تجزیےسید مجاہد علیلکھاری

سید مجاہد علی کاتجزیہ:جناب وزیر اعظم ! مثبت تنقید کیسی ہوتی ہے؟

وزیر اعظم عمران خان نے عوام سے براہ راست رابطہ کے پروگرام ’آپ کا وزیر اعظم آپ کے ساتھ‘ میں ایک صحافی کالر کے سوال کا جواب دیتے ہوئے میڈیا کی آزادی کو اہم قرار دیا ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ ’تنقید ملک کے لئے بہت بڑی نعمت ہے‘۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ میڈیا سے نہیں ڈرتے کیوں کہ وہ کرپٹ نہیں ہیں۔ ہمیشہ بدعنوان حکمران میڈیا سے ڈرتے ہیں۔ حکومت کے سوا کوئی قومی یا بین الاقوامی ادارہ پاکستان میں آزادی رائے کی صورت حال سے مطمئن نہیں ہے۔ اس لئے جاننا چاہئے کہ وہ مثبت تنقید کیسی ہوتی ہے جسے ملک کا وزیر اعظم ملک کی بہتری کے لئے اہم قرار دے رہا ہے۔
عمران خان کو اقتدار تک لانے میں جن دو عوامل نے بنیادی کردار ادا کیا ہے ان میں میڈیا بھی شامل ہے۔ یہاں دوسرے فیکٹر کا ذکر فساد خلق خدا کے خوف سے کرنا مناسب نہیں ہے۔ اگرچہ پاکستانی ٹیلی ویژن چینل جب 2014 کے دھرنا کے دوران چند سو لوگوں کو ہزاروں کا مجمع بنا کر پیش کررہے تھے اور عمران خان کی تقریروں کو یوں دکھایا جارہا تھا جیسے پورا پاکستان انہیں سننے کے لئے ٹیلی ویژن اسکرینوں کے سامنے جمع ہوگیا ہے تو وہ بھی کسی ’امپائر‘ کی انگلی کے اشارے پر ہی تھرک رہا تھا۔ یعنی جس ’آزاد و خود مختار ‘میڈیا کے کاندھوں پر سوار ہو کر عمران خان اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے ہیں ، وہ اس وقت بھی مجبور و پابند تھا۔ تاہم کوئی دبی دبی سی خواہش میڈیا اینکرز اور صحافیوں کے دلوں میں موجود رہی ہوگی کہ انصاف اور جمہوریت کے نعرے لگا کر اقتدار تک پہنچنے والا عمران خان جب بالآخر وزیر اعظم بنے گا تو وہ ان کے لئے آسانیاں پیدا کرے گا۔
پاکستانی میڈیا نے کبھی بہت زیادہ ’آزادی ‘ کی خواہش نہیں کی۔ میڈیا کے بہت بڑے حصے نے ہمیشہ سیاست میں اسٹبلشمنٹ کے کردار کو تسلیم کیا ہے اور کسی حد تک اس کا پرچار کرنا اور اس کے لئے رائے عامہ ہموار کرنا اپنا فرض سمجھا ہے۔ تاہم تمام میڈیا ہاؤسز یہ کوشش ضرور کرتے رہے ہیں کہ وہ کچھ ایسے صحافیوں کو بھی پے رول پر رکھیں جن کی ’خود مختار انہ رائے‘ کے بارے میں اختلاف نہ ہو۔ عمران خان کے آزاد میڈیا والے پاکستان میں کسی سرکش آواز کو قبول کرنے سے انکار کیا گیا ہے۔ میڈیا ہاؤسز کو اس بات کا پابند کیا گیا ہے کہ وہ خبریں ہی نہیں کالم اور ٹی وی نشریات میں بھی اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی ناقابل قبول فقرہ، اشارہ یا تبصرہ نہ شائع ہو اور نہ ہی آن ائیر جائے۔
اسی پر اکتفا کرلیا جاتا تو بھی شاید پاکستانی صحافیوں کی بیشتر تنظیمیں صورت حال کو وقت کی مجبوری سمجھ کر قبول کرلیتیں اور یہ توقع کی جاتی کہ جب نئی حکومت کے پاؤں مضبوط ہوجائیں گے اور اسے ہر اس رائے سے خوف محسوس نہیں ہوگا جس میں اختلاف کا کوئی شائبہ بھی ہو یا کسی اپوزیشن لیڈر کی توصیف کا پہلو نکلتا ہو تو بھی شاید پاکستانی میڈیا کو مجبور اور بے بس قرار نہ دیا جاتا۔ عمران خان کی حکومت نے اس بات کو یقینی بنایا ہے کہ کسی ایسے صحافی کو کسی میڈیا ہاؤس میں کام نہ دیاجائے جو سرکاری رائے جسے اب قومی بیانیہ کا نام دیا جاتا ہے، سے سر مو بھی اختلاف رکھتا ہے یا جو وزیر اعظم اور کسی حکومتی عہدیدار کے ’پسندیدہ‘ صحافیوں میں شامل نہیں ہے۔ ہر اس صحافی اور اینکر کو بے روزگار کرنے کا اہتمام کیا گیا ہے جو کسی بھی طرح تحریک انصاف، عمران خان کی سیاسی رائے و حکمت عملی یا اسٹبلشمنٹ کی سیاسی ، معاشی اور سیکورٹی شعبوں میں بلا روک ٹوک اختیار کے بارے میں سوال کرنے کا حوصلہ کرسکتا ہو۔
اب ایسے سارے صحافی اور پاپولر اینکر بیروزگار ہیں ۔ وہ یا تو اس شعبہ سے تائب ہوچکے ہیں یا یو ٹیوب پر چینل چلا کر اور غیر ملکی میڈیا میں کالم لکھ کر اپنا گزارہ کررہے ہیں۔ اس قربان گاہ میں آخری بڑی قربانی حامد میر کی دی گئی ہے جنہیں جیو نیوز نے ایک پرائیویٹ احتجاج میں کی گئی ایک تقریر کے جرم میں پروگرام کرنے سے روک دیا ۔ اس کے ساتھ ہی روزنامہ جنگ میں کالم لکھنے پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔ اس کے باوجود عمران خان آزاد میڈیا کی ضروت و حاجت کو ملک کے لئے اہم و ضروری قرار دے رہے ہیں۔ عمران خان چونکہ سچ بولنے کے داعی ہیں اور ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ وہ کسی سے نہیں ڈرتے (اگر یہ فقرہ سنا ہؤا لگے تو اس میں عمران خان کی اصابت رائے کا کوئی قصور نہیں ہے) اس لئے ان سے پوچھنا چاہئے کہ وہ کون سا طریقہ ہے جس پر عمل کرتے ہوئے، صحافیوں کو بیروزگار نہ ہونا پڑے اور وہ کسی حد تک اپنی رائے کا اظہار بھی کرتے رہیں۔
اگر حامد میر جیسےصحافی پر بھی ملک دشمنی کی پھبتیاں کسی جائیں گی تو عمران خان کو اس بات کا جواب عطا کرنا چاہئے کہ کیا اس ممتاز صحافی کے بارے میں ان کی اس وقت بھی یہی رائے تھی جب وہ ان کے پروگرام کے تقریباً مستقل مہمان ہؤا کرتے تھے؟ کیا اسی دوران دنیا کی تاریخ و جغرافیہ کے علاوہ ثقافت و تہذیب اور سماجی رویوں کے بارے میں مکمل علم رکھنے والے عمران خان کو اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ شخص ’ملک دشمن ایجنڈے‘ پر گامزن ہے۔ یا حکومت پر یہ انکشاف اس وقت ہؤا جب حامد میر نے صحافیوں پر حملے کرنے والے اداروں سے درمندانہ اپیل کی تھی کہ اگر یہ سلسلہ بند نہ ہؤا تو’ ہم بھی ایسے راز بتانے پر مجبور ہوں گے جن کا بیان کسی کے لئے خوشگوار نہیں ہوگا کیوں کہ ہم کسی کے گھر میں گھس کر تو وار نہیں کرسکتے‘۔ وزیر اطلاعات، حکومت اور اس کے ادارے تو اس مؤقف میں پناہ لیتے ہیں کہ ان کا حامد میر یا دیگر صحافیوں کی ’بیروزگاری‘ سے کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ ’ملک میں میڈیا آزاد ہے اور اپنےفیصلے خود کرنے کا مجاز ہے‘۔ تاہم ایک تو عمران خان سچے ہونے کے دعویدار ہیں، دوسرے اپنی دور بینی کی بدولت ضرور جانتے ہوں گے کہ جس میڈیا ہاؤس کا مالک میر شکیل الرحمان کئی ماہ نیب کے ’حبس بے جا‘ میں رہ کر آیا ہو ، وہ کس قدر خود مختاری سے فیصلے کرسکتا ہے۔ لیکن شاید عمران خان کی ’حق پرستی‘ بھی اس مرحلے پر لمحہ بھر کے لئے ایمرجنسی رخصت پر چلی جائے۔
میڈیا ہاؤسز کے مالکان کو پابند اور سرکاری اطاعت گزار بنانے کے لئے کیبل آپریٹرز اور اخباروں کی تقسیم کے نظام کو استعمال کرنے کے علاوہ سرکاری اشتہارات کی طاقت کو استعمال کیا گیا ہے۔ اسی دباؤ کی وجہ سے میڈیا ہاؤسز نے جن میں سے بیشتر مالکان صرف کاروباری منفعت کے لئے کام کرتے ہیں ’سیلف سنسر شپ‘ جیسی اصطلاح کا بے دریغ استعمال کیا ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ’سرکش‘ صحافیوں و اینکرز کو فارغ کرنے کے علاوہ کسی بھی وقت کسی بھی کالم کو کسی ایک غلط لفظ یا فقرے کی وجہ سے ناقابل اشاعت قرار دیا جاتا ہے۔ یا ایسا کوئی فقرہ حذف کرکے پورے مضمون کو بے معنی کردیا جاتا ہے تاکہ سرکار، میڈیا کو ’ذمہ دار‘ سمجھنے لگے۔ اسی طرح کسی ٹیلی ویژن پروگرام میں کسی غلط مہمان کو مدعو کرنے کی پاداش میں پروگرام براڈ کاسٹ کرنے سے انکار کردیا جاتا ہے۔ اس کے باوجود ملک کا وزیر اعظم اس بات پر ناراض ہے کہ میڈیا اس کی حکومت کے خلاف پروپیگنڈا کرتا ہے کیوں کہ یہی دشمن ملک بھارت کا ایجنڈا ہے۔
حکومت نمایاں اینکرز یا کالم نگاروں پر پابندیاں عائد کرواتے ہوئے اگر عامل صحافیوں کی فلاح و بہبود کے لئے اقدام کرسکتی۔ اور اس بات کو یقینی بنایا جاتا کہ اپنے کارکنوں کو بروقت تنخواہ ادا کریں یا کم از کم تنخواہ کی حد مقرر کی جائے اور صحافیوں کو ان کی صلاحیت و تجربہ کی بنیاد پر مشاہرہ دیا جائے، تو بھی پاکستانی میڈیا میں موجودہ حکومت کی خیر سگالی کے احساسات موجود رہتے۔ حکومت نے میڈیا کو مالکان کے ذریعے کنٹرول کرنے کی دھن میں مالکان کو اپنے ملازمین کے ساتھ من چاہا سلوک کرنے کی آزادی دے رکھی ہے۔ ملک کے معتبر اور خوش حال میڈیا ہاؤسز بھی کئی کئی ماہ اپنے کارکنوں کو تنخواہ نہیں دیتے اور انہیں سخت محنت کرنے اور بے یقینی میں خدمات انجام دینے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ یعنی حکومت نے ہر سطح پر صحافت سے جڑے لوگوں کو بےجا ظلم و تعصب کا نشانہ بنایا ہے تاکہ ’مثبت تنقید‘ کا مقصد حاصل کیا جاسکے۔
معاملہ صرف حکومت کے لئے قابل قبول خبر یا رائے کی اشاعت تک محدود نہیں ہے بلکہ کسی بھی میڈیا پر کسی بھی طرح کسی ایسے مؤقف کا اظہار ناپسندیدہ قرار پایا ہے جو حکومت وقت اور اس کے پشت پناہ اداروں کے لئے قابل قبول نہیں ہے۔ حامد میر کو ایک احتجاج میں تقریر کرنے پر پروگرام اور کالم سے محروم کرنا اس کی نمایاں مثال ہے۔ اس کے علاوہ متعدد صحافیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا جاچکا ہے ۔ پاکستان اس وقت صحافیوں کے لئے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں شامل ہے۔ اس کی وجہ ملک میں جاری کوئی جنگی صورت حال نہیں ہے بلکہ اس کا سبب یہ ہے کہ ملکی ادارے کسی ایسی آوز کو برداشت نہیں کرتے جو ایک مخصوص بیانیہ سے ہٹ کر یا اس کے برعکس رائے سامنے لانا ضروری سمجھتے ہوں۔ ایسے صحافیوں پر حملے کئے جاتے ہیں یاانہیں اغوا کرکے ’مثبت تنقید ‘ کا طریقہ سکھایا جاتا ہے۔
وزیر اعظم آزاد میڈیا کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہیں لیکن میڈیا کو فوج، عدالتوں، سرکاری عہدیداروں اور حکمران پارٹی کے ہونہاروں کے بارے میں معلومات عام کرنے اور ان کا تجزیہ کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔ اگر وزیر اعظم ملک میں ایسا میڈیا چاہتے ہیں جس میں صحافی کلرک اور ایڈیٹر سرکار کا نمک خوار ہوگا تو یا تو آزادی کے معنی تبدیل کرنا پڑیں گے یا یہ ماننا پڑے گا کہ اس وقت پاکستان میں گھٹن کا ماحول ہے اور اپنی رائے کا اظہار کرنے والے کے لئے جینا محال ہے۔
عمران خان جب تنقید کو نعمت قرار دیتے ہیں تو شاید ان کا مطلب ’کاسہ لیسی‘ ہوگا۔ کیوں کہ خوشامد اور سرکار نواز خبروں و تبصروں کی مواصلت کو آزاد نہیں فیک میڈیا کہا جاتا ہے۔ خواہ اختیار پر قابض لوگ اپنے مقبول بیانیہ کے زور پر اس آزادی کو جعل سازی کے نام سے موسوم کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔
(بشکریہ: کاروان۔۔۔ناروے)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker