خالد مسعود خانکالملکھاری

خالدمسعودخا ن کا کالم:غذائی اشیا کا درآمدی خرچہ

جس طرح کسی شاعر کے لیے یہ قطعاً ضروری نہیں کہ وہ جن موضوعات پر شاعری کرتا ہے ان سارے معاملات اور تجربات سے گزرا ہو اسی طرح کسی کالم نویس کے لیے بھی قطعاً لازمی نہیں کہ وہ جن موضوعات پر قلم اٹھاتا ہے ان موضوعات سے عملی طور پر وابستہ رہا ہو۔ ہاں! اس کا ان موضوعات پر لکھنے سے قبل ”ہوم ورک‘‘ پورا ہونا چاہیے اور اسے ان سے پوری طرح آگاہی ہونی چاہیے۔ یہ کام آسان ہرگز نہیں مگر ناممکن بھی نہیں ہے۔ اگر لکھاری اپنے آپ کو استاد کامل سمجھنے کے بجائے اچھا طالب علم سمجھے تو یہ کام مزید آسان ہو جاتا ہے۔
میں زراعت پر بھی خامہ فرسائی کرتا رہتا ہوں۔ اب اگر اس کے لیے یہ شرط عائد کر دی جائے کہ زراعت پر صرف وہی لکھ سکتا ہے جو خود اس پیشے سے وابستہ ہو تو یہ عاجز‘ جس کے پاس ایک مرلہ زرعی زمین نہیں اور گزشتہ تین پشتوں سے کاشتکاری سے کوئی عملی واسطہ نہیں‘زراعت پر کچھ لکھنے کے لیے صاف صاف نا اہل قرار پاتا ہے‘ لیکن میرے مالک کا کرم ہے کہ زراعت کے معاملے میں میرے تجزیے اور اندازے (جو سراسر دوستوں کے تجربات پر مبنی ہوتے ہیں) اکثر و بیشتر درست ثابت ہوتے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ عاجز اپنے آپ کو اس شعبے میں محض ایک طالب علم سمجھتا ہے اور ہمہ وقت کسی نہ کسی سے ان موضوعات پر سیکھنے کی کوشش کرتا رہتا ہے۔ کپاس کی صورتحال پر گزشتہ دو تین برسوں میں جو لکھا اور جن باتوں کے بارے میں اپنے تحفظات کا اظہار کیا تھا سو فیصد درست ثابت ہوئیں۔ کپاس کا رقبہ گھٹتے گھٹتے نصف سے بھی کم رہ گیا ہے۔ جنوبی پنجاب‘ جو کپاس کا گھر تھا‘ اس کا کاشتکار دوسری فصلوں پر شفٹ ہو گیا۔ صرف ضلع وہاڑی میں کپاس کی پیداوار پورے صوبہ سندھ سے زیادہ ہوتی تھی اور اس میں خاص طور پر تحصیل میلسی اپنی کپاس کی پیداوار کے حوالے سے پاکستان بھر میں سب سے نمایاں علاقہ تصور کیا جاتا تھا اب وہاں کپاس کے مثالی کاشتکار تک کپاس کی کاشت چھوڑ گئے ہیں۔
میں ذاتی طور پر نہ کاشتکار ہوں اور نہ ہی میرے والد صاحب اس پیشے سے کبھی منسلک رہے مگر میرے چار پانچ قریب ترین دوست نہ صرف کاشتکاری سے وابستہ ہیں بلکہ اپنے شعبے میں بڑے نمایاں لوگوں میں شمار ہوتے ہیں‘ مثالی کاشتکار ہیں اور زراعت میں ہونے والی جدید تحقیق اور پیشرفت سے مکمل آگاہ اور جڑے ہوئے افراد میں گنے جاتے ہیں۔ میرا ان سے عشروں پرانا تعلق ہے اور زیادہ تر وقت اپنے انہی دوستوں کے ساتھ گزرتا ہے۔ اس حوالے سے ملکی زراعت کو در پیش مسائل بارے معلومات ”فرسٹ ہینڈ‘‘ ہوتی ہیں اور اس میں کسی سنی سنائی کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا۔ میرا گمان ہے کہ میں ایک اچھا طالب علم ہوں‘ توجہ سے سنتا ہوں اور جب تک بات تہہ تک سمجھ نہ آ جائے نہ آگے چلتا ہوں اور نہ ہی اس سے آگے بڑھ کر لکھتا ہوں۔ ملتان میں روزانہ‘ بلاناغہ صبح سے شام تک جہاں بیٹھتا ہوں‘ وہاں ایک ایسا دوست میسر ہے جو اگر مبالغہ نہ سمجھا جائے تو زراعت پر ”اتھارٹی‘‘ ہے۔ ساری اعلیٰ تعلیم بھی زراعت میں ہے اور گزشتہ تین عشروں سے عملی طور پر زراعت اور زرعی کاروبار سے وابستہ ہے۔ اس دوران یورپ‘ امریکہ اور آسٹریلیا وغیرہ میں اَن گنت زرعی سیمینارز اور کانفرنسوں میں شرکت کر چکا ہے۔ پاکستان کی زراعت کے علاوہ دنیا بھر میں زراعت کے شعبے میں ہونے والی تحقیق‘ ترقی اور پیشرفت کے علاوہ فصلات کی پیداوار کے بارے میں Forecast اور اس حوالے سے عالمی زرعی منڈی میں آنے والی متوقع تبدیلیوں کے بارے میں اس کا تجزیہ بڑا علمی اور معلوماتی بنیادوں پر مبنی ہوتا ہے اور یہ عاجز اس سے ہمہ وقت کچھ نہ کچھ سیکھنے میں لگا رہتا ہے۔ اللہ مجھے اپنے بارے میں خوش گمانی سے محفوظ رکھے مگر میرا خیال ہے کہ میں ”منشی‘‘ کافی اچھا ہوں اور اپنے اس دوست اور دوسرے کاشتکار دوستوں سے پاکستان کی زراعت کے بارے میں جو تھوڑا بہت علم حاصل کرتا ہوں اسے مناسب طریقے سے قلمبند کر دیتا ہوں۔ اس لحاظ سے نہ تو میں محقق ہوں اور نہ استاد۔ بس ایک ادنیٰ سا طالب علم ہوں اور ایک اچھا منشی‘ جو ان حقائق کو اس طرح لکھ لیتا ہوں جس طرح ایک سٹینوگرافر اپنے افسر کی ڈکٹیشن سے اچھا سا ڈرافٹ تیار کر لیتا ہے۔پاکستان ایک زرعی ملک ہے۔ یہ میں خود سے نہیں کہہ رہا‘ بلکہ وہ کہہ رہا ہوں جو میں بچپن سے پڑھتا آ رہا ہوں۔ زراعت اس ملک کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے مگر ایمانداری کی بات ہے کہ ہمارے حکمرانوں کو بھی اس کا صحیح ادراک نہیں اور ان کی ترجیحات زبانی کلامی گفتگو سے ہٹ کر قطعاً ایسی نہیں کہ ملکی زراعت اپنے اس لیول تک پہنچے جو اس کا حقیقی پوٹینشل ہے۔ ہم جدید زرعی تحقیق سے کوسوں دور ہیں۔ اچھا بیج اب اس ملک میں خواب بنتا جا رہا ہے۔ فی ایکڑ زرعی پیداوار کے حوالے سے ہم دنیا سے بہت پیچھے ہیں۔
گزشتہ روز اپنے دوست سعید خان منیس کے کزن کی وفات پر تعزیت کیلئے ٹبہ سلطان پور گیا تو وہاں مثالی کاشتکار اور لائیو سٹاک کے حوالے سے بہت ہی معتبر نام کے حامل ممتاز خان منیس سے ملاقات ہوئی تو زراعت اور لائیو سٹاک کے موضوعات پر چند لمحے گفتگو کی۔ لائیو سٹاک کی صورتحال پر گفتگو ہوئی تو ممتاز منیس مجھ سے پوچھنے لگے کہ کیا آپ کبھی لائیو سٹاک سے وابستہ رہے ہیں؟ میں نے انہیں بتایا کہ بچپن میں عید کے موقع پر قربانی کے لیے چند دن کے مہمان بکروں اور دنبوں کے علاوہ میرا لائیو سٹاک سے کبھی کوئی واسطہ نہیں رہا تو حیرانی سے پوچھنے لگے کہ یہ بنیادی باتیں کہاں سے پتا چلیں؟ میں نے کہا: یہ مرحوم صفدر سلیم سیال کی مہربانی تھی کہ انہوں نے اس عاجز پر اپنا سر کھپایا۔صفدر سلیم سیال جھنگ کے شاندار شاعر تو تھے ہی تاہم بہت کم شاعروں کو ان کی لائیو سٹاک پر دسترس کے بارے میں علم ہے۔ ایک روز ایسے ہی باتوں باتوں میں پاکستان میں ڈیری ڈویلپمنٹ اور لائیو سٹاک کے بارے میں گفتگو چل پڑی تو معلوم ہوا کہ لائیو سٹاک کے موضوع پر بھی انہیں اتنی ہی گرفت حاصل ہے جتنی کہ شاعری پر۔ دورانِ گفتگو صفدر سلیم سیال کہنے لگے: ہمارے ہاں پاکستان میں فی بھینس اوسط دودھ کی مقدار ساڑھے پانچ لٹر فی یوم جبکہ گائے کی تین‘ ساڑھے تین لٹر فی یوم ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں گائے کے دودھ کی اوسط پیداوار تیس سے چالیس لٹر فی یوم ہے۔ دنیا میں ایک دن میں سب سے زیادہ دودھ دینے کا ریکارڈ کیوبا کی شہرہ آفاق گائے اُبرے بلانکا کے پاس ہے جس نے ایک دن میں ایک سو دس لٹر دودھ دیا۔ پاکستان دودھ کی پیداوار کے حوالے سے دنیا میں چوتھے نمبر پر ہے اور گزشتہ سال بیس کروڑ ڈالر کی دودھ کی مصنوعات درآمد کی ہیں۔ درآمد پر یاد آیا‘ پاکستان جیسے زرعی ملک نے گزشتہ سال صرف غذائی اشیا کی درآمد کی مد میں ساڑھے آٹھ ارب روپے صرف کیے ہیں۔ پونے تین ارب ڈالر تو صرف خوردنی تیل کی امپورٹ پر خرچ ہوئے ہیں۔ ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ گندم‘ ساٹھ کروڑ ڈالر چائے اور دالوں پر ستر کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ ہوئے ہیں۔ روئی کی درآمد پر دو ارب ڈالر کے لگ بھگ جو رقم خرچ ہوئی وہ اس کے علاوہ ہے۔ بھلا باہر سے پاکستانیوں کے بھیجے جانے والے ڈالر کب تک اس گھاٹے کے سودے کو پورا کرتے رہیں گے؟ پاکستان کی زراعت میں بہت زیادہ امکانات ہیں مگر جب تک زراعت کی پالیسی صنعتکار مشیروں کے ہاتھ میں رہے گی ہماری زراعت کے حالات ٹھیک نہیں ہو سکتے۔ حالانکہ یہ کوئی بہت زیادہ مشکل کام نہیں ہے مگر ہم اس کے لیے ابھی تک کوئی قابل عمل لائحہ عمل ہی نہیں بنا سکے۔اس تمام تر بری صورتحال کے درمیان ایک اچھی خبر یہ ہے کہ اس سال کپاس کی فصل گزشتہ سال کے مقابلے میں ان شاء اللہ کافی بہتری ہوگی‘ تفصیل پھر سہی۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker