خالد مسعود خانکالملکھاری

خالد مسعود خان کا کالم:زراعت‘ امریکہ سے لے کر پاکستان تک

ریاست منیسوٹا کا ذکر ہوا تو ایک دوست کہنے لگا: ہم اسے امریکہ کا ڈیپ فریزر کہتے ہیں۔ یہ ریاست شمال میں اوپر کینیڈا سے جڑی ہوئی ہے اور سردیوں میں سخت سرد ہوتی ہے۔ جب میں منیسوٹا کے سب سے بڑے شہر منیاپولس پہنچا تو صرف دو دن پہلے اٹھارہ انچ برف پڑی تھی لیکن ساری مرکزی اور شہر کی معروف سڑکوں پر برف کا نام و نشان نہیں تھا۔ ساری برف اسی دن برف ہٹانے والی گاڑیوں نے صاف کردی تھی۔ برفباری اور اس کی صفائی اب اگلے کئی ماہ چلے گی۔ نہ قدرت کا کارخانہ برف بنانا اور اسے زمین پر بکھیرنا بند کرے گا اورنہ ہی انسان اس کوصاف کرتے ہوئے ہمت ہارے گا یا کوتاہی کرے گا۔ قدرت اور انسان کے درمیان یہ زورآزمائی چلتی رہے گی۔ قدرت سے جنگ تونہیں ہوسکتی مگر اشرف المخلوقات اللہ کی طرف سے ودیعت کی گئی صلاحیتوں کوبروئے کار لاتے ہوتے قدرتی آفات سے نبردآزما بھی رہتاہے اوران کا قابل عمل حل بھی نکالتا رہتا ہے۔ مین سڑکیں تواسی روز ہی کھل گئی تھیں۔ تاہم چھوٹی سڑکوں سے برف ہٹانے کاکام جاری تھا۔ ایک ٹرک نماگاڑی سڑک پر گری برف کوسمیٹ کرایک بھونپونما پائپ کی مدد سے سڑک کے کنارے پرویسے ہی پھینک رہی تھی جیسے ہمارے ہاں بھلے دنوں میں میونسپلٹی کی گاڑی پانی کا چھڑکاؤکیا کرتی تھی۔ ہمارے ہاں صرف ایک قابل ذکر سڑک لوئرٹوپہ، مری، نتھیاگلی ہے جوہم سے نہیں سنبھالی جاسکی۔
منیسوٹا جغرافیائی حساب سے امریکہ کا مڈ ویسٹ ہے۔ یہ بارہ ریاستوں پر مشتمل ریجن ہے جس میں ریاست الی نوائے، آئیووا، کنساس، مشی گن، مسوری، نبراسکا، نارتھ ڈکوٹا، سائوتھ ڈکوٹا، اوہائیو، وسکانسن اور منیسوٹا شامل ہیں۔ میری بیٹی اسی مڈویسٹ کی ریاست اوہائیو میں رہائش پذیرہے جبکہ میں مڈویسٹ کی سرد ریاست منیسوٹا میں تھا۔ ویسے تواوہائیو بھی سردعلاقہ شمار ہوتا ہے اورسردی اتنی شدید ہوتی ہے کہ پیریزبرگ کی بغل میں بہنے والا خاصا بڑا دریا مامی تھوڑے عرصے کیلئے بالکل جم جاتا ہے۔ دو دن پہلے تک تو یہ دریا معمول کے مطابق بہہ رہا تھا لیکن اگلے ہفتے تک یقینا جمنا شروع ہو جائے گا؛ تاہم میناپولس جاتے ہوئے نیچے نظر دوڑائی تو ہرطرف برف جمی ہوئی تھی۔ دریا، تالاب اور جھیلیں مکمل یا جزوی طور پر جم چکی تھیں۔ زمین کا بیشتر حصہ سفید برف کی چادر تلے چھپ چکا تھا۔ ابھی سردی کا آغاز تھا اور اسے کم از کم اگلے تین ماہ اسی طرح چلنا ہے۔ اس دوران جنوری تا اپریل چار ماہ ماہانہ کم ازکم اوسط درجہ حرارت منفی پندرہ سے منفی دو ڈگری سینٹی گریڈ تک رہتا ہے۔ دو فروری 1996 کو یہاں پر کم از کم درجہ حرارت منفی ساٹھ ڈگری سینٹی گریڈ ریکارڈ کیا گیا تھا۔ اس سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ سردیوں میں کیا حال ہوتا ہوگا۔ ایسے میں یہاں زراعت کیسے چلتی ہے؟
امریکہ میں مقیم میرے ایک مستقل قاری عظمت علی نے میرے امریکہ آنے کے بعد اپنے ایک کمنٹ میں مجھ سے کہاکہ میں یہاں مڈویسٹ کے امریکی کسان سے ملوں اور اس سے امریکی زراعت کے بارے میں چشم کشا حقائق سے آگاہی حاصل کروں۔ میری بدقسمتی سمجھیے کہ باوجود کوشش کے مڈویسٹ کے کسی امریکی کاشتکار سے ملاقات نہ ہو سکی؛ تاہم میناپولس میں ایک دوست کے توسط سے ایک ایسے شخص سے ملاقات ہو گئی جو اس علاقے کی زراعت کے بارے میں کسی حد تک آگاہی رکھتا تھا۔ میں نے اتنی سردی میں عملی زراعت اور اسے درپیش مشکلات کے بارے میں اس سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس علاقے میں لوگ منفی چالیس درجے سینٹی گریڈ پر کاشتکاری بھی کرتے ہیں اور قدرت کی موسمی سختی کو اپنے لئے مثبت بھی بناتے ہیں۔
وہ بتانے لگاکہ امریکہ میں زمین کا پی ایچ لیول پاکستان کی نسبت بہت ہی بہتر ہے اور یہی حال نامیاتی مادوں کا ہے۔ اگر پی ایچ لیول زیادہ ہوتو اسے کم کرنے کیلئے سلفر کے مختلف مرکبات اور تیزاب استعمال ہوتا ہے اور اگر یہ لیول کم ہو تو لائم کی مصنوعات استعمال کی جاتی ہیں تاکہ اس کی تیزابیت کم ہو۔ منیسوٹا کی زمین میں پی ایچ لیول کم ہے اس لئے الکلی کا استعمال کیا جاتا ہے؛ تاہم بیشتر امریکی کسانوں کی طرح منیسوٹا کے کاشتکار بھی اپنی زمین کے Organic Matter یعنی نامیاتی مادوں کی بڑھوتری کیلئے مصنوعی مادوں کے بجائے قدرتی ذرائع سے ان میں اضافہ کرنے کی پالیسی اختیار کرتے ہیں۔ اس کیلئے وہ Cover Crop کا طریقہ اپناتے ہیں۔ کور کراپ سے مراد ایسی فصل ہے جو وہ پکنے پر کاٹنے یا چنائی کرنے کے بجائے اسے Rotavate کرکے یعنی کاٹ پیٹ کر برابر کر دیتے ہیں اور یہ سارا مادہ زمین میں ملا دیا جاتا ہے۔ یہ عموماً کیش کراپ یعنی نقدآور فصل کے بعد کاشت کی جاتی ہے اور انتہائی سرد موسم والی ریاستوں میں جیسے منیسوٹا وغیرہ میں کور کراپ برفباری کے موسم میں کاشت کی جاتی ہے اس فصل کو روٹاویٹ کرکے زمین میں ملا دینے سے جہاں زمین میں نامیاتی مادوں کی کمی پوری ہو جاتی ہے وہیں زمین کے کٹائو، زمین کی زرخیزی، اس کا معیار، زیر زمین پانی، جھاڑ جھنکاڑ میں کمی، ضرر رساں کیڑوں کی تلفی، بیماریوں کے خلاف قوت مدافعت اور خطے کے ایگروایکو سسٹم میں ناقابل یقین بہتری پیدا ہوتی ہے۔
یہ بتانے کے بعد وہ مجھ سے پوچھنے لگاکہ پاکستان میں آخر کاشتکار یہ سب کچھ کیوں نہیں کرتا؟ میں نے ہنس کر اسے کہا کہ ہمارے وہ سارے ماہرینِ زراعت جو یورپ اور امریکہ وغیرہ سے اعلیٰ تعلیم بشمول ڈاکٹریٹ وغیرہ کرکے آتے ہیں ان کا بھی یہی مسئلہ ہے کہ وہ پاکستانی زراعت کو پاکستان کے حقیقی اور معروضی حالات میں درست کرنے کے بجائے اپنے اس تجربے اور تعلیم کو بروئے کار لانا چاہتے ہیں جو پاکستان کے زرعی تناظر میں قابل عمل ہی نہیں۔ دراصل ہمیں Indigenous research کی ضرورت ہے اور اسی پر کوئی توجہ نہیں۔ مغربی تحقیق ہمارے لئے مشعل راہ تو ہو سکتی ہے مگر مکھی پر مکھی مارنے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا۔ ہمارے مسائل بہت مختلف ہیں۔ پاکستان میں چھوٹے زمیندار کیلئے کاشتکاری بمشکل ‘گزارے کے لائق‘ والا کام ہے۔ اسے تو محنت کے بعد فی ایکڑ اتنے پیسے بچتے ہیں کہ اگر اپنی زمین ٹھیکے پر دے کر کسی اور کے کھیت میں کام کرے تو اسے زیادہ پیسے بچ جائیں گے۔ چھوٹے زمیندار اور کاشتکار کی تو اپنی کھیت میں کی جانے والی محنت اور مشقت کے عوضانے کے علاوہ صرف عزت نفس بچتی ہے کہ وہ اپنا شملہ اونچا کر کے یہ کہہ سکے کہ وہ اپنی زمین کاشت کرتا ہے‘ کسی کی ملازمت نہیں کرتا۔
بھلا ایسے میں وہ زمین کو کس طرح فارغ چھوڑ سکتا ہے؟ ہاں اسے اپنی کیش کراپ یعنی نقدآور فصل کے اچھے پیسے مل جائیں (جو خوش قسمتی سے آج کل مل رہے ہیں)، زرعی مداخل سستے میسر ہو جائیں، مارکیٹ میں اس کی فصل کا استحصال بند ہو جائے اور حکومتی سبسڈی اسے براہ راست مل جائے تو نہ صرف کاشتکار کی حالت بہتر ہوسکتی ہے بلکہ ملکی زرعی پیداوار میں ناقابل یقین اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ مگر میں خود اپنے آپ پر حیران ہوں کہ یہ ساری باتیں کس کیلئے اور کیوں لکھ رہا ہوں؟ اربابِ اختیار میں سے اول تو کوئی پڑھتا نہیں۔ پڑھ لے تو سمجھتا نہیں اور سمجھ لے تو اس پر عمل نہیں کرتا۔
عام آدمی کو یہ بات سمجھانا شاید زیادہ آسان ہے کہ پوری دنیا میں کہیں بھی زراعت حکومتی مدد، تعاون اور سبسڈی کے بغیر نہ تو چل رہی ہے اور نہ ہی چل سکتی ہے‘ لیکن حکومت کو یہ بات سمجھانا بہرحال بہت ہی مشکل ہے۔
(بشکریہ: روزنامہ دنیا)

فیس بک کمینٹ

متعلقہ تحریریں

Adblock Detected

Please consider supporting us by disabling your ad blocker