کافی امیدوار تھے لیکن اصل مقابلہ مسلم لیگ اور پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے درمیان تھا۔ اب چونکہ دونوں امیدوار اس دنیا میں نہیں اس لیے نام لکھنا مجھے اچھا نہیں لگ رہا۔ میں صبح ووٹ ڈالنے کے لیے روانہ ہوا تو جیب میں کالا مارکر ساتھ لے کر گیا۔ بیلٹ پیپر لے کر میں قنات کے پیچھے بنے ہوئے پولنگ بوتھ میں گیا اور بجائے کسی امیدوار کے نام کے سامنے مہر لگانے کے میں نے مسلم لیگ ن کے امیدوار کے سامنے لکھا ”یہ امیدوار چور ہے‘‘ اور پیپلز پارٹی کے امیدوار کے سامنے لکھا ”یہ مسلم لیگی امیدوار سے بھی بڑا چور ہے‘‘۔ بیلٹ پیپر تہہ کیا اور بیلٹ بکس میں ڈال کر گھر واپس آ گیا۔ ابا جی مرحوم نے پوچھا کہ کس کو ووٹ دیا؟ میں نے سارا قصہ بیان کر دیا۔ ابا کہنے لگے: تمہارا ووٹ تو ضائع ہو گیا۔ میں نے ابا جی سے پوچھا کہ انہوں نے ووٹ کس کو دیا ہے؟ انہوں نے بتایا کہ وہ مسلم لیگ کے امیدوار کو ووٹ ڈال کر آئے ہیں۔ میں نے کہا: ابا جی! آپ کا ووٹ گنتی میں ضرور آئے گا لیکن ضائع گیا ہے اور میرا ووٹ گنتی میں نہیں آئے گا لیکن ضائع نہیں گیا۔ ابا جی نے حیرانی سے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: جب میرا ووٹ کینسل ہو گا تو وہاں موجود ساری پارٹیوں کے پولنگ ایجنٹ اسے دیکھیں گے۔ وہاں موجود الیکشن ڈیوٹی پر مامور سارے سرکاری ملازم اسے کینسل کرنے سے پہلے دیکھیں گے اور اس پر لکھی ہوئی تحریر پڑھیں گے۔ میرا ووٹ کوئی پیغام دے گا۔ یہ میسج شاید کسی پر اثر کر جائے۔ کوئی تو اس پر سوچے گا۔ میرے ووٹ میں‘ جو کینسل ہو جائے گا‘ ایک پیغام پوشیدہ ہے‘ اسے بارہ پندرہ لوگوں نے پڑھا ہے لہٰذا یہ ووٹ ضائع نہیں گیا۔ ضائع تو وہ ہوئے ہیں جو غلط کاروں اور چوروں کے حق میں ڈالے گئے اور گنتی میں آئے۔ میرے ووٹ نے بہر حال لوگوں کو سوچنے پر ضرور مجبور کیا ہو گا۔ لہٰذا میرا ووٹ شاید اس ”صندوقڑی‘‘ کا واحد ووٹ ہو گا جو وہاں موجود انتخابی عملے اور سیاسی پارٹیوں کے الیکشن ایجنٹوں تک کوئی پیغام پہنچا کر کینسل ہوا ہو گا۔
دنیا کے کئی ممالک میں بیلٹ پیپر پر ایسا خانہ موجود ہے جس میں آپ سارے امیدواروں کو رد کرنے کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اسے عام زبان میں NOTA (None of the Above) یعنی ”درج بالا میں سے کوئی بھی نہیں‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس کی مزید تشریح میں کہا جاتا ہے کہ اگر کسی حلقے میں آپ بیلٹ پیپر پر موجود سارے امیدواروں کو رد کرنا چاہیں تو NOTA پر مہر لگا دیں اور اگر NOTA والے ووٹوں کی تعداد اکاون فیصد سے بڑھ جائے تو اس حلقے کا الیکشن کالعدم ہو جائے گا۔ کچھ جگہوں پر اس کی تشریح اور میکنزم یہ ہے کہ اگر یہ تعداد پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کے ووٹوں کے باہمی فرق سے زیادہ ہو تو اس حلقے کا الیکشن کالعدم ہو جائے گا اور اس حلقے میں ہونے والے آئندہ الیکشن میں موجودہ امیدواروں میں سے کوئی حصہ نہیں لے سکے گا۔
درج بالا کوئی بھی طریقہ کار حتمی نہیں لیکن مجھے بیلٹ پیپر پر NOTA کا خانہ درکار ہے تاکہ میں اس گلے سڑے انتخابی نظام میں بار بار کے آزمائے ہوئے پارٹیاں بدل بدل کر آنے والے لوٹوں، چوروں، بے ایمانوں، فنڈ خوروں، بدعنوانوں اور بدکرداروں کے درمیان ”چھوٹی برائی اور بڑی برائی‘‘ کے فرسودہ فلسفے میں پھنس کر کسی نہ کسی کو ووٹ دینے پر مجبور نہ ہوں۔ مجھے حق حاصل ہونا چاہئے کہ ایسے لوگوں پر عدم اعتماد کا اظہار ایسی صورت میں کر سکوں کہ میرا ووٹ کینسل نہ ہو اور گنتی میں آئے۔ یہ میرا جمہوری حق ہے کہ اگر میں پولنگ سٹیشن پر جا کر بیلٹ پیپر پر موجود تمام امیدواروں کو رد کرنا چاہوں تو میری رائے کے اظہار کے لیے بیلٹ پیپر پر خانہ ہو اور میری رائے گنتی میں بھی آئے۔ مجھے چوروں میں سے نسبتاً کم چور کو ووٹ دینے پر مجبور نہ کیا جائے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Leave a Reply

Your email address will not be published.

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker